تجارتی معاہدوں کے زریعے برامدات بڑھانے کی حکمت عمل ناکام ہو گئی :عاطف اکرام

تجارتی معاہدوں کے زریعے برامدات بڑھانے کی حکمت عمل ناکام ہو گئی :عاطف اکرام

اسلام آباد (آن لائن)ایف پی سی سی آئی کی ریجنل کمیٹی برائے صنعت کے چئیرمین عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک سے تجارتی معاہدوں کے زریعے برامدات بڑھانے کی حکمت عمل ناکام ہو گئی ہے ۔ حکومت جس رفتار سے آزادانہ تجارت اور ترجیحی تجارت کے معاہدے کر رہی ہے اسی رفتار سے درآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ برامدات میں کوئی اضافہ نہیں ہو جبکہ حکومت کو محاصل کی مد میں اکتالیس ارب روپے کا نقصان الگ ہوا۔ ان ناقص معاہدوں سے مقامی صنعت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات اسکے علاوہ ہیں۔عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ تمام تجارتی معاہدوں پر فوری نظر الثانی کی جائے جبکہ ترکی اور تھائی لینڈ سے ہونے والے آزادانہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد فوری طور پر روکا جائے۔

ان دونوں ممالک سے ہونے والے آزادانہ تجارتی معاہدوں کو نجی شعبہ سے ان پٹ لے بغیر فائنل نہ کیا جائے ورنہ ملک کو پہنچنے والے نقصان میں مزید اضافہ ہو گا۔ایک اندازے کے مطابق دوست ملک ترکی سے آزادانہ تجارتی معاہدے کی صورت میں پاکستان کو دو سو فیصد نقصان ہو گا یعنی اگر ایک کروڈ الر کا مال برامد کیا جائے گا تو جواب میں ترکی تین کروڈ ڈالر کا مال پاکستان بھیجے گا جو سراسر نقصان کا سودا ہے۔ اسی طرح تھائی لینڈ سے معاہدے کی صورت میں تین سو فیصد نقصان ہو گا یعنی ایک کروڈ ڈالر کی برامد کے بدلے میں چار کروڑ ڈالر کی درامد کرنا ہو گا۔ عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ گیارہ ماہ کا تجارتی خسارہ تیس راب ڈالر ہو گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تجارتی معاہدوں سے نہ تو ملک کو کوئی فائدہ، نہ برامدات میں اضافہ اور ہوا نہ مقامی صنعت کا بھلا ہوا تاہم پاکستان میں غیر ملکی اشیاء کی درامدات خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں جس سے گزشتہ تین سال کے دوران معاشی بہتری کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ #/s#

مزید : کامرس