کرکٹ کی سیاست

کرکٹ کی سیاست
 کرکٹ کی سیاست

  

سرپرائز کو کرکٹ کا حسن قرار دیا جاتا ہے مگر برطانیہ میں پاکستانی ٹیم نے جس طرح بھارتی ٹیم کو شکست دی ہے یہ اہل بھارت کے لئے سرپرائز کی بجائے باقاعدہ ایک بڑا صدمہ ہے۔بھارت سے آنے والی خبروں کے مطابق وہاں عوام میں غیر معمولی اشتعال دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے توڑ پھوڑ کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ کرکٹ ایک کھیل ہے مگر جب میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو تو جنگ جیسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ بھارت کے مختلف شہروں میں جو ہنگامہ آئی نظر آتی ہے وہ پاکستان میں بھی دکھائی دیتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بھارت میں ٹی وی چینلوں نے ٹوٹتے ہوئے ٹیلی ویژن سیٹ بھی دکھائے ہیں مگر بھارت میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اسے کھیل ہی سمجھتے ہیں۔ امرتسر کے ایک سینئر صحافی رویندر سنگھ روبن اسے پاکستان کی عاجزی کا صلہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھارت کو اس کے غرور اور تکبر کی سزا ملی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت میچ کچھوے اور خرگوش کی کہانی ثابت ہوئی ہے جس میں بھارت نے پاکستان کو معمولی حریف سمجھا اور آخری دن تک اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔

کرکٹ کے بعض مداح کرکٹ کو ایک نیا ’’مذہب‘‘ قرار دیتے ہیں جو نوجوانوں کو ایک نئے جوش و جذبے سے متعارف کرا رہا ہے۔ آج دنیا میں کرکٹ کے سب سے زیادہ شائقین برصغیر میں ہیں۔ کرکٹ برطانوی کھیل ہے مگر اس کھیل کو مقبول کرنے میں برصغیر کی سیاست نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان میں کرکٹ کا پہلا میچ 1721ء میں ہوا تھا۔ مغربی ساحلوں پر یورپی ملاحوں نے اکٹھے ہو کر یہ میچ کھیلا تھا۔مگر برصغیر میں کرکٹ کو باقاعدہ متعارف کرانے والے انگریز تھے۔ اسے امپریلزم کا ایسا زبردست تحفہ قرار دیا جاتا رہا ہے جو ایک دیسی کو جنٹلمین بنانے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ نوآبادیات کی تاریخ بیان کرتے ہوئے برطانوی مفکر اور کرکٹر آرتھر ہاسلم نے کہا تھا۔

’’برطانوی نو آبادیات کی تاریخ تو یہی ہے کہ پہلے کسی جگہ مہم جو گئے۔ پھر مشنری بھجوائے گئے۔ ان کے بعد وہاں تاجر گئے۔ پھر فوجی پہنچ گئے۔ پھر وہاں سیاستدان نظر آئے اور آخر میں وہاں کرکٹر پہنچے۔ فوجی دھونس جما سکتے ہیں۔ سیاستدان غلطیاں کر سکتے ہیں مگر کرکٹ سب کو متحد کرتا ہے۔ یہ حاکم اور محکوم کو ایک جگہ اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اخلاقی تربیت بھی دیتا ہے اورایک ایسی تعلیم بھی جو جرات اور برداشت پیدا کرتی ہے اور کردار کی تعمیر سازی میں کسی بھی دیسی کے لئے بہت زیادہ اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ شیکسپیئر کے کسی ڈرامے یا لارڈ میکالے کا کوئی مضمون زبانی یاد کرنے کی کردار سازی میں ایسی اہمیت نہیں ہے‘‘۔

برصغیر میں بمبئی جسے آج کل ممبئی کا نام دیا جاتا ہے کرکٹ کی جائے پیدائش ہے۔ 1893ء میں یہاں ہیرس نے کرکٹ کے ٹورنامنٹ کرانے کا آغاز کیا۔ ابتداء میں کرکٹ ٹیمیں نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر بنائی گئی تھیں۔پارسی اپنے آپ کو ہندوؤں سے برتر سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف انگریز ہی ان کے مدمقابل ہیں۔ انہوں نے حقارت سے ہندوؤں کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا، مگر 1907ء تک صورتحال تبدیل ہو گئی اور اس سال انگریزوں‘ پارسیوں اور ہندوؤں کے درمیان میچ ہوا۔ 1912ء میں مسلمان بھی کرکٹ کے ان میچوں میں شامل ہو گئے۔ یوں برصغیر میں چار قومیتوں کے میچ ہونے لگے۔ برصغیر کی سیاست کو کرکٹ کی سیاست کے حوالے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ 1930ء کے عشرے میں جب گول میز کانفرنسیں شروع ہوئیں اور ایک میز پر بیٹھ کر ہندوستان کے تمام رہنماؤں نے سیاسی مسائل کے حل تلاش کرنے شروع کئے تو کھیل کے میدان میں بھی انگریز‘ ہندو‘ سکھ‘ پارسی اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ 1932ء میں جب کانگریس نے آئینی مذاکرات کا بائیکاٹ کیا تو اس سال میچ بھی منسوخ کرنا پڑے کیونکہ قومی سیاست پوری طرح سے کرکٹ میں آ گئی تھی۔ 1930ء کے عشرے میں کرکٹ میں بھی یہ سوال اٹھا کہ چھوٹی اقلیتوں کو کس طرح اس کھیل کا حصہ بنایا جائے۔ ماریہ مسرا کے مطابق یہ کچھ ایسی ہی صورتحال تھی جو ہمیں اس وقت لندن میں ہونے والے مذاکرات میں نظر آتی ہے۔ جہاں اقلیتوں کے حقوق کے معاملات زیربحث تھے۔ انڈین کیتھولک، پروٹسٹنٹ، شامی عیسائیوں، سنہالیوں، بدھوں اور پرتگیزی نسل کے انڈین کو کرکٹ میں شامل کرنے کے لئے زوردار بحثیں ہوئیں اور پھر1937ء میں اس کا حل بھی سامنے آ گیا۔ایک پانچویں ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد پانچوں ٹیموں کے درمیان میچوں کا آغاز ہوا۔

قومی سیاست میں گرما گرمی پیدا ہو رہی تھی۔ قومیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی ان ٹیموں میں کش مکش گہری ہوتی جا رہی تھی اور اس کی وجہ قومی سیاست تھی۔1937ء میں پانچوں ٹیموں کے درمیان ہونے والا ٹورنامنٹ افراتفری کا شکار ہو گیا۔ اکثریت کے خبط میں مبتلا ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ انہیں سٹیڈیم میں کم نشستیں دی گئی ہیں۔ 1938ء میں پارسیوں نے اس کا بائیکاٹ کیا اور وہ 1939ء میں کھیل کے میدان میں واپس آئے۔ 1940ء میں ہندوؤں نے کانگریس سے یک جہتی کے اظہار کے لئے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کیا کیونکہ کانگریسی حکومتوں نے استعفٰی دے دیا تھا اور ایک طرح سے حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ 1942ء میں جاپانیوں کے حملے کے خدشے کے پیش نظر ٹورنامنٹ نہ ہو سکا۔ تاہم 1943ء میں کھیل دوبارہ شروع ہوا۔ پانچ ٹیموں کا آخری ٹورنامنٹ جنوری 1946ء میں منعقدہوا۔ کرکٹ کے ان میچوں نے برصغیر میں اس کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا مگر اس نے مختلف قوموں میں اپنے علیحدہ تشخص کے احساس کو گہرا کیا۔ 1930ء کے عشرے میں کرکٹ کے شائقین کی قومی اور سیاسی وابستگیاں کھیل کے میدان میں بھی نظر آتی تھیں۔ مسلمان مسلمان کھلاڑیوں کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے تھے تو ہندو اپنے کھلاڑیوں کی کامیابی پر جشن مناتے تھے۔ 1939ء میں جب ہندو ٹیم نے کامیابی حاصل کی تو ہندوؤں نے زوروشور سے بندے ماترم کا ترانہ پڑھا۔ زوردار پٹاخے چلا کر پورے شہر میں اپنی فتح کا جشن منایا۔ یہ کھیل میں کامیابی نہیں تھی بلکہ ایک قوم دوسری قوم کو اپنی برتری کی خبر دے رہی تھی۔ اس سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر رہی تھی۔

بھارتی قیادت جو مسلمانوں کے علیحدہ قوم کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھی اسے کھیل کے میدان میں ہونے والے اس خطرے کا ادراک ہوا۔ بمبئی کرانیکل نے اپنے ایک اداریے میں کرکٹ کے کھیل کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا۔’’ہمیں انگریزوں کا کھیل نہیں کھیلنا چاہیے۔ وہ ہمیں تقسیم کر کے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ دنیا کے سامنے ہماری نااتفاقی کو جواز بنا کر ہمیشہ کے لئے ہم پر حکومت کریں۔ خود مہاتما گاندھی نے کہا کہ کرکٹ کی ٹیموں کو یا تو غیر قومیتی بنیاد پر دوبارہ تشکیل دیا جائے یا اس کھیل کو ہی بند کر دیا جائے۔ ہندو قوم پرست لیڈر ویرسیوکار نے اقلیتوں پر مشتمل پانچویں ٹیم سے کہا کہ وہ دوبارہ ہندوازم کا حصہ بن جائیں۔ 1940ء کے عشرے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق اتنی گہری ہو چکی تھی کہ مسلمانوں کی کرکٹ ٹیم کو ’’پاکستان‘‘ کا نام دیا جاتا تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی ہندوؤں نے کرکٹ ٹیم کی صورت میں پاکستان بنا دیا تھا۔

نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ کھیلوں میں دنیا کو تبدیل کرنے کی طاقت ہوتی ہے۔ یہ عوام میں نئی روح پھونک سکتی ہیں۔ یہ کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ عوام کو متحد کر سکتی ہیں۔ یہ نوجوانوں سے اس زبان میں بات کرتی ہیں جسے وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جہاں مایوسیوں کا راج ہو‘ کھیل وہاں بھی امید پیدا کر سکتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا کا خیال تھا کہ نسلی رکاوٹوں کو توڑنے میں کھیل کسی بھی حکومت سے زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

بھارت میں میچ ہارنے والے کپتان کے گھر کو آگ لگانے کی روایت بھی موجود ہے اور اب اہم بھارتی کھلاڑیوں کے گھروں پر سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔ پاکستان کی ٹیم کی کامیابی پر سب سے اہم تبصرہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی کا ہے۔ انہوں نے پاکستانی ٹیم کو کھلے دل سے مبارکباد دی اور اس کی کارکردگی کی دل کھول کر تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیں حیران کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتی ہے۔ پریس کانفرنس میں ان کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ایک صحافی اتنے حیران ہوئے کہ انہوں نے اس حوالے سے سوال کر ڈالا۔ اس پر ویرات کوہلی نے اپنی عظمت کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ میرے چہرے پر مسکراہٹ اس لئے ہے کہ ہم اچھا کھیل کر فائنل میں پہنچے ہیں۔ پاکستان نے ہمیں ہر شعبے میں آؤٹ کلاس کر دیا۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا کیونکہ اس کے بعد قوم ترانوں میں کھو گئی تھی جبکہ بھارت نے جنگی تیاریاں جاری رکھیں اور 1971ء میں پاکستان کو ایک بڑی شکست دی۔ کوہلی کا انداز بتا رہا ہے کہ وہ بھارتی ٹیم سے مایوس نہیں ہیں اور اس شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہ زیادہ محنت اور تیاری سے اگلے میچوں میں حصہ لیں گے۔ پاکستانی کرکٹ کو سب سے زیادہ سیاست نے متاثر کیا ہے۔ محنت اور پیشہ ورانہ تربیت کے علاوہ پاکستانی ٹیم کی مستقبل کی کارکردگی کا انحصار اس پر ہو گا کہ انہیں سیاست سے کتنا دور رکھا جاتا ہے اور ہم خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کا سامنا کتنی جرات کے ساتھ کرتے ہیں؟۔

مزید : کالم