کراچی سنٹرل جیل کا طلسم ہوشربا

کراچی سنٹرل جیل کا طلسم ہوشربا

کراچی سنٹرل جیل کی تلاشی کے دوران ایک ایسا طلسم ہوشربا سامنے آیا ہے کہ لگتا ہی نہیں یہ کوئی جیل خانہ ہے، چھاپے کے دوران جیل سے سینکڑوں ٹی وی سیٹ، موبائل فون، فریج، ڈیپ فریزر، مائیکرو ویو اوون، گیس سلنڈر اور56ٹن راشن برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ واٹر ڈسپنسر، ایئر کولر، ڈی وی ڈی پلیئر، سپیکر، فرنیچر اور ہیٹر وغیرہ بھی ملے ہیں، کتابوں میں منشیات چھپائی گئی تھیں، سامان میں اینٹی جیمرز بھی برآمد ہوئے ہیں، جیل میں نجی باورچی خانے بھی بنائے گئے تھے، بیرکوں کو کئی گھنٹوں تک کھنگالا گیا، سات ہزار قیدیوں کی جامہ تلاشی لی گئی اس آپریشن کی ضرورت جیل سے دو دہشت گردوں کے فرار کے بعد محسوس کی گئی، جنہیں سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور کے بقول عملے نے فرار کرایا، بارہ اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ سندھ میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک نہیں ہے، نیٹ ورک نہ ہوتا تو سیہون شریف،جیکب آباد اور شکار پور جیسے واقعات رونما نہ ہوتے۔ سنٹرل جیل میں تلاشی کی ضرورت اِس لئے محسوس کی گئی کہ یہاں سے دو دہشت گرد فرار ہو گئے تھے، فرض کریں یہ واقعہ نہ ہوتا اور تلاشی کی نوبت نہ آتی، تو نہ معلوم کتنے عرصے تک جیل کے اندر اس طرح کی سہولتیں جاری رہتیں، جیلوں کے اندر ایک موبائل فون لے جانے کی ممانعت ہے اور جن قیدیوں کی سخت نگرانی کی جاتی ہے اگر اُن کے کسی ملاقاتی سے بھی فون برآمد ہو جائے تو اس کی کمبختی آ جاتی ہے،لیکن نہ صرف سینکڑوں موبائل فون جیل کے اندر سے برآمد ہوئے ہیں، بلکہ ایسا ایسا سامان پایا گیا ہے جو عملے کی معاونت کے بغیر جیل میں رکھا ہی نہیں جا سکتا، ٹیلی ویژن ، ڈیپ فریزر، فریج، واٹر ڈسپنسر وغیرہ اگر جگہ جگہ پڑے ہوئے پائے گئے ہیں تو ظاہر ہے جیل کا عملہ اس سب کچھ سے صرفِ نظر کر رہا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ یہ ساری سہولتیں جن لوگوں نے حاصل کر رکھی تھیں وہ جیل کے عملے کی خدمت بھی ضرور کرتے ہوں گے، کیونکہ یہ عملہ تو قیدیوں کے ساتھ اُن کے لواحقین کی ملاقات مفت نہیں کراتا جو کسی نہ کسی طرح قیدیوں کا حق بھی بنتا ہے اور اگر ملاقات ہوتی ہے تو اس انداز میں کہ درمیان دیوار حائل ہوتی ہے اور اونچی آواز میں بول کر ملاقاتیوں کو اپنی بات کرنا پڑتی ہے۔ یہ تو طے ہے کہ یہ سب کچھ جیل کے عملے کی ملی بھگت کے ساتھ ہو رہا تھا اور وزیر داخلہ سندھ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے تو اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک سارا ہی عملہ اس میں ملوث ہو گا اور اگر کوئی اس گینگ سے باہر بھی ہو گا تو اس نقار خانے میں ایسے کسی طوطی کی آواز کون سنتا ہو گا۔

جو سازو سامان برآمد ہوئے اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جیل کی اونچی اونچی دیواروں کے اندر مختلف جرائم میں قید لوگوں کی زندگی وہ نہیں ہے جس کا تصور باہر کے لوگ رکھتے ہیں بلکہ یہ لوگ پیسہ خرچ کر کے معمول کی وہی زندگی گزار رہے ہیں جیسی وہ اپنے گھروں میں گزار رہے تھے۔ کون سی سہولت ہے جو ان قیدیوں کے پاس میسر نہیں۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں کہ قیدی عملے کے ساتھ مل کر باہر بھی نکل آتے ہوں اور گھوم پھر کر واپس چلے جاتے ہوں، کہا جاتا ہے کہ بعض قیدی جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل رہی ہے اور اب تک ہے جیل کے اندر بیٹھ کر اپنے جرائم کا نیٹ ورک بھی چلاتے ہیں وہیں بیٹھ کر بھتے کے پیغامات بھیجتے ہیں، وصولیاں کرتے ہیں اور اگر حسبِ خواہش بھتہ نہ ملے تو جیل کے اندر اندر بیٹھے انکار کرنے والوں کو قتل یا غائب کرا دیتے ہیں۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں اور انہوں نے جیلوں کے اندر بھی اپنی دُنیا جیلروں کے تعاون سے آباد کر رکھی ہے۔ یہ سوال بھی اُبھر کر سامنے آتا ہے کہ جو سازو سامان کراچی سنٹرل جیل سے برآمد ہوا ہے کیا دوسری جیلیں ان سے محفوظ ہیں، بظاہر تو نہیں لگتا عین ممکن ہے کہ ایسی سہولتیں ہر جیل میں قیمتاً مل جاتی ہوں، فرض کر لیتے ہیں کہ جس وسیع پیمانے پر سازو سامان کراچی سنٹرل جیل سے ملا ہے دوسری جیلوں میں شاید اتنا نہ ہو، لیکن موبائل فون تو کسی نہ کسی طور پر ہر قیدی افورڈ کر لیتا ہے اور اسے اپنے پاس رکھنے کے لئے قیمت بھی ادا کرتا ہے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کا اتنا ذخیرہ باقی جیلوں میں نہ ہو،لیکن کچھ نہ کچھ تو ضرور ہو گا، اِس لئے اب یہ لازمی ہو گیا ہے کہ مُلک بھر کی جیلوں کا پوری طرح جائزہ لیا جائے اور حفاظتی انتظامات کسی ایسے ادارے کے سپرد کئے جائیں جو قابلِ بھروسہ ہو۔اگر اب دو دہشت گرد فرار ہوئے ہیں تو کسی وقت زیادہ تعداد میں بھی لوگوں کو فرار میں مدد دی جا سکتی ہے، پھر جیلوں کے عملے کے کوائف کا از سر نو جائزہ لینا بھی ضروری ہے، کیونکہ اگر عملے کے چند ارکان دہشت گردوں کا آل�ۂ کار بن کر انہیں فرار کرا سکتے ہیں تو دوسروں پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ چند برس پہلے بنوں(خیبرپختونخوا) جیل پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا اور بڑی تعداد میں قیدیوں کو باہر نکل جانے کا موقعہ مل گیا تھا جن میں سے بعض دوبارہ گرفتار بھی ہو گئے اِسی طرح دوسری جیلوں میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں، جو جیل خانوں کے پورے حفاظتی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں۔

جیل سے قیدیوں کے فرار کی کوشش یا اس میں کامیاب ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ہے، فرار کی کوششیں کرنے والے کوئی نہ کوئی منصوبہ بھی بناتے رہتے ہیں۔ کراچی جیل سے فرار کے لئے سرنگ کھودنے کا واقعہ بھی منظر عام پر آ چکا ہے یہ منصوبہ کامیابی کے بالکل قریب تھا کہ کسی وجہ سے راز فاش ہو گیا اور یہ کوشش ناکام ہو گئی،لیکن ایسی کوششوں میں جیل کے عملے کا ملوث ہو جانا واقعی تشویشناک بات ہے جس طرح دہشت گردی کی بعض وارداتوں کے بعد انکشاف ہوتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کو اندر سے معاونت مل رہی تھی اور انہیں اطلاعات دی جا رہی تھیں، جیل کے چھاپے سے تو سیکیورٹی کا پورا سسٹم ہی مشکوک ہو جاتا ہے، معلوم نہیں کس کس جیل میں کون کون سے دہشت گرد موجود ہیں اور عملہ اُن کی خاطر خدمت کا سامان اس طرح بہم پہنچا رہا ہے جس طرح کراچی جیل سے برآمد ہوا ہے اس لئے ضرورت اِس بات کی ہے کہ پورے مُلک کی جیلوں کے حفاظتی انتظامات کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور مشکوک افراد کو اُن کی ذمہ داریوں سے ہٹا کر ایسی بااعتماد فورس تشکیل دی جائے جو دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے اور’’چمک‘‘ سے متاثر نہ ہو۔

مزید : اداریہ