تیزی سے پھیلتاتجارتی خسارہ تشویشناک، جلد کنٹرول کیا جائے:لاہورچیمبر

تیزی سے پھیلتاتجارتی خسارہ تشویشناک، جلد کنٹرول کیا جائے:لاہورچیمبر

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر امجد علی جاوا اور نائب صدر محمد ناصر حمید خان نے تیزی سے پھیلتے تجارتی خسارے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خزانہ اور وزارت تجارت پر زور دیا ہے کہ وہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان عدم توازن دور کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائیں بصورت دیگر اس خراب ہوتے اہم معاشی اشاریے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی بہت تشویشناک ہے کیونکہ اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ملک صنعتکاری کے بجائے ٹریڈنگ کا مرکز بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے گیارہ کے دوران تجارتی خسارہ 30ارب ڈالر کے لگ بھگ پہنچ گیا جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 42.12فیصد زیادہ ہے۔ مزید پریشان کن بات یہ ہے کہ اسی عرصہ کے دوران برآمدات میں بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں 3.13فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے میں اس قدر بھاری اضافہ بہت تشویشناک ہے جس پر قابو پانے کے لیے ابھی ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے گئے تو صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ غیرضروری اشیاء کی درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات سے وابستہ شعبوں کو ان کے ریفنڈ کلیمز فوراًادا کیے جائیں تاکہ وہ مالی مشکلات سے باہر نکل سکیں۔ امجد علی جاوا اور محمد ناصر حمید خان نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانے ملکی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے کام اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیں۔

انہوں نے کہا کہ افریقہ اور جنوبی افریقہ سمیت غیر روایتی منڈیوں پر توجہ دی جائے اور برآمدات سے وابستہ شعبے کو ریلیف دیا جائے تاکہ یہ عالمی تجارت میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکے۔انہوں نے کہاکہ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان درآمدات اور برآمدات کے درمیان بھاری عدم توازن کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا اس اہم مسئلے پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔

مزید : کامرس