انعام سحری کا شریف خاندان کیخلاف ہوئی انکوائری سے کتنا تعلق رہا؟

انعام سحری کا شریف خاندان کیخلاف ہوئی انکوائری سے کتنا تعلق رہا؟

تجزیہ:اجمل جامی

شریف خاندان کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے دعویدار برطانوی شہری انعام الرحمان سحری نے حالیہ دنوں مختلف ٹی وی پروگرامز میں دعوی کیا کہ ان کے پاس منی لانڈرنگ کی تحقیقات پر مبنی شریف فیملی کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔ لیکن قابل غور نقطہ یہ ہے کہ یہ انکوائری سابق وزیر داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے رحمان ملک نے کی تھی، انہیں اس انکوائری کے لئے اس وقت (انیس سو ترانوے) میں نگران وزیر اعظم معین قریشی نے کہا تھا۔ اگست، اکتوبر انیس سو اٹھانوے میں رحمان ملک نے صدر رفیق تارڑ کو اس انکوائری بارے خط بھی لکھا تھا۔ رحمان ملک کے انتہائی قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ انعام الرحمان سحری کا اس انکوائری سے کوئی براہ راست تعلق کبھی نہیں رہا تھا اور نہ ہی ان کے پاس متعلقہ ریکارڈ ہے۔ البتہ وہ رحمان ملک کے ماتحت مختصر وقت کیلئے ایف آئی اے کے پولیٹیکل اکنامک ونگ سے وابستہ ضرور رہے۔ انعام الرحمان بنیادی طور پر ریلویز پولیس کے سابق ایس پی رہے اور نیب زدہ ہیں۔ مشرف دور میں این آر او سے مستفید ہوئے۔ نیب نے ان کے خلاف دو ہزار دو میں اثاثوں کی مالیت کو ان کی انکم سے کہیں زیادہ قرار دے کر ریفرنس دائر کیا تھا۔ اور پھر دو ہزار سات میں انٹر پول کے ذریعے سحری سمیت پانچ ملزمان کے ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے۔ باوثوق ذرائع کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس سب کے باوجود رحمان ملک اپنے ماتحت افسر کیلئے نرم دل واقع ہوئے اور اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کیلئے بھی مطلوبہ لیٹر فراہم کیا۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر واقعی انعام رحمان کے پاس شریف فیملی کے خلاف ثبوت ہیں تو وہ جے آئی ٹی سے یا جے آئی ٹی ان سے رابطہ کیوں نہیں کرتی اور سحری خود پاکستان آنے سے گریزاں کیوں ہیں؟ انعام سحری کہیں ڈاکٹر تنویر زمانی یا منصور اعجاز سا کوئی کردار تو نہیں۔۔؟

مزید : تجزیہ