طیبہ تشدد کیس، ڈاکٹرنسرین بٹ نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا

طیبہ تشدد کیس، ڈاکٹرنسرین بٹ نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا

اسلام آباد(آن لائن)کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل رکنی بینچ پرمشتمل جسٹس عامر فاروق نے کی دوران سماعت مرکزی ملزم قرار دیئے گئے سابق ایڈیشنل سیشن جج راجا خرم علی اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس پمز کی میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر نسرین بٹ عدالت میں پیش ہوئے ڈاکٹر نسرین بٹ نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ جب طیبہ کاچیک آپ کیا تو چہرے اور جسم پر زخم کے داغ تھے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ریکارڈ عدالت میں جمع نہ کروانے اور طیبہ تشدد کیس کے میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹروں کے پیش نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ڈاکٹر طارق اقبال اور ڈاکٹر محمد اسلم کو عدالت میں پیش ہونے کے لئے سمن جاری کرنے اور آئندہ سماعت پر کیس کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے جس پر اسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر طارق اقبال ریٹائرڈ ہو چکا ہے عدالت نے آئندہ سماعت پر میڈیکل بورڈ میں شامل ڈاکٹرز کے بیانات ریکارڈ کروانے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 4 جولائی دن اڑھائی بجے تک ملتوی کر دی ۔

مزید : علاقائی