پانی کا بحران کیسے حل ہو گا؟

پانی کا بحران کیسے حل ہو گا؟
 پانی کا بحران کیسے حل ہو گا؟

  

مملکتِ خداداد پاکستان میں پانی کی صورتِ حال خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ سطح آب خاصی نیچے چلی گئی ہے اور واٹر بیڈ کے حوالے سے زرعی ماہرین کی تشویش میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان جو بنیادی طور پر ایک زرعی مُلک ہے اور آمدن کا بیشتر حصہ زراعت سے ہی حاصل ہوتا ہے اِس لئے پانی کے بغیر تو ہمارے ہاں معاشی استحکام کا تصور ہی عبث ہے۔ ہمارے آبی ماہرین اِس حوالے سے خاصی تگ و دو تو کر رہے ہیں، لیکن پانی کے وافر ذخائر کی عدم موجودگی راستے میں ہر مرتبہ رکاوٹ بن جاتی ہے۔ بارشوں کے حوالے سے ہمارا مُلک بڑا خوش قسمت ہے،لیکن ہم اضافی پانی ذخیرہ کرنے کے بجائے اُسے ضائع کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک پانی کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش نہیں کی گئی کہ ہم اِس قدرتی عطیے کو کس طرح محفوظ بنائیں۔حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سیاسی معاملات میں اُلجھے رہنے کے باعث اِس طرح کے اہم ایشوز پر توجہ نہیں دے پاتے اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ پانی جیسے معاملے کو اہم ایشو سمجھا ہی نہیں جاتا۔

انڈس ریور معاہدے کے باوجود بھارت ہمارا پانی روک رہا ہے۔اول تو اِس پر ہماری طرف سے کوئی بڑا احتجاج کیا ہی نہیں جاتا اور اگر کبھی کبھار کر لیا جائے تو اس پر ہمسایہ مُلک کان نہیں دھرتا۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو نان ایشوز میں الجھائے رکھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم ابھی تک نان ایشوز کی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گرمی کا زور بڑھتا ہے تو پانی کا مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ تو ہم پاکستانیوں کے لئے مسلسل دردِ سر بنی ہوئی ہے اور اس کی وجہ بھی پانی کی کمیابی بتائی جاتی ہے۔ پچھلے دِنوں جب گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا تو زندہ دِلان لاہور بجلی کے ساتھ ساتھ پانی کی عدم دستیابی کا رونا روتے دکھائی دیئے۔ دریاؤں کی صورتِ حال بھی زیادہ اچھی نہیں، اکثر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ ناکافی ہے کئی تو اکثر مقامات پر پانی سے خالی دکھائی دیتے ہیں اس کی بڑی وجہ بھارت کی آبی جارحیت ہے ہمارا پانی روک کر معاہدے کی خلاف ورزی بھی کی جا رہی ہے اور حقِ ہمسائیگی کی مخالفت بھی۔آب نوشی کا معاملہ تو اِس سے بھی دگر گوں ہے مُلک کے بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ پینے کے صاف پانی کو ترستے ہیں۔ سندھ کے دُور دراز علاقوں میں تو پانی کے حوالے سے قحط کا سا سماں ہے وہاں تو پینے کو گندا پانی بھی مل جائے تو مقامی باشندے خدا کا شُکر ادا کرتے ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں پینے کے صاف پانی کی دستیابی مشکل سے ہی ہوتی ہے، مخصوص اوقات میں سرکاری پانی میسر آتا ہے اور بیشتر اوقات نل پانی کی بجائے محض ہوا دے رہے ہوتے ہیں۔

حکمران پانامہ اور جے آئی ٹی کے الجھاؤ سے نکلیں تو اِس طرف توجہ دیں اُنہیں اس قسم کے بکھیڑوں سے نجات ملے تو پانی جیسے قومی مسئلے کو وقت دیں۔ سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم غیر اہم معاملات میں پھنس جاتے ہیں اور ہم معاملات پسِ پشت ڈال کر خوابِ خرگوش میں رہتے ہیں۔ اِس حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ من حیث القوم اپنی ذمہ داریوں پر توجہ نہیں دے پا رہے۔ پانی جو نعمتِ خداوندی ہے اُسے ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔بطورِ شہری ہم اپنے حقوق کے لئے ہر طرح کی تگ و دو کرتے ہیں،لیکن اپنے فرائض سے چشم پوشی معمول بنتا جا رہا ہے ہمیں اس طرف بھی دھیان دینا ہو گا اور پانی صرف بڑے بڑے آبی ذخائر (ڈیمز) میں ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے استعمال کے پانی کو بھی محفوظ بنائیں۔ امریکہ اور برطانیہ میں غیر سکونتی علاقوں کے اندر جو گہرے مقامات موجود ہوتے ہیں وہاں چھوٹی چھوٹی جھیلیں بنا کر پانی کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں قدرتی طور پر پہاڑی علاقوں میں گہرے کھڈے (پیالے) موجود ہیں جہاں پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، بارشی پانی کو محفوظ کرنے کا ہمارے ہاں کوئی طریقہ نہیں اس طرف بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضلعی حکومتیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور بڑے شہروں کے گردو نواح میں چھوٹی چھوٹی جھیلیں بنا کر پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال جاری رہی تو چند سال بعد ہم پانی کی بوند بوند کو ترس جائیں گے اور سطح آب اِس حد تک نیچے چلی جائے گی کہ حصولِ آب ناممکن ہو جائے گا اِس سے پہلے کہ صورتِ حال قابو سے باہر ہو جائے ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔

مزید : کالم