قطر کی تنہائی کئی سال جاری رہ سکتی ہے: عرب امارات، پہلے پابندیاں ختم پھر مذاکرات: دوحہ

قطر کی تنہائی کئی سال جاری رہ سکتی ہے: عرب امارات، پہلے پابندیاں ختم پھر ...

دبئی ، منامہ ، دوحہ( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )متحدہ عرب امارات نے کہا ہے خلیجی عرب ممالک کیساتھ تنازع کے نتیجے میں قطر کی تنہائی کئی سال تک جاری رہ سکتی ہے، بحرین نے داعش کیخلاف جنگ کیلئے قائم اتحاد میں شامل قطری فوج کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیاجبکہ قطر نے کہا ہے وہ اسوقت تک عرب ممالک سے بات چیت نہیں کریگا جب تک عائد معاشی و سفری پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں،کسی کو اندرونی معاملے میں مداخلت کا حق نہیں ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت امور خارجہ انور قرقاش نے پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہم صورتحال کو زیادہ سنگین نہیں بلکہ قطر کو تنہائی کا شکار کرنا چاہتے ہیں،قطر سے عرب ممالک کو درپیش شکایات کی فہرست جلدتیار کرلی جائے گی، قطر کی سرگرمیوں کے جائزے کیلئے مغرب کا نگرانی کا نظام ہونا چاہیے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ قطر کے دہشت گردی سے متعلق کردار میں تبدیلی آچکی ہے،ترکی ابھی تک قطری بحران میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کررہا ہے اور توقع ہے انقرہ دانشمندی کا مظاہرہ اور اس بات کا ادراک کرے گا کہ اس کا مفاد دوحہ کیخلاف اقدامات کی حمایت سے وابستہ ہے،ادھربحرین نے داعش کیخلاف جنگ کیلئے قائم اتحاد میں شامل قطری فوج کو آئندہ 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا، یہ فوجی اہلکار امریکی نیول فورسز سینٹرل کمانڈ کا حصہ ہیں، جس کا ہیڈ کوارٹر بحرین میں موجود ہے۔ دوسری طرف قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے 'قطر پر پابندیاں عائد ہیں اسلئے کوئی بات چیت نہیں ہوگی،مذاکرات سے قبل پابندیاں ہٹانی ہونگی یہ ہماری شرط اولین ہے ۔ اگلے ہفتے اپنے دورہ امریکہ میں امریکی حکام کیساتھ تنازعے کے باعث قطر کی معیشت و دہشت گردی کیخلاف جنگ پر اثرات پر بات چیت کریں گے۔ ابھی تک پابندیوں کے اٹھائے جانے کی جانب کوئی پیش رفت نہیں دیکھی جا رہی اور یہ کسی قسم کے پیش رفت کی شرط اولین ہے۔ ابھی تک قطر کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں ملا ، چھ ملکی خلیجی تعاون کونسل کے متعلق امور پر ان سے بات چیت ہو سکتی ہے، جو چیزیں قطرسے متعلق نہیں ان پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی، کسی کو بھی ہمارے اندرونی معاملے میں مداخلت کا حق نہیں ہے،الجزیرہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے۔ علاقائی معاملے پر قطری خارجہ پالیسی ہمارا داخلی معاملہ ہے اور ہم اپنے داخلی امور پر بات چیت نہیں کریں گے۔ ہم مبہم مطالبات کو قبول نہیں کر سکتے۔

قطر بحران

مزید : علاقائی