نئی دلی، 5ہزار سے زائد ہاتھی مندروں میں قید ہیں،وائلڈ لائف کا انکشاف

نئی دلی، 5ہزار سے زائد ہاتھی مندروں میں قید ہیں،وائلڈ لائف کا انکشاف
 نئی دلی، 5ہزار سے زائد ہاتھی مندروں میں قید ہیں،وائلڈ لائف کا انکشاف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہاتھی سے لے کر بندر تک اور سانپ سے لے کر چوہے تک، شاید ہی کوئی ایسا جانور ہو، جس کی بھارت میں پوجا نہ کی جاتی ہو۔ اکثر مندروں میں جانوروں کو قید رکھا جاتا ہے تاکہ لوگ ان کے آگے ماتھا ٹیک سکیں اور ان کی پوجا کر سکیں لیکن ان مقید جانوروں کے ساتھ اکثر اوقات انتہائی ناروا سلوک بھی روا رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں وائلڈ لائف ایس او ایس اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگوں نے ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک مندر سے ہاتھی کو ’عمر قید‘ سے رہائی دلوائی ہے جومندر میں انتہائی مخدوش حالت میں پابہ زنجیر تھا۔میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس ہاتھی کا نام گجراج ہے۔ گجراج کے معنی ’ہاتھیوں کا بادشاہ‘ کے ہیں۔ اس کی عمر 70سے 75سال ہے اور یہ گزشتہ 58سال سے پونے کے مضافاتی علاقے اوندھ کے یامی دیوی مندر میں انتہائی تنگ جگہ پر قید تھا۔ گجراج ابھی بچہ تھا جب اسے جنگل سے پکڑ کر یہاں لایا گیا اور تشدد کرکے رام کیا گیا اور پھر زنجیریں ڈال کر مندر میں باندھ دیا گیا۔ تب سے یہ زنجیروں میں جکڑا زندگی گزار رہا تھا۔جب وائلڈ لائف کے اہلکار اور فلاحی کارکن اسے چھڑانے آئے تو 500سے زائد لوگوں نے راستہ روک لیا اور ٹیم پر پتھرآ شروع کر دیا، جس پر اہلکاروں کو پولیس بلانی پڑ گئی۔ پولیس کی مدد سے اسے چھڑا کر وائلڈلائف پارک میں لیجا کر چھوڑ دیا گیا۔

کھلی فضاء میں جاتے ہی جیسے گجراج میں زندگی لوٹ آئی ہو، وہ مٹی کو سونڈ میں بھر بھر کر اپنے جسم پر ڈالنے لگا اور ادھر ادھر دوڑنے لگا۔ وائلڈ لائف ایس او ایس کے آفیسر کارتیک ستیانارائن کا کہنا تھا کہ ’’یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ لوگ ہاتھیوں کی پوجا کرتے ہیں لیکن اسے آزادانہ زندگی گزارتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس وقت بھارت میں 5ہزار سے زائد ہاتھی مندروں میں قید ہیں۔ ان میں سے 600صرف ریاست کیرالہ میں مقید ہیں۔‘‘

مزید : میٹروپولیٹن 4