بحرِہند میں ایک نئی ناٹو؟ (1)

بحرِہند میں ایک نئی ناٹو؟ (1)
 بحرِہند میں ایک نئی ناٹو؟ (1)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اقبال نے کہا تھا کہ ازل سے لے کر آج تک چراغِ مصطفویؐ سے چراغِ بولہبی ستیزہ کار رہا ہے۔ یعنی نیکی اور بدی کی قوتیں ایک دوسرے سے ہمیشہ برسرِ پیکار رہی ہیں۔ اس جنگ کی کیفیت (Quality) اور کمیت (Quantity) براہ راست انسانی ترقی کے کیف و کم سے مربوط رہی ہے۔ پتھر کے زمانے سے لے کر جوہری بم کے زمانے تک جنگ و جدال کا سلسلہ کہیں بھی رکا نہیں۔ صرف یہ ہوا کہ جوہری ہتھیاروں کی ایجاد نے گرم جنگ کانام سرد جنگ رکھ دیا۔ اس سرد جنگ کا زمانہ اگرچہ 1945ء سے تاحال (2017ء تک) 72 برس کا زمانہ ہے لیکن اس زمانے میں بھی دنیا میں ایسی 72جنگیں لڑی جا چکی ہیں جو یا توپراکسی وار کہلاتی تھیں یا انہیں غیر جوہری جنگیں کہا جاتا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی تین جنگیں (1947-48ء ،1965ء اور 1971ء) غیر جوہری جنگیں کہلاتی ہیں کیونکہ ان میں کسی بھی ملک کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے۔ لیکن مئی 1999ء کی کارگل وار اس لئے وار نہیں کہلاتی کہ اس میں دونوں ممالک نے اپنی تینوں افواج (بری، بحری اور فضائی) کا بھرپور استعمال نہ کیا۔ انڈیا نے اگرچہ اپنی فضائیہ کارگل میں استعمال کی لیکن بین الاقوامی سرحد عبور نہ کی۔ کشمیر اور لائن آف کنٹرول متنازعہ علاقہ تھا اس لئے پاکستان نے بھی اپنی بری قوت کا استعمال اسی متنازعہ علاقے میں کیا۔ اور بھارت نے گراؤنڈ فورسز کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں ائر فورس بھی استعمال کی۔ یہ استعمال چونکہ دونوں ملکوں کی طرف سے بہت محدود پیمانے پر کیا گیا اس لئے اس کارگل وار کو کارگل لڑائی یا کارگل تنازعہ (Conflict) کا نام دیا جاتا ہے، جنگ نہیں کہا جاتا۔ لیکن اب الاماشا اللہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ ایک تیسری عالمی جنگ کی شروعات کی جائیں۔ مثل مشہور ہے کہ مستقبل کی جنگ، ماضی کی جنگ کے مطابق پلان کی جاتی ہے۔ فریقینِ جنگ کوشش کرتے ہیں کوئی نادر اور انوکھا ہتھیار استعمال کرکے حریف پر سبقت حاصل کی جائے۔ روائتی جنگ کا اختتام بھی کسی ایک فریقین کے عزم و حوصلے اور سامان جنگ کے خاتمے پر ہوا کرتا ہے۔ جنگوں کی تاریخ کے طالب علم نہ صرف یہ کہ آنے والی اور موجودہ گرم یا سرد جنگ پر تبصرے کرتے رہتے ہیں بلکہ ایسے منظر نامے (Scenerios)بھی ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں جو معروضی حالات میں حقیقت سے زیادہ دور نہیں ہوتے۔ میں اگلے روز ’’ایشیا ٹائمز‘‘ اخبار میں ایک ایسے ہی طالب علم کامنظر نامہ پڑھ رہا تھا جو اس نے پاکستان اور بھارت کے مستقبل کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے پیش کیا تھا۔اس طالب علم اور تجزیہ نگار کا نام برٹل لٹنر(Bertil Litner) ہے۔ اکثر پاکستانی قارئین چونکہ حدیثِ دفاع کے مطالعہ پر زیادہ وقت ’’ضائع‘‘ نہیں کرنا چاہتے اس لئے وہ مغرب کے عسکری تجزیہ نگاروں کے ناموں اور ان کی تحریروں سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ وگرنہ برٹل کا نام عسکری دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ مستقبل کی روائتی یا جوہری جنگ بحرہند میں لڑی جائے گی۔

اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں اتنا ضرورجان لیں کہ دنیا میں تین بڑے سمندروں میں سے دو سمندروں (بحرالکاہل اور بحراوقیانوس) نے دوسری عالمی جنگ کی لاتعداد لڑائیاں دیکھیں اور اپنے پانیوں میں گراؤنڈ، نیول اور ائر فورسز کے سینکڑوں خونریز معرکوں کا نظارا کیا۔ ان معرکوں کی تفصیل اس وقت تک قاری کے پلے نہیں پڑے گی جب تک وہ دوسری عالمی جنگ کے چھ بڑے محاذوں میں لڑنے والے معرکوں کی تفصیل نہیں جانے گا۔ان محاذوں کے نام (1) یورپی محاذ (2) شمالی افریقہ کا محاذ (3) روس کا محاذ (4) بحراوقیانوس (Atlantic Ocean) کا محاذ جس میں طرفین نے آبدوزیں اور بالائے آب بحری جنگی جہاز استعمال کئے (5) برما محاذ اور (6) بحرالکاہل کا محاذ شامل ہیں۔ بحرالکاہل محاذ (Pacific Theatre) کی بحری لڑائیاں زیادہ تر جاپان اور امریکی افواج کے درمیان لڑی گئیں۔

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کو امید تھی کہ کروڑوں انسانوں کا خون بہانے کے بعد یہ سلسلہ ء جنگ اب رک جائے گا لیکن جیسا کہ میں نے کالم کے شروع میں کہا تھا کہ یہ سلسلہ جنگ و جدل ازل سے شروع ہوا تھا اور ابد (قیامت) تک جاری رہے گا۔ جونہی دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی، تیسری عالمی جنگ کی شروعات ہو گئیں۔ یعنی ناٹو (NATO) اور وارسا (Warsa) پیکٹ کی افواج جرمنی میں ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو گئیں۔ وارسا ، پولینڈ کا دارالحکومت ہے اس لئے روس اور پولینڈ وغیرہ کی فورسز نے ایک معاہدے کے تحت ایک عالمی فورس تشکیل کرکے مغرب کی ناٹو کا جواب دیا جس کا پورا نام ’’نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن‘‘ تھا۔ یہ تنظیم ابھی تک قائم ہے اور اس میں جو 28ممالک شامل ہیں ان میں سے کئی ملکوں کے ٹروپس آج بھی افغانستان میں بیٹھے ہیں۔ چونکہ ’’شمشیروسناں‘‘کے میرے دفاعی کالموں کا روئے سخن تاریخِ جنگ کے عالم فاضل حضرات کی طرف نہیں بلکہ ایسے قارئین کی طرف ہوتا ہے جو اس موضوع کے مبتدی کہے جا سکتے ہیں اس لئے ان قارئین سے معافی کا خواستگار ہوں جو درج بالا لیول کی معلومات کو سطحی گردانتے ہیں۔ اردو زبان میں تو آج تک کسی بھی چھوٹی بڑی جنگ کی وہ پروفیشنل ہسٹری پڑھنے کو نہیں ملتی جو دو تین سو برس پہلے یورپ کے باشندوں میں عام پڑھی اور سمجھی جاتی تھی۔

برٹل کا تجزیہ ہے کہ ناٹو کی طرح اب بحرہند میں آئی یاٹو (IOTO) نام کی ایک عسکری تنظیم تشکیل ہونے جا رہی ہے یعنی ’’انڈین اوشن ٹریٹی آرگنائزیشن‘‘ ۔۔۔ اس ’’آئی یا ٹو‘‘ میں ایک طرف امریکہ، انڈیا، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہوں گے اور دوسری طرف اکیلا چین ہوگا۔ اس کا استدلال ہے کہ بظاہر ساؤتھ چائنا سی (South China Sea) میں جنگ کی کھچڑی پک رہی ہے۔ لیکن یہ کھچڑی بحرالکاہل کے پانیوں (ساؤتھ چائنا سی بحرالکاہل کا حصہ ہے) میں پکے یا نہ پکے، بحرہند میں اس کے پکنے کے آثار نوشتہ ء دیوار نظرآ رہے ہیں!

رقبے کے لحاظ سے بحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے اور بحرہند سب سے چھوٹا اور جہاں تک بحری تجارت کا سوال ہے تو گزشتہ کئی عشروں سے بحراوقیانوس کی راہ سے عالمی تجارتی حجم میں بتدریج کمی ہوتی جا رہی ہے۔ بحرالکاہل کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کا حجم گزشتہ نصف صدی سے ایک ساکن سطح سے گزر رہا ہے۔ لیکن بحرہند جو دوسری عالمی جنگ میں بحری تجارت کے حوالے سے بہت نچلے درجے پر تھا، آج مشرق و سطیٰ میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کا 60فی صد تیل اسی بحرہند کی راہ سے چین، جاپان اور دوسرے تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی تجارت کا 70فی صد حصہ بھی اسی بحر ہند کی راہ سے آتا جاتا ہے۔ جب تجارتی حجم میں اضافہ ہوتا ہے تو بحری قذاقی کے حجم میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ روائت گزشتہ کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ بحری ڈاکوؤں کے چھوٹے چھوٹے جہاز جن پر بحری توپیں نصب ہوتی ہیں اور جن میں تربیت یافتہ بحریہ کے ٹروپس سوار ہوتے ہیں وہ بڑے بڑے تجارتی بحری جہازوں اور کنٹینروں کو سمندر میں روک کر یا تو عملے کو یرغمال بنالیتے ہیں یا لوٹ مار کرکے غائب ہو جاتے ہیں۔

دنیا کے کسی بھی ایک ملک کے پاس بحری تجارت کو محفوظ بنانے کے کوئی وسائل موجود نہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ماضی قریب میں ایک طویل عرصے تک متحدہ عرب امارات کی ریاستیں بحری ڈاکوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں بنی رہیں۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ جو ممالک بحرہند کے ساحلوں پر واقع ہیں یا جن کے بحری جہاز بحرہند کے پانیوں میں آتے جاتے ہیں ان کی ایک نیول فورس بنائی جائے۔ پاکستان میں اس نیول فورس کا حصہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس طرح انڈیا، جاپان اور امریکہ مل کر انڈیا کے مغربی ساحل پر ہر سال بحری قذاقی کو روکنے کے لئے جنگی مشقیں کرتے ہیں۔ ان مشقوں کو ’’مالا بار نیول ایکسر سائزر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

20ویں صدی کے نصف دوم کا آغاز ہوا تو چین بھی آزاد ہوا اور انڈیا اور پاکستان بھی ۔ لیکن 1980ء کے بعد چین نے حیرت انگیز ہمہ گیر ترقی کے جس سفر کا آغاز کیا اس میں چین کے بحری تجارتی بیڑے کو بھی کئی خطرات کا سامنا ہوا۔ چین پہلی بار بحرہند میں داخل ہو رہا تھا۔ جاپان اور دوسرے مشرق بعید کے کئی ممالک تو جنگ عظیم دوم سے پہلے بھی مشرق وسطیٰ کے تیل سے مستفید ہو رہے تھے لیکن چین سب سے آخر میں اس دوڑ میں شامل ہوا اور سب پر بازی لے گیا۔ چنانچہ اس کے تجارتی جہازوں کو نہ صرف بحری قذاقی کے خطرات لاحق ہوئے بلکہ ان ترقی یافتہ ممالک کے جہازوں نے بھی چین کی بحری تجارت کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔ تاریخ جنگ کے طالب علموں کو معلوم ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کو امریکہ کے خلاف اس لئے جرمنی کا ساتھ دینا پڑا تھا کہ امریکی بحریہ نے جاپان کے تیل بردار بحری جہازوں کو بحر ہند سے بحرالکاہل میں داخل ہوکر جاپان پہنچنے سے روک دیا تھا۔ بہت سے عسکری مصنفین جاپانی بحریہ کے ارتقا اور فروغ کو برطانیہ اور امریکہ کی طرف سے اس کی بحری تجارت کی راہیں مسدود کرنے کے نام سے معنون کرتے ہیں! ۔۔۔ اگر یورپی اقوام (جن میں جرمنی شامل نہیں تھا) 20ویں صدی کے آغاز میں جاپان کے اِکا دُکا جہازوں کو مانیٹر کرنے کا ارتکاب نہ کرتیں تو دوسری عالمی جنگ میں جوہری بم ایجاد اور استعمال کرنے کی نوبت بھی نہ آتی۔

چین کی ترقی میں بحری تجارت کا جو حصہ ہے اس کا اندازہ کرنے کے لئے چین کے نقشے پر غور کیجئے۔ اس کے ہمسایوں میں روس، وسط ایشیائی ریاستیں، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ایک تو خشکی کے راستے کی تجارت کا مقابلہ بحری راستے کی تجارت سے نہیں کیا جاسکتا اور دوسرے بحری راستے نسبتاً آسان اور تیز تر ہیں ایک بحری تجارتی جہاز میں درجنوں ریل کے انجن، سینکڑوں بوگیاں اور سینکڑوں ٹرک لا دے جاسکتے ہیں۔ دوسرے آبی گزر گاہیں، خشکی کی گزر گاہوں کے مقابلے میں کہیں آسان تر اور تیز تز ذرائع مواصلات ہیں۔ اس لئے چین کو جب اپنے تجارتی بحری بیڑے کو فروغ دینا پڑا تو جنگی بحری بیڑے (Navy) کا وجود ناگزیر ہوگیا۔ چینیوں کے سامنے گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخ پھیلی ہوئی تھی جس میں مغربی ممالک کے تجارتی اور جنگی بیڑوں نے پہلے آپس میں گھمسان کی بحری لڑائیاں لڑی تھیں اور بعد میں ایشیاء اور افریقہ کے بحری راستوں کے وسیلے سے صدیوں تلک ان براعظموں کے بیشتر ممالک پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔۔۔۔ بحری قوت اور عالمی اقتدار کے درمیان جو گہرا تعلق ہے۔ اس کے مطالعے کے لئے ایک امریکی ایڈمرل ماہن Mahanکی تصانیف کا مطالعہ چشم کشا ہے۔ امریکی بحریہ اور اس کے سپر پاور ہونے میں اس کی بحریہ کے کردار پر ایڈمرل ماہن کی اس کتاب نے جو اثرات مرتب کئے وہ ساری دنیا کے طالب علموں کے لئے ازبس سبق آموز ہیں۔ (جاری ہے)

مزید : کالم