اپٹما نے عیدالفطر کے بعد تمام ٹیکسٹائل تنظیموں کا کنونشن بلا لیا

اپٹما نے عیدالفطر کے بعد تمام ٹیکسٹائل تنظیموں کا کنونشن بلا لیا

لاہور )کامر س رپورٹر(آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن نے عید الفطر کے بعد تمام ٹیکسٹائل تنظیموں کا کنونشن بلا لیا۔کنونشن میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش ایکسپورٹ اور نوکریوں میں کمی جیسے مسائل اجاگر کیے جائیں گے جبکہ مطالبات منوانے کیلئے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کے حوالے سے بھی انڈسٹری کی تمام قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز سید علی احسان چیئر مین آپٹما پنجاب نے اپٹما پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔اس موقع پر گروپ لیڈر گوہر اعجاز، وائس چئیرمین اپٹما سنٹر علی پرویز ملک،پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما احمد کمال اور اپٹما کے سابق چیئرمین احسن بشیر بھی موجود تھے۔اس موقع پر گوہر اعجاز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹر ی کا کام احتجاج کرنا نہیں ہے ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے کام کرے لیکن بد قسمتی سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ قابل افسوس بات ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈسٹری کو اس وقت بھی 10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جب حکومت یہ دعوٰی کر رہی ہے کہ ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کر دی گئی ہے۔مزید کہا کہ انڈسٹری کو جان بوجھ کر بجلی نہیں دی جا رہی جب 2013میں بجلی کی پیداوار محض 8ہزار میگا واٹ بھی تو اس وقت لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔اس سے قبل لاہور،کراچی،فیصل آباد اور ملتان سمیت ملک بھر کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مالکان اور مزدوروں نے یوم سیاہ منایااور ٹیکسٹائل ملزپر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔گزشتہ روز مزدور سراپا احتجاج بنے رہے اورکام بندرہا۔مزدوروں نے ہاتھوں میں بینرزاورپلے کارڈاٹھارکھے تھے جن پرٹیکسٹائل انڈسٹری کے مطالبات درج تھے۔ٹیکسٹائل ملز کے مالکان اورمزدوروں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک سو اسی ارب روپے کے اعلان کردہ ٹیکسٹائل پیکج کی رقم جاری کرے،جولائی تک سیلز ٹیکس ری فنڈ دیا جائے اور بجلی کے اضافی سرچارجز3.63 پیسے ختم کیے جائیں۔

مزید : علاقائی