مجھے ڈر لگ رہا ہے

مجھے ڈر لگ رہا ہے
 مجھے ڈر لگ رہا ہے

  

ہاں مجھے ڈر لگ رہا ہے، اُن اندیشوں اور فضاؤں میں بے یقینی کے وسوسوں سے جنہوں نے پورے مُلک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک ایسی فضا میں جب پوری قوم چیمپئن ٹرافی جیتنے کے بعد خوشی سے نہال ہے، سیاسی میدان میں کشیدگی اور قومی اداروں کے درمیان واضح محاذ آرائی کی صورت ایک بڑے خطرے کی مانند مُلک پر منڈلا رہی ہے، صاف لگ رہا ہے کہ معاملات آئین کے مطابق نہیں چل رہے اور آئینی ادارے اپنی حدود سے نکل رہے ہیں یا پھر نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو بہت خطرناک بات ہے۔ سپریم کورٹ ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جو معاملات کو سلجھانے کی آخری منزل ہے، مگر جے آئی ٹی کیس میں سپریم کورٹ نے جس طرح یہ آبزرویشن دی ہے کہ حکومت عدالت کی مدد کرنے کی بجائے اُس کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے، وہ خطرے کی ایک بڑی گھنٹی بجا گئی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ حکومت مُلک کی سب سے بڑی عدالت کو مطمئن کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے اور اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی جائے کہ عدالت کے ہر حکم پر من و عن عمل ہو گا اور حکومت کا کوئی محکمہ عدالت سے عدم تعاون کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، مگر ایسا نہیں کیا گیا، بلکہ عدالت کے باہر پھر وہی جارحانہ تبصرے کئے گئے جن کی وجہ سے معاملہ خطرے کے نشان تک پہنچا ہوا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایک انوکھا کام ہو رہا ہے، مُلک کے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں اور یہ تحقیقات وہ سرکاری ادارے کر رہے ہیں جو اُن کے ماتحت ہیں جب سپریم کورٹ نے پاناما کیس پر جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا تھا تو اُس وقت یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ مُلک کے وزیراعظم کی موجودگی میں اُن کے خلاف ماتحت ادارے کیونکر تحقیقات کر سکیں گے؟ اپوزیشن کی طرف سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا گیا، مگر وزیراعظم نے اسے درخوراعتنا نہیں سمجھا، پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ جوں جوں تحقیقات آگے بڑھیں ایک واضح محاذ آرائی اور عدم اعتماد کی صورتِ حال پیدا ہوتی چلی گئی، معاملہ اُس وقت بالکل دوبدو ہو گیا جب مسلم لیگ (ن) نے جے آئی ٹی کے دو ارکان پر عدم اعتماد کیا۔ یہ عدمِ اعتماد اگر جے آئی ٹی کی تشکیل کے فوراً بعد کر دیا جاتا تو شاید سپریم کورٹ اس کا نوٹس لے کر ان دونوں ارکان کو تبدیل کر دیتی، مگر اعتراض اُس وقت کیا گیا جب پندرہ دن گزر چکے تھے اور جے آئی ٹی بہت سے کام کر چکی تھی۔ حسین نواز کی طرف سے اس معاملے پر سپریم کورٹ میں جو درخواست کی گئی، اُسے مسترد کر دیا گیا، اب چاہئے تو یہ تھاکہ اسے خوشدلی سے قبول کر لیا جاتا، لیکن اس کی بجائے جے آئی ٹی کے خلاف نیا محاذ کھول دیا گیا،جلتی پر تیل کا کام جے آئی ٹی کی اس درخواست نے کیا جو سپریم کورٹ میں دی گئی اور جس میں الزامات لگائے گئے کہ اسے کام نہیں کرنے دیا جا رہا، ریکارڈ کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور مختلف ذرائع سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ گویا حکومتی جماعت اور جے آئی ٹی کے درمیان ون ٹو ون محاذ آرائی کھل کر سامنے آ گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب اٹارنی جنرل ایک بہتر کردار ادا کر کے معاملے کو سنبھال سکتے تھے، مگر وہ ایسا نہ کر سکے یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو یہ کہنا پڑا کہ انہوں نے حکومتی ایماء پر ہونے والی جے آئی ٹی کے خلاف مہم کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑا اور سنگین ڈیڈ لاک ہے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اب واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ مختلف واقعات کی وجہ سے جے آئی ٹی اپنا اخلاقی اور قانونی جواز کھو چکی ہے۔ گویا یہ کہہ دیا گیا کہ اب اس کے کسی فیصلے یا تحقیق کی کوئی اہمیت نہیں رہی، مگر دوسری طرف سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ اِدھر اُدھر دیکھنے کی بجائے اپنا کام جاری رکھے۔

گویا جے آئی ٹی کا قانونی مینڈیٹ آج بھی اسی طرح قائم ہے، جیسا پہلے دن تھا۔ اب ایسے میں اگر جے آئی ٹی سے عدم تعاون کیا جاتا ہے یا سرکاری ادارے اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں تو اِس کا واضح مطلب یہی ہو گا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہیں کی جا رہی، میرے تو کانوں میں ابھی تک سپریم کورٹ کے جج صاحب کا یہ جملہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم کوئی ناخوشگوار حکم جاری کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ ناخوشگوار حکم کیا ہو سکتا ہے؟ اس کی کئی تعبیریں کی جا سکتی ہیں، مگر مجھے تو یہی سمجھ آئی ہے کہ اگر حکومت نے عدم تعاون کی راہ اختیار کی تو وزیراعظم کے اختیارات کچھ عرصے کے لئے سلب بھی کئے جا سکتے ہیں یا ان کے خلاف آئین کے مطابق عدلیہ کی مدد نہ کرنے کا فیصلہ بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مُلک کس قسم کے بحران سے دو چار ہو جائے گا۔ اس کے بارے میں سوچ کر ہی خوف آتا ہے جب وزیراعظم نوازشریف جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے گئے تھے تو اسے سب نے سراہا تھا۔اسے آئین اور قانون کی بالا دستی قرار دیا گیا تھا۔ خود نواز شریف نے بھی باہر آکر یہی کہا تھا کہ وہ آئین اور قانون کے احترام میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔ اس سے اُن کا قد بڑھا تھا اور مُلک پر منڈلانے والے خدشات بھی کم ہوئے تھے، کیونکہ معاملات آگے چلتے رہیں تو خطرات کم ہو جاتے ہیں بحران اس وقت جنم لیتا ہے جب ڈیڈ لاک پیدا ہو جائے۔ اب مجھے ایک ڈیڈ لاک کا امکان نظر آ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے کہ کہیں مُلک کسی انہونی سے دو چار نہ ہو جائے۔

مَیں اکثر اس نکتے پر بھی غور کرتا ہوں کہ ایک طرف مسلم لیگ (ن) پاناما کیس کو سیاسی کیس قرار دیتی ہے اور دوسری طرف اس کا حل جے آئی ٹی اور عدالت سے چاہتی ہے۔ جے آئی ٹی ہو یا عدالتِ عظمیٰ اُس نے تو فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق کرنا ہے۔ سپریم کورٹ نے ویڈیو ریکارڈنگ نہ کرنے کی وہ درخواست بھی مسترد کر دی جو حسین نواز کی طرف سے تصویر لیک ہونے کے بعد دائر کی گئی تھی۔گویا جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ کی مکمل تائید وحمایت حاصل ہے اِس لئے میرے نزدیک مسلم لیگی رہنماؤں کی طرف سے اُسے متنازعہ بنانے کی سب کوششیں رائیگاں گئی ہیں وہ ایک مکمل حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ اصل حقائق کا جے آئی ٹی کو پتہ ہے یا شریف فیملی کو۔ اگر نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ قانونی فیصلہ اُن کے خلاف آ سکتا ہے تو انہیں سیاسی فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ وہ خود جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد کہہ چکے ہیں کہ اصل جے آئی ٹی بیس کروڑ عوام کی ہے، جو اگلے سال لگے گی اور اُن کے حق میں فیصلہ دے گی، وہ ایک جمہوری و آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا قبل از وقت سیاسی فیصلہ بھی کر سکتے ہیں یہ اُس سے کہیں بہتر ہو گا کہ مُلک کو آئینی اداروں کے درمیان تصادم کی راہ پر دھکیلا جائے۔ حکومت کے پاس صرف قانونی ہی نہیں بے شمار سیاسی راستے بھی کھلے پڑے ہیں۔ دُنیا میں اکثر ایسی مثالیں مل جاتی ہیں کہ سیاست دانوں نے مُلک کو ڈیڈ لاک سے بچانے کے لئے جرأت مندانہ سیاسی فیصلے کئے اور قوم کو بحران سے نکالنے میں کامیاب رہے، مُلک کی سب سے بڑی عدالت کے ساتھ محاذ آرائی کا تاثر حکومت کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں، قوم کو موجودہ بحران سے نکالنے کی کنجی اگر کسی کے پاس ہے تو وہ وزیراعظم نواز شریف ہیں، خدا کرے جب وہ دیارِ مقدس سے واپس آئیں تو ایک مدبر رہنما کی طرح کوئی ایسا فیصلہ کریں جو مُلک کو بحران سے نکالے اور جمہوریت پر جو خدشات کے سائے منڈلا رہے ہیں،وہ ختم ہو جائیں۔

مزید : کالم