پان پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے پر درآمدکنندگان کی تنقید

پان پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے پر درآمدکنندگان کی تنقید

لاہور ( کامرس رپورٹر) حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں پان پرریگولیٹری ڈیوٹی کی مد میں 2سوروپے فی کلواضافہ کئے جانے کے بعد ’آل پاکستان پان درآمدگان ایسوسی ایشن‘ کا اجلاس منعقدہوا۔ جس کے شرکاء نے حکومت کے اس فیصلے کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس کی صدارت ’آل پاکستان پان درآمدکندگان ایسوسی ایشن ‘ کے صدرمحمد اسلم کررہے تھے۔ محمد اسلم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بھی پان پرڈیوٹی 3 سو سے بڑھا کر 6سو روپے کردی گئی تھی، جس سے گٹکے کی سمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا اور انتہائی خطرناک گٹکہ سکول کے بچوں تک پہنچ گیا۔ دوسری جانب اگردیکھا جائے توپان کی امپورٹ سے ریونیوکی مد میں حکومت کے خزانے میں کثیررقم جمع ہوتی تھی، اب اس میں کمی آجائے گی۔ اس نئے ٹیکس کے اطلاق سے نہ صرف پان کی درآمد شدید متاثرہوگی ، بلکہ اس کاروبار سے وابستہ لاکھوں لوگ بے روزگاربھی ہوجائینگے۔

یہ بات توسب کومعلوم ہے کہ پان کا کاروبار کرنے والے گلی ، محلوں ، چوراہوں میں چھوٹی چھوٹی دکانیں چلاکر اپنا اوراپنے کنبے کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اس لئے ہماری وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف سے اپیل ہے کہ وہ اس ٹیکس کے خاتمہ کیلئے ہنگامی بنیادوں پرایکشن لیں، تاکہ غریب اورمزدورطبقہ اپنے اس روزگارسے محروم نہ ہوسکے۔

مزید : کامرس