عائشہ بازیابی کیس،سماعت کے دوران کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا

عائشہ بازیابی کیس،سماعت کے دوران کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر سے اسکی دوسری بیوی کی بازیابی کی درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عبد السمیع خان کا کمرہ عدالت میدان جنگ بن گیا، مقصود بٹر کے حامی وکلاء نے کمرہ عدالت میں عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے جونیئر وکیل کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا اور اسکی یونیفارم پھاڑ دی جبکہ عدالت نے سینئر وکیل کی دوسری بیوی کے اغواء کی تفتیش جلد مکمل کرنے کا حکم دیدیاہے۔ جسٹس عبدالسمیع خان نے لاپتہ لڑکی عائشہ کی والدہ بلقیس زرینہ کی درخواست پر سماعت شروع کی تو ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سلطان احمد عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی تفتیش مکمل کرنے کیلئے مہلت دی جائے، عدالت نے ڈی جی آئی جی کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ایک مقدمے کی تفتیش مکمل کرنے کیلئے کتنے مہینے چاہیں، عدالت نے ڈی آئی جی کو حکم دیا کہ جلد تفتیش مکمل کر کے رپورٹ جمع کرائی جائے، درخواست گزار خاتون کی طرف سے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے جونیئر وکلاء بیرسٹر اسامہ، شبیر ایڈووکیٹ اور نورجہاں سمیت دیگر وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے چھ ماہ میں ایک مرتبہ بھی ملزم مقصود بٹر سمیت دیگر ملزموں کو طلبی کا نوٹس نہیں بھجوایا جو پولیس کی بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عدالت نے کارروائی تئیس جون تک ملتوی کی تو مقصود بٹر کے حامی وکلاء نے کمرہ عدالت میں ہی بیرسٹر اسامہ مالک پر تشدد کرنا شروع کردیا، وکلاء کے تشدد کے باعث بیرسٹر اسامہ مالک کے کپڑے پھٹ گئے، مقصود بٹر کے حامی وکلاء نے انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کیخلاف نعرے بازی بھی کی تاہم دیگر وکلاء کی مداخلت سے معاملہ رفع دفعہ ہوگیا، حملہ آور وکلاء کا موقف تھاکہ مقصود بٹر کی سیاسی شہرت کو نقصان پہنچانے کیلئے عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ نے جھوٹا کیس بنایا ہے، درخواست گزار خاتون کا موقف ہے کہ اسکی پچیس سالہ بیٹی عائشہ کی پاکستان بار کونسل کے ممبر مقصود بٹر ایڈووکیٹ سے شادی کی جبکہ عائشہ کے بطن سے الیان علی نواسہ بھی پیدا ہوا، شادی کے تین برس بعد درخواست گزار کی بیٹی گارڈن ٹاؤن سے اچانک لاپتہ ہو گئی، خدشہ ہے کہ اس کی بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے لہذا عدالت بیٹی عائشہ اور نواسے الیان علی کو بازیاب کرائے۔

مزید : علاقائی