فوٹو لیکس پر اٹارنی جنرل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت،جے آئی ٹی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ پر اعتراض مسترد،سٹاک مارکیٹ 1679پوائنٹس گر گئی ،296ارب روپے ڈوب گئے

فوٹو لیکس پر اٹارنی جنرل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت،جے آئی ٹی کی آڈیو ویڈیو ...

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے تصویر لیک کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزاد ے حسین نواز کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اٹارنی جنرل سے فوٹو لیک اور جے آئی ٹی کے آئی بی پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے تفصیلی جواب طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق حسین نواز کی تصویر لیک کے معاملہ پر منگل کو جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس شیخ عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 14 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا ۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ ویڈیو ریکارڈنگ صرف ٹرانسکرپٹ کی درستگی کیلئے کی جا سکتی ہے ٗ ویڈیو ریکارڈنگ ٹرانسکرپٹ کی تیاری کیلئے ضروری ہے ٗجب تک قانون نہیں بنتا ویڈیو ریکارڈنگ ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کی جا سکتی۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جس شخص نے تصویر لیک کی اس کی نشاندہی ہو چکی ہے، اس شخص کے خلاف کارروائی بھی ہوچکی ہے۔عدالت نے کہا کہ جے آئی ٹی کو تحفظات سے آزاد ہونا چاہیے ٗجے آئی ٹی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کام کر رہی ہے ٗاگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے آئی بی پر لگائے گئے الزامات پر اٹارنی جنرل سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جائے کہ اگر الزامات میں صداقت ہے تو کیا قانونی کارروائی ہو سکتی ہے ٗ دوران سماعت فوٹو لیک کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے تاحال جواب جمع نہیں کرایا۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئی بی کے معاملے پر تحریری جواب جمع کرائیں اور اٹارنی جنرل فوٹو لیک کے معاملے پر بھی اپنا جواب جمع کرائیں۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جس اخبار نے جو لکھنا ہے لکھے ٗ عدالت کسی سے خوفزدہ نہیں ٗ حکومتی ادارے عدالت کو جواب دینے کی بجائے پریس کانفرنس کرتے ہیں اور حکومت اپنے حق میں آرٹیکل چھپواتی ہے۔بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم یہاں نابالغ تو نہیں بیٹھے ہوئے جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیس کو میڈیا ٹرائل نہ بنایا جائے ٗ اخبار پڑھ کر لگتا ہے اٹارنی جنرل کی ضرورت نہیں۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے عدالتی کارروائی کو پوشیدہ رکھا جائے تاہم جے آئی ٹی رپورٹ کو خفیہ رکھیں گے اور تحقیقاتی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا جائیگا۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ تصویر لیک کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو عید کے بعد آئی بی سے متعلق جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ جواب عدالت سے پہلے میڈیا کو نہ جائے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالتی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت بینچ کی دستیابی سے مشروط ہوگی ٗبینچ کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے۔جس کے بعد عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت عید کی چھٹیوں کے بعد بینچ کی دستیابی سے مشروط کرتے ہوئے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سٹاک یکسچینج میں رمضان المبارک کے دوران دوسری دفعہ شدید ترین مندی دیکھی گئی ۔ دونوں بار ہی مندی اتنی شدید رہی کہ سرمایہ کاروں کے کروڑوں روپے ڈوب گئے۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی جے آئی ٹی کے روبرو پیشی کے موقع پر سٹاک مارکیٹ میں تاریخی کمی ہوئی تھی۔ حسین نواز کی تصویر لیک کے معاملے کا سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنایا جانا تھا ، جو سپریم کورٹ نے حسین نواز کیخلاف سنایا ہے۔ اس فیصلے کے پیش نظر بھی سرمایہ کاروں نے سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے سے زیادہ سرمایہ نکالنے میں دلچسپی لی جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 1679 پوائنٹس نیچے گر کر 44 ہزار 914 پوائنٹس پر آگیا۔ 100 انڈیکس میں اتنی شدید مندی کے باعث سرمایہ کاروں کے 296ارب روپے ڈوب گئے۔کے ایس ای 100 انڈیکس میں 13 کروڑ 51 لاکھ 95 ہزار 560 شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مارکیٹنگ ویلیو 10 ارب 36 کروڑ 3 لاکھ 98 ہزار 979 روپے رہی۔

مزید : صفحہ اول