عرب دنیا میں روسی فوج کی موجودگی، روسی ٹی وی نے غلطی سے ایسی ویڈیو چلادی کہ اہم ترین راز افشاں کردیا، روس کو سنگین ترین مشکل میں پھنسادیا

عرب دنیا میں روسی فوج کی موجودگی، روسی ٹی وی نے غلطی سے ایسی ویڈیو چلادی کہ ...
عرب دنیا میں روسی فوج کی موجودگی، روسی ٹی وی نے غلطی سے ایسی ویڈیو چلادی کہ اہم ترین راز افشاں کردیا، روس کو سنگین ترین مشکل میں پھنسادیا

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جاچکا ہے مگر روس کے مخالفین الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اس کی افواج شام میں کلسٹر بموں کا استعمال کررہی ہیں۔ا گرچہ روسی حکومت کی طرف سے ان الزامات کی ہمیشہ سختی سے تردید کی گئی ہے لیکن حال ہی میں روسی ٹی وی RT کی ایک رپورٹ میں وہ ثبوت دنیا کے سامنے آگئے کہ جن کی روس اب تک تردید کرتا چلا آرہا تھا۔

ویب سائٹ meduza.ioکی رپورٹ کے مطابق RT ٹی وی چینل نے روسی وزیردفاع کے شام میں خمی میم ائیربیس کے 18 جون کے دورے کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی۔ اس رپورٹ میں متعدد جنگی جہاز بھی ائیربیس پر کھڑے دکھائی دئیے، جن پر RBK-500 ZAB 2.5SM کلسٹر بم نصب تھے۔ یہ دعوٰی مغربی تحقیقاتی اداروں اور انٹیلی جنس ذرائع کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

روس نے امریکی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر بمباری کردی ،نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا

شام اور یوکرین میں روسی جنگی کارروائیوں پر نظر رکھنے والے ادارے کانفلکٹ انٹیلی جنس ٹیم کا کہنا ہے کہ شامی ائیربیس پر موجود روسی جنگی طیاروں پر نصب ہتھیار کلسٹر بم ہی تھے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ RTٹی وی چینل نے بعدازاں ان تصاویر کو رپورٹ سے حذف کردیا اور بعد میں جب بھی یہ رپورٹ چلائی گئی اس میں کلسٹر بموں کی تصاویر شامل نہیں تھیں۔

واضح رہے کہ روس کے مخالف مغربی ممالک کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ، جو کہ دسمبر 2015ءمیں شائع ہوئی، میں بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ روس شام میں کلسٹر بموں کا استعمال کررہا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ شام میں خمی میم کے علاقے میں کوئی ائیربیس روس کے زیر استعمال نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے کلسٹر بموں کے استعمال کو 2010ءمیں ممنوع قرار دیا گیا، لیکن یہ ممنوعہ اسلحہ بنانے والے سب سے بڑے ممالک روس، امریکا اور چین نے اس عالمی کنونشن پر تاحال دستخط نہیں کئے۔

مزید : بین الاقوامی