نئی افغان حکمت عملی پورے خطہ کو مد نظر کرھ کر بنائی جا رہی ہے ،جنوبی ایشیا میں تنازعات کا خاتمہ اولین ترجیح ہے :امریکہ

نئی افغان حکمت عملی پورے خطہ کو مد نظر کرھ کر بنائی جا رہی ہے ،جنوبی ایشیا ...

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)امریکی چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈنفورڈ نے کہا ہے امریکہ افغانستان کے بارے میں اپنی حکمت عملی کانئے سرے سے جائزہ لے رہا ہے وہ صرف اس ملک تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اسے مرتب کرتے وقت جنوبی ایشیاء کے پورے خطے میں اپنے مفادات کو ملحوظ رکھا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزنیشنل پریس کلب میں اپنے پالیسی خطاب میں کیا جبکہ اس موقع پر انہوں نے امریکی میڈیا کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ جنرل ڈنفورڈ نے خطاب میں دفاعی پالیسی کے خدوخال پر مزید وضاحت پیش کی اور کہا امریکی وزیر دفاع کی نگرانی میں انکا محکمہ افغانستان کے بارے میں حکمت عملی کا ٹرمپ دور میں پہلی بار مکمل جائزہ لے رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے انہیں افغانستان میں موجود امریکی فوج میں اضافے کا اختیار دے رکھا ہے۔ جنرل ڈنفورڈ نے نیشنل پریس کلب کے ارکان کو بتایا امریکی وزیر دفاع کا یہ اختیار وزیر خارجہ کے مشورے سے مشروط ہے اور افغانستان کے بارے میں جامع حکمت عملی کا اعلان جولائی کے وسط تک ہونے کا امکان ہے۔ جنرل ڈنفورڈ نے امریکہ کی آئندہ دفاعی پالیسی کے خدو خال بیان کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ افغانستان کے بارے میں حکمت عملی صرف اس ملک تک محدود نہیں ہو گی بلکہ جنوبی ایشیا کے پورے خطے میں امریکی مفادات کی ترجیحات کو بھی ملحوظ رکھا جائے گا، اس سلسلے میں امریکہ کی دو بنیادی ترجیحات ہیں جن میں سے ایک جنوبی ایشیاء میں تنازعات ختم کرنا جبکہ دوسری خطے میں موجود دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنا ہے ۔اسوقت دنیا بھر میں تسلیم شدہ بیس دہشت گرد تنظیموں میں سے سترہ جنوبی ایشیاء میں موجود ہیں جنہوں نے نائن الیون جیسا ایک اور حادثہ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے، ان تنظیموں پر امریکہ مسلسل گزشتہ پندرہ برس سے دباؤ رکھے ہوئے ہے جس کے باعث نائن الیون جیسے ایک اور سانحہ کو روک دیا گیا ہے۔نئی حکمت عملی مرتب کرتے وقت اس بات کا کم خیال رکھا جارہاہے کہ گزشتہ سولہ برس میں یہاں کیا ہوا ،ساری توجہ اس امر پر صرف کی جا رہی ہے کہ آ ج امریکی مفادات کا تقاضا کیا ہے اور خطے میں سفارتی ،اقتصادی اور فوجی مہم کے منصوبے انہی مفادات کے تحفظ کیلئے تیار کئے جائیں گے۔ جنرل ڈنفورڈ نے داعش کو مشرق وسطیٰ میں شکست دینے کے سوال کے جواب میں بتایا شام میں رقہ کے شہر کو واگذار کرانے کیلئے امریکہ ’’شامی جمہوری فورسز ‘‘ (ایس ڈی ایف) کی حمایت کر رہا ہے، ان فورسز کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے جن میں سے بیس سے پچیس ہزار عرب اور باقی کرد ہیں۔امر یکہ اتحادیوں کیساتھ مل کر مقامی جدوجہد سے رقہ کو آزاد کرانے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کی نگرانی میں وہاں ایک گورننگ باڈی قائم کریگا ۔ داعش پر تشدد انتہا پسندی کی نمایاں مثال ہے جس کا دائرہ مغربی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیاء تک پھیلاؤ ہوا ہے جو زیادہ تر عراق، شام اور افغانستان میں شہروں کو تباہ کر رہے ہیں۔ بیرونی رضا کاروں کی بھرتی اور آمد، وسائل کا بہاؤ اور انکے پیغامات کا پھیلاؤ انکے درمیان را بطے کا ذریعہ ہیں،ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خیال اقوام فوجی آپریشن موثر بنانے کی خاطر انٹیلی جنس اور معلو ما ت آپس میں شیئر کریں۔

مزید : علاقائی