پاکستان کی امپورٹ پالیسی ضرورت سے زیادہ آزاد ہے ،شاہد رشید بٹ

پاکستان کی امپورٹ پالیسی ضرورت سے زیادہ آزاد ہے ،شاہد رشید بٹ

اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کی امپورٹ پالیسی ضرورت سے زیادہ آزاد ہے جسکی موجودگی میں تجارتی خسارے میں کمی، مینوفیکچرنگ ، زراعت، ایس ایم ایزاور نجی سرمایہ کاری میں بہتری اور برامدات میں اضافہ نا ممکن ہے۔ لبرل امپورٹ پالیسی ملکی معیشت کبھی بھی سنبھلنے نہیں دے گی۔ شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایک طرف تو درجنوں ممالک کو اپنا مال پاکستان میں ڈمپ کرنے کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے جس میں ایسی اشیاء بھی شامل ہیں جن کی ملک میں کوئی کمی نہیں جبکہ دوسری طرف مینوفیکچرنگ، زراعت اور ایس ایم ای کے شعبوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ سرکاری حکام اور برامدی شعبہ کی ساری توجہ ٹیکسٹائل اور خام مال کی برامد پر مرکوز ہے جبکہ ویلیو ایڈیشن کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس سے اکثر ادائیگیوں کے توازن کی صورتحال تشویشناک ہو جاتی ہے۔ حکومت مختلف ایم شعبوں کی ترقی کے اعلانات کو کرتی ہے مگر اس پر عمل درامد نہیں ہوتا جبکہ برامدات میں تنوع پیدا کرنے کی تمام کوششین بیانات تک محدود ہیں۔ حکومت ایسی بیوروکریسی کی مدد سے صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے جنھیں معیشت، مقامی صنعتوں، رزاعت، ایس ایم ای سکیٹر کی ترقی،برامدی شعبہ اور انکے مسائل ، بین الاقوامی تجارت، نئی منڈیوں اور ملکی ساکھ کا نہ علم ہے نہ زرہ برابر دلچسپی ہے ۔

شاہد رشید بٹ نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک نے ویلیو ایڈیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبہ کو توجہ دے کر مثالی ترقی کی ہے مگر ہماری بیوروکریسی اور نجی شعبہ کا کوئی وژن نہیں ہے۔ موجودہ بجٹ میں بھی ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جو اقتصادی ترقی کے راستے میں حائل رکاوٹوں سے عہدہ براہ ہونے میں مدد دیں۔ غیر ضروری درامدات کی حوصلہ شکنی کی جتنی ضرورت آج ہے کبھی نہ تھی تاکہ معیشت ترقی کر سکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ٹی ڈیپ نامی کے غیر فعال ادارے کو ختم کر کے ایکسپورٹ پروموشن کمپنیاں بنائی جائیں جن میں سے ہر کمپنی ایک برامدی شعبہ کی ترقی کی ذمہ دار ہو اور ان میں نجی شعبہ کی بھرپور شرکت یقینی بنائی جائے۔ توانائی کے منصوبوں اور سڑکوں کے ساتھ انسانی وسائل کو بھی ترقی دی جائے تاکہ معیشت کی سمت درست کی جا سکے۔ #/s#

مزید : کامرس