انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ختم نہ کیا جائے

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ختم نہ کیا جائے
 انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ختم نہ کیا جائے

  

بزنس ایسوسی ایشنز، چیمبرز، صنعتکاروں اور انجینئرنگ سے دلچسپی رکھنے والوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو تحلیل کرنے کا منصوبہ ترک کردے، کیونکہ پاکستان میں اس ادارے نے انجینئرنگ کی ترقی کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان آٹو موٹو مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن، پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹو پارٹس اینڈ ایکسریز مینو فیکچررز، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اعلیٰ عہدیداروں نے حکومت کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ختم کرنے کا ارادہ ملتوی نہیں، بلکہ مکمل ختم کردے۔ کوئی جواز نہیں ہے کہ چند نااہل کارکنوں کی سزا پاکستان کے ایک ایسے اہم ادارے کو دی جائے، جس نے پاکستان کی انجینئرنگ انڈسٹری کی ترقی کے لئے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کا ادارہ 1995ء میں قائم کیا گیا تھا۔ پلاننگ کمیشن کے تحت اسے رکھا گیا تھا، اس زمانے میں انجینئرنگ انڈسٹری کے زیادہ پرزے بیرون پاکستان سے کثیر زرمبادلہ خرچ کرکے منگوائے جاتے تھے، جبکہ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ پاکستان میں انجینئرنگ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرے، ڈیلیشن پروگرام پر عمل درآمد اور بے روز گاری ختم کرنے کے لئے انجینئرنگ انڈسٹری کی بھرپور مدد کی جائے۔ نیز انجینئرنگ انڈسٹری کی مصنوعات کی ایکسپورٹ میں اضافہ کرنے کے لئے ایسے اقدام تجویز کئے جائیں، جن سے پاکستان میں انجینئرنگ کے اداروں کو مستحکم کیا جاسکے، چنانچہ اپنے چارٹر کے مطابق ادارے نے دن رات کام کرکے پاکستان میں انجینئرنگ انڈسٹری کو مضبوط کرنا شروع کیا اور ڈیلیشن پروگرام کے تحت چھوٹے بڑے پرزے گھریلو سطح پر بھی تیار ہونے شروع ہوگئے، جس سے لاکھوں افراد کو روز گار کے مواقع ملے۔ 2004ء میں اس ادارے کی عمدہ کارکردگی دیکھتے ہوئے تجویز پیش کی گئی کہ ادارے کو اتھارٹی بنادیا جائے، لیکن بوجوہ اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اس اہم ادارے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس میں وسعت دی گئی اور ملازمین کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، مثبت نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹریکٹر سازی کی صنعت میں پاکستان نے پچانوے فیصد ڈیلیشن تک کامیابی حاصل کرلی۔آٹو موبیل انڈسٹری میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی، جس سے سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اس ادارے کی وجہ سے حکومت اور انجینئرنگ انڈسٹری کے درمیان بہت اچھا رابطہ قائم ہوگیا، جس نے انجینئرنگ انڈسٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن بعد میں اس کے انجینئرنگ انڈسٹری کے لئے اہم خدمات انجام دینے پر فیصلہ کیا گیا کہ اسے منسٹری آف انڈسٹریز کے ماتحت کر دیا جا سکے۔

گزشتہ دنوں اس ادارے کے چند افراد کے بارے میں شکایات کا تذکرہ ہوا تو ضرورت اس امر کی تھی کہ پوری تحقیق کی جاتی اور ان کے خلاف تحقیق کر کے مناسب سزا دی جاتی، لیکن اس کی جگہ ایک سمری تیار کی گئی کہ اس ادارے کو تحلیل کردیا جائے۔ اس بات کا ادارے کو علم اس وقت ہوا، جب نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری کے لئے سمری بھیجی گئی تو جواب ملا کہ ہم تو اس ادارے کو تحلیل کررہے ہیں اور ایک دوسری سمری ادارے کو وصول ہوئی کہ ہمیں بتایا جائے کہ اس ادارے کو کیسے تحلیل کیا جائے، اس ادارے کے امورکس ادارے کو دیئے جائیں اور سرکاری ملازمین کو کہاں کہاں کھپایا جائے،اب قدرتی بات ہے کہ جن اداروں کا انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ سے واسطہ ہے وہ حیران ہیں کہ اس اہم ادارے کو کیسے ختم ہونے دیں؟

اس ضمن میں یونائٹیڈ بزنس گروپ اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر افتخار علی ملک نے بتایا کہ اس اہم ادارے کو ختم نہیں ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو قدم اٹھانا چاہئے اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کو بتانا چاہئے کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبہ کو ترقی دینے میں کیا کردار ہے۔ اس ادارے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2007-12ء اور 2016-21ء تک کی آٹو پالیسی اس ادارے نے بنا کر دی ہے، انجینئرنگ مصنوعات کی دنیا بھر میں بہت بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان تھوڑی سی محنت کے ساتھ شعبہ میں اربوں ڈالر کی انجینئرنگ مصنوعات برآمد کرسکتا ہے۔ مجھے خود دوران تعلیم جرمنی میں انجینئرنگ کے اعلیٰ اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہر کسی سے جب مشورہ لیا کہ پاکستان معاشی ترقی کیسے کر سکتا ہے تو بڑے بڑے صنعتکاروں اور دانشوروں نے ایک ہی مشورہ دیا کہ پاکستان اپنی انجینئرنگ انڈسٹری کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرے تو نہ صرف بے روز گاری ختم ہو جائے گا، بلکہ پیداواری صلاحیتوں میں بھی زبردست اضافہ ہوجائے گی، بلکہ پیداواری صلاحیتوں میں بھی زبردست اضافہ ہو جائے گا، جس سے پاکستان میں خوشحالی آئے گی، کیونکہ سوئی سے لے کر جہاز تک ہر جگہ انجینئرنگ پر دارومدار ہے۔ اس لئے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو ختم کرنے کا فیصلہ واپس لے کر اسے اتھارٹی بنایا جائے۔

مزید : کالم