صوبائی دارالحکومت :بچوں کے معمولی جھگڑوں پر 6روز میں خاتون سمیت 3افراد قتل

صوبائی دارالحکومت :بچوں کے معمولی جھگڑوں پر 6روز میں خاتون سمیت 3افراد قتل

لاہور( خبرنگار) صوبائی دارالحکومت میں بچوں کے معمولی جھگڑے پر 6 روز میں ایک خاتون سمیت تین افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔ تینوں واقعات میں 9 بچے یتیم ہو گئے۔ پولیس کسی ایک واقعہ میں بھی ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے اور لواحقین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ باغبانپورہ کے علاقہ سراج پورہ میں میں بچوں کی معمولی بات پر معاملہ بڑوں تک پہنچ گیا، جس پر خوشی محمد اور اس کے بیٹے اقبال نے شمیم اختر کو بیٹوں ندیم اور وسیم کو پولیس کے ہاتھوں گرفتار کروا دیا۔ شمیم اختر آگے بڑھی تو ملزمان خوشی محمد اور اقبال وغیرہ کی مار پیٹ اور تشدد کی زد میں شمیم اخترآ گئی اور تشدد سے اس کی حالت غیر ہو جانے پر وہ ہلاک ہو گئی۔ پولیس 6 روز گزرجانے کے باوجود تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ عمر رسیدہ خاتون کو قتل کیا گیا۔ پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ اسی طرح تھانہ باغبانپورہ کے عقب میں بچوں کے معمولی جھگڑے پر ذوالفقار ہیرا کو قتل کیا گیا جس میں ملزمان نذیر خان وغیرہ تاحال مفرور ہیں ۔ اس واقعہ میں بچوں کی معمولی لڑائی پر ملزمان نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر صلح کی، اس کے باوجود ملزمان نذیر خان اور یاسر خان وغیرہ نے دل میں رنجش رکھی اور ذوالفقار ہیرا کو گھر سے بلا کر خنجروں کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتارا۔ اس واقعہ میں ذوالفقار ہیرا کے دو بھائی افتخار احمد اور اللہ دتہ کو ملزمان نے خنجروں کے وار کر کے زخمی بھی کیا۔ پولیس چار روز گزرجانے کے باوجود تاحال ملزمان گرفتار نہیں کر سکی۔ مقتول ذوالفقار ہیرا کے والد لیاقت علی اور عمر رسیدہ والدہ نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس نے خاموشی اختیارکر رکھی ہے، جس پر ملزمان ان کے دونوں بیٹوں افتخار اور اللہ دتہ کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور انصاف کے لئے کبھی تھانہ اور کبھی ایس پی کے دفتر میں چکر لگا رہے ہیں اور در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود انصاف نہیں مل رہا ہے۔ جبکہ دو روز قبل شادباغ کے علاقہ میں بھی بچوں کے معمولی جھگڑے پر پراپرٹی ڈیلر ناصر کو قتل کر دیا گیا ۔ پولیس کے آنے سے چند منٹ قبل ملزمان فرار ہوئے اور دو دن گزر جانے کے باوجود پولیس یاسر وغیرہ ملزموں کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔ مقتول ناصر کے بھائی اکرم، اصغر ، عمر رسیدہ والدہ اور عزیز و اقارب نے ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ ملزمان نے علاقہ کے چیئرمین کے ڈیرے پر صلح کی۔ اس کے باوجود فائرنگ کر کے ناصر کو زخمی کر دیا۔ پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے اور انصاف کے لئے کبھی ہومی سائیڈ اورکبھی انچارج انویسٹی گیشن اورکبھی ایس ایچ او کے پاس چکر لگا رہے ہیں اور واقعہ کے خلاف نعش سڑک پر رکھ کر بھی انصاف کا مطالبہ کیا۔ اس کے باوجود ملزمان فرار ہیں اور الٹا ملزمان بااثر افراد کے ہاتھوں ٹیلی فونز کالیں کروا کر ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مداخلت کر کے انصاف دلائیں تو انصاف مل سکے گا وگرنہ انصاف کی اُمید نہ ہے۔ تینوں واقعات میں 9 بچے یتیم ہو گئے ہیں اور پولیس حکام کی تمام تر تسلیوں کے باوجود ملزمان فرار ہیں۔

مزید : علاقائی