سیاست ، کھیل اورجنگ

سیاست ، کھیل اورجنگ
 سیاست ، کھیل اورجنگ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیاست اور کھیل ، جنگ نہیں ہوتے (مگر انہیں جنگ بناد یا جاتا ہے)۔ جنگ تو شروع ہی وہاں ہوتی ہے جہاں سیاست ناکام ہوجائے، سیاستدان ناکام ہو جائیں، دنیا بھر کی تاریخ اٹھاکے پڑھ لیں کہ جب جنگ ختم ہوجاتی ہے تو ایک مرتبہ پھر سیاست ہی شروع ہوتی ہے۔ تاریخ ایسے سیاستدانوں سے بھری پڑی ہے جو لڑائی کے میدان میں ہاری ہوئی فوجوں کوسیاست کے ذریعے جتوادیتے ہیں، ہاں، ایسے بھی ہوتے ہیں جو جیتی ہوئی جنگیں سیاست کے میدان اور مذاکرات کی میز پر ہار دیتے ہیں، یہاں بات صلاحیتوں کی ہے، کمٹ منٹ کی ہے، جذبے کی ہے۔

پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کا فائنل بھارت کو’ عبرت ناک‘ شکست دیتے ہوئے جیت لیا ہے، بھارت کے کھلاڑی تاش کے پتوں اور ریت کی دیوار کی طرح ڈھے رہے تھے تو اسے عبرت ناک اور شرم ناک ہی کہا جا سکتا ہے مگرجب ہم کھیل میں ایسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں تو ہم اسے جنگ ہی بنا دیتے ہیں، سوشل میڈیا نے دنیا کو واقعی ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے، اب ٹوئیٹر اور فیس بک پرپاکستانی اور بھارتی ایک دوسرے کے ساتھ یوں مکالمہ کرتے ہیں کہ اتنا آسان مکالمہ تو گنڈا سنگھ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب کے دوران بھی نہیں ہوتا ہو گا جب ایک ہی سڑک پر ایک طرف ہم پاکستانی اور دوسری طرف بھارتی بیٹھے ہوتے ہیں،ان کے سامنے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر ہوتی ہے اور ہمارے سامنے گاندھی جی کی۔ کھیل کو جنگ بنانے میں ہم پاکستانیوں سے کہیں زیادہ بھارتیوں کی انتہا پسندی نے کردارادا کیا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی طورپڑھی لکھی کلاس بھارت سے جنگ کی حامی دکھائی نہیں دیتی، مگر بھارتی ٹی وی چینلوں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں گِٹ پِٹ انگریزی بولتی لڑکیاں اورممی ڈیڈی نظر آنے والے لڑکے بھی پاکستان کو صفحہ ہستی مٹا دینے کی باتیں کرتے ہیں۔ رشی کپور جیسے اداکار، جن کی فین فالوئنگ پاکستان میں بھی رہی ہے اسی زعم میں رہتے ہیں کہ فادرز ڈے پر ہنددستان، پاکستان کو ایسے لتاڑ دے گا جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے کو پھینٹی لگاتا ہے، پھر ان کو جواب ملتاہے کہ ’ ب‘ سے بھارت اور ’ ب‘ سے ہی بیٹا،’پ‘ سے پاکستان اور ’پ‘ سے ہی ’پاپا‘ بنتے ہیں، بہرحال یہ تو ان کی زبان اور انداز میں ہی ایک جوابی بیان ہو گیا ورنہ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک سکھ نوجوان کی ریکارڈ کی ہوئی ویڈیو گردش کر رہی ہے جو اپنے بھارتی ٹی وی چینلوں کے اینکروں کو آئینہ دکھا رہا اور بتا رہا ہے کہ تمہارے دعووں کے جواب میں پاکستانی کرکٹ نے ایسے ’’ شِتر‘‘ مارے ہیں جو بہت برس تک یاد رہیں گے، یعنی بلند بانگ دعووں اور نعروں کا جواب بھارت کو اپنی دھرتی اور اپنے سپوتوں سے مل رہا ہے۔ اگر یہ لفظی جنگ اخلاقیات اورمزاح کے دائرے میں رہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ اسے ہی اختلاف رائے کہتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ یہ لڑائی تمام اخلاقی حدود پار کرجاتی ہے۔

بھارتیوں نے ناکامی پر اپنے ٹی وی سیٹ توڑے، عین ممکن ہے کہ کسی کھلاڑی کے گھر پر کوئی حملہ بھی کردیا جائے اور اگر پاکستان ہار جاتا تو کچھ اسی قسم کے مناظر یہاں بھی ہوتے، میں کرکٹ کے ہیروز کا اپنے اپنے آبائی علاقوں میں ہونے والا والہانہ استقبال ٹی وی سکرینوں پر دیکھ رہاہوں اور سوچ رہا ہوں کہ اگر ہماری ٹیم ہار جاتی تو ہمارے کھلاڑی وطن واپسی کے لئے ان فلائٹوں کا انتخاب کرتے جو رات کے آخری پہر لینڈ کرتیں اور اس کے بعد بھی اگر وہ برقعہ پہن کر باہر نہ بھی نکلتے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جوانوں سے درخواست ضرورکرتے کہ انہیں حج ٹرمینل سے باہر نکال دیا جائے، یعنی کھیل بھی محبت اور نفرت کی جنگ بن چکاہے۔پاکستان میں پی ایس ایل کو لانے والے نجم سیٹھی بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ لندن میں موجود تھے کہ وہاں مبینہ طور پر تحریک انصاف کے کچھ کارکنوں نے ان پر حملہ کر دیا،ا نہیں دھکے دئیے گئے اور بدکلامی کی گئی، ہم بہت آسانی سے اسے پاکستانی کمیونٹی کا سخت ردعمل سمجھ لیتے اگر پاکستان بھارت کے مقابلے میں چیمپئنر ٹرافی کا فائل ہار گیا ہوتا،مگر تاریخ میں پہلی مرتبہ چیمپئنز کا چیمپئن بننے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جس مینجمنٹ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے اسے محض اپنے سیاسی بغض اور عداوت کی بنیاد پر توہین کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔موجودہ دور میں یہ ڈس کریڈٹ عمران خان کوجاتا ہے کہ انہوں سیاسی اختلاف کوسیاسی اورنظریاتی نہیں رہنے دیا،اسے ذاتی اور خاندانی دشمنی کی شکل دے دی ہے۔نجانے ہم اتنے مہذب کب ہوں گے کہ اختلاف کرنے والوں سے مقابلہ دلائل سے کریں گے، مگر فی الوقت یہاں کردار کشی کا سہارا لیا جاتا ہے اور کردار کشی دلیل میں ناکام ہونے کا اظہار ہے۔ جب ایک سیاسی جماعت کے کارکن دھکے اور گالی دیتے ہیں تو یہ اس امر کا ثبوت ہوتا ہے کہ ان کے پاس سچ اور دلیل کا فقدان ہے۔ انہیں مکالمہ نہیں سکھایا جا رہا ،مکالمے کا فقدان منہ کالا بھی کرتا ہے اورتڑوا بھی دیتا ہے ۔اب تو یہ باتیں کتابوں اور بزرگوں تک ہی محدود رہ گئی ہیں کہ نظریاتی اختلاف رکھنے والے ڈائیلاگز کیا کرتے تھے، بتایا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر سید منور حسن ، جمعیت جوائن کرنے سے پہلے، سرخ انقلاب کے حامی تھے اور جمعیت کی محفلوں میں اس لئے شرکت کرتے تھے کہ ان کی حکمت عملی اور دلائل کا توڑ نکال سکیں مگر خود جماعت اسلامی کی سیاست اور مولانا مودودیؒ کے نظریات کے اسیر ہو گئے۔ مَیں اپنے ٹی وی پروگراموں کو مکالمے کی شکل تسلیم کرنے پر بوجوہ تیار نہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان معاشرے کو انتہائی حدوں تک لے جانے کی اپنے تئیں کئی کوششیں کر چکے ، وہ ایک سے زائد مرتبہ سیاسی مخالفین کے سوشل بائیکاٹ کی کال دے چکے ، وہ حکومت کو ناکام بنانے کے لئے سول نافرمانی اور ہنڈی کے ذریعے روپوں کی منتقلی کی اپیل بھی کر چکے ، کیا یہ امر ایک لطیفہ نہیں ہے کہ و ہ پاناما لیکس میں شریف خاندان کی ایک مبینہ منی لانڈرنگ کو بنیاد بنا کے نااہل کروانے کے درپے ہیں ، وہ شریف خاندان کی پیش کر دہ منی ٹریل قبول کرنے پرآمادہ نہیں،مگر دوسری طرف وہ خود پوری قوم کو یہی کام کرنے کی تلقین کر چکے ہیں۔

میرے خیال میں یہی وہ وقت ہے کہ پاکستانی قوم کی طرف سے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا جائے، ہماری طرف سے ایک ایسا پیغام بھارت کی طر ف جائے جو واقعی چیمپئنز کے شایان شان ہو ، انہیں بتایا جائے کہ ہم کھیل کو کھیل ہی سمجھتے ہیں ، سیاست اور جنگ میں فرق کا ادراک رکھتے ہیں۔ ہم دوست اور دشمن تو بنا بھی سکتے ہیں اور تبدیل بھی کر سکتے ہیں، مگر ہمسائیوں کے سلسلے میں کسی کوبھی یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔باشعور اقوام پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرتی ہیں، مگر جو لوگ اس قیمتی اور زریں اصول کو مک مکا اور فراڈ سمجھتے ہیں وہ جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جاتے ہیں، جہاں وہ اپنے سے کمزوروں کو ہڑپ کرتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ کوئی دوسرا طاقت ور انہیں ہڑپ کر جاتا ہے۔

مزید : کالم