کراچی حلقہ114۔صوبائی ضمنی الیکشن، سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا امتحان!

کراچی حلقہ114۔صوبائی ضمنی الیکشن، سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا امتحان!

بات ہو گی کراچی کے حلقہ پی ایس 114 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی، جس کے لئے 9جولائی کو پولنگ ہو گی، مگر پہلے ذکر اس قومی خوشی کے جشن کا جو مُلک بھر کی طرح وادئ مہران میں بھی بڑے شہروں سمیت صوبہ کے تحصیل اور قصبوں کی سطح تک کے کوچہ و بازارمیں بلا امتیاز ، زبان و نسل ومسلک حتیٰ کہ مذہب پوری قوم نے اس طرح منایا جیسے منایا جانا چاہئے تھا۔ اس طرح کے خوشی و غم کے تہواروں کو منانے کے انداز کو اُردو زبان میں طنزو مزاح کی ’’اقلیم‘‘ کے بے تاج بادشاہ مرحوم سید ضمیر جعفری ’’پہچان کا لمحہ‘‘ قرار دیا کرتے تھے۔ بلاشبہ کھیل کو کھیل ہی سمجھنا چاہئے، مگر جب مدمقابل مُلک ’’باپ‘‘ بننے پر تُل جائے تو زندہ قومیں جواب میں اسی طرح جشن کے ذریعے دشمن کے دھول چاٹنے کا منظر انجوائے کیا کرتی ہیں، اللہ کرے ہم بحیثیت قوم تمام شعبہ ہائے زندگی بشمول سیاست اور اندازِ حکمرانی میں بھی اپنے رویوں سے قومی وقار کو سربلند رکھنے کے طور طریقے اپنانے کے سفر کی طرف چلنے میں بھی کامیاب ہو جائیں(آمین)۔

اب بات کرتے ہیں کراچی کے حلقہ پی ایس114 کے ضمنی انتخاب کی۔جہاں مسلم لیگ(ن) کے عرفان اللہ مروت 2013ء میں دس جماعتی اتحاد کے مشترکہ امیدوار کے طور پر ایم کیو ایم کے امیدوار رؤف صدیقی کو شکست دے کر کامیاب ہوئے تھے۔2013ء میں عرفان اللہ خان مروت کو 37000 ووٹ پڑے تھے اور ایم،کیو، ایم کے امیدوار کو3000ووٹ پڑے۔ تحریک انصاف کے امیدوار کو 13ہزار ووٹ اور پیپلزپارٹی کے امیدوار کو 3000 سے کچھ زیادہ ووٹ پڑے۔ ایم کیو ایم کے رؤف صدیقی عرفان اللہ خان مروت کے خلاف بے قاعدگیوں اور بوگس ووٹنگ کی شکایات لے کر الیکش پٹیشن میں گئے تھے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے بعد رؤف صدیقی سندھ اسمبلی کے اندر اور عرفان اللہ خان مروت اسمبلی سے باہر ہو گئے تھے۔ بعدازاں عرفان اللہ خان مروت کی پٹیشن کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے 2013ء کے انتخابی نتیجے کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ پولنگ کا حکم جاری کیا ہے۔

عرفان اللہ خان مروت اب مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ چکے ہیں۔ جناب آصف علی زرداری تو ان کو پیپلزپارٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے، مگر اپنی بیٹیوں اور اپنے بعض دیگر ذاتی دوستوں کے شدید دباؤ میں اس فیصلے کو واپس لینے پر مجبور ہو گئے جس کی وجہ سے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے اپنے نہایت وفادار جیالے رہنما جناب سینیٹر سعید غنی کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ 2013ء میں دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت ایم کیو ایم نے رؤف صدیقی کی جگہ پارٹی میں نو وارد کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دیا ہے۔ تحریک انصاف نے بھی2013ء میں اپنے امیدوار اسرار عباسی کو تبدیل کر کے پارٹی کے بانی رکن اور2013ء کے پارٹی الیکشن میں مرکزی نائب صدر منتخب ہونے والے نجیب ہارون کو ٹکٹ دیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کا ٹکٹ کراچی میں پارٹی کے پرانے رہنما علی اکبر گجر کو دیا گیا ہے،جبکہ جماعت اسلامی نے اپنے پرانے کارکن اور حلقہ کے مقامی رہنما ظہور جدون کو ٹکٹ دے کر میدان میں اتارا ہے، جماعت اسلامی کے ظہور جدون 2002ء کے انتخاب میں بھی اس حلقے سے امیدوار تھے 2002ء میں پہلی پوزیشن مسلم لیگ (ق) کے امیدوار عرفان اللہ خان مروت کی، دوسری پوزیشن ایم کیو ایم کے امیدوار کی اور تیسری پوزیشن جماعت اسلامی کے امیدوار کی رہی تھی،ہر امیدوار کے ووٹوں کے فرق کا تناسب 2000 سے 3000 ووٹوں کے درمیان تھا۔2008ء میں جماعت اسلامی نے بائیکاٹ کی پالیسی اپنائی تھی اور 2013ء کے انتخاب میں جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سندھ کی سطح پر دس جماعتی اتحاد کا حصہ تھی یہ صوبائی نشست مسلم لیگ (ن) کے عرفان اللہ خان مروت کے حصہ میں آئی جبکہ اس حلقے کی قومی اسمبلی کی نشست جماعت اسلامی کے امیدوار زاہد سعید کو ملی تھی۔ 2013ء میں دوپہر بارہ بجے کے بعد جماعت اسلامی نے اگرچہ انتخاب کا کراچی میں بائیکاٹ کر دیا تھا، مگر اس کے باوجود بارہ بجے تک جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی کے امیدوار زاہد سعید کو27ہزار ووٹ پڑے تھے ان27ہزار ووٹوں میں حلقہ پی ایس114 سے زاہد سعید کو 20ہزار ووٹ پڑے تھے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس حلقہ میں آباد اُردو بولنے والی برادری جمعیت پنجابی سوداگران دھلی کا جماعت اسلامی کے امیدوار زاہد سعید کی حمایت بھی تھی اور عرفان اللہ خان مروت کا کھل کر نہال ہاشمی کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ دس جماعتی اتحاد میں شامل جماعت کے امیدوار کا ساتھ دینا تھا۔ (یہاں یہ ذکر نامناسب نہ ہو گا کہ2013ء کے انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کی ایک بااثر شخصیت نے دس جماعتی اتحاد کے فیصلے کے برعکس شہباز شریف کے دستخطوں سے نہال ہاشمی کو مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ جاری کرا دیا تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کی بڑی جگ ہنسائی ہوئی تھی۔ نہال ہاشمی بعدازاں انہی کی بدولت پنجاب کے سینیٹر بننے میں کامیاب ہوئے تھے)۔

9جولائی کو حلقہ کے ووٹر کس جماعت کے امیدوار کے حق میں فیصلہ صادر کریں گے؟ فی الوقت اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہو گا اس کا صحیح اندازہ عید کے بعد چلنے والی انتخابی مہم کے بعد ہی ہو سکے گا۔اگرچہ حلقہ میں27امیدوار حصہ لے رہے ہیں، مگر جن کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ ان میں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں۔ بڑی جماعتوں کے امیدواروں میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی اور جماعت اسلامی کے امیدوار ظہور جدون حلقہ114 کے رہائشی ہیں جبکہ ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کی رہائش حلقہ سے باہر کی ہے ، سر دست مقابلہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان نظر آ رہا ہے۔اگرچہ عرفان اللہ خان مروت نے تحریک انصاف کے امیدوار انجینئر نجیب ہارون کی حمایت کا اعلان کیا ہے، اس نامہ نگار کو نجیب ہارون نے بتایا ہے کہ عرفان اللہ خان مروت تو کھل کر ان کی حمایت میں اتخابی مہم چلا رہے ہیں، مگر ان کا خیال ہے کہ پاک سرزمین پارٹی بغیر اعلان کے ان کی حمایت ضرور کرے گی۔ واضح رہے جناب نجیب ہارون کے ذاتی دوست اور تحریک انصاف کے سابق صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل سید حفیظ الدین اس وقت پاک سرزمین پارٹی میں موجود ہیں، ممکن ہے کہ انہوں نے نجیب ہارون کو کوئی یقین دہانی کرائی ہو، جس کی وجہ سے پاک سرزمین پارٹی کی حمایت پر ان کو اتنا اعتماد ہے۔ البتہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ پاک سرزمین پارٹی ضمنی انتخاب سے الگ تھلک رہ کر تحریک انصاف کے امیدوار کی مدد کیسے کر پائے گی؟ جبکہ ایم کیو ایم لندن گروپ نے اپنے ’’وفا پرستوں‘‘ کو ضمنی انتخاب کے بائیکاٹ کا حکم دے کر الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس کا امکان تو موجود ہے کہ لندن کے ’’وفا پرستوں‘‘ کے بائیکاٹ کا نقصان ایم کیو ایم پاکستان کے امیدوار کامران ٹیسوری کو پہنچ جائے، مگر اس کا امکان کم ہے کہ الطاف حسین کے کسی باغی دھڑے کا کوئی فائدہ تحریک انصاف یا کسی اور جماعت کے امیدوار کو پہنچے۔ البتہ نجیب ہارون کی انتخابی مہم میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آمد کی وجہ سے حلقہ کی انتخابی مہم میں جان ضرور پڑگئی۔ البتہ اس وقت تک ان کی انتخابی دوڑ میں پوزیشن نمبر ون والی نظر نہیں آ رہی ہے، جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار سینیٹر سعید غنی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ وہ اِس حلقے کے قدیمی جدی پشتی باشندے ہیں اور ذاتی حیثیت میں حلقہ کے عوام کے دُکھ درد میں شریک رہنے والے رہنما سے زیادہ سیاسی کارکن ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار نجیب ہارون اگرچہ حلقہ کے تمام امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ پڑھے لکھے اور ذاتی شخصی خوبیوں کی وجہ سے ہر حلقے میں عزت و احترام رکھتے ہیں،مگر اس حلقے کے زمینی حقائق ایسے ہیں جن کی وجہ سے ان کو نمبر ون کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے ابھی بہت زیادہ بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی،مخصوص حلقے میں عمران خان کا دورہ کرنا کافی نہیں ہے۔1988ء سے2013ء تک ہونے والے تمام انتخابات میں پڑنے والے ووٹوں کا الیکشن کمیشن کی جاری کردہ رپورٹوں کے جائزہ سے تجزیہ کریں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اس حلقے میں ایک بڑا ووٹ بنک اُردو زبان بولنے والوں کا ہے جس کی اکثریت 1988ء سے2013ء تک ایم کیو ایم کے ساتھ گئی ہے۔

اس ضمنی انتخاب میں لندن گروپ کا بائیکاٹ اُردو بولنے والے ووٹروں کو گھروں میں رہنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ایم کیو ایم کو اپ سیٹ ہو گا، بصورت دیگر مقابلہ اس وقت ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان ہی نظر آ رہا ہے۔ البتہ کس امیدوار کی کامیابی ہو گی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔پیپلزپارٹی کے امیدوار تین چار ماہ سے سینیٹر سعید غنی کی بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں اور علاقے میں تیزی سے ترقیاتی کام بھی جاری ہیں جسے پیپلزپارٹی کے مخالف امیدوار پری پول دھاندلی قرار دے رہے ہیں۔ پھر اہم بات یہ ہے اُردو بولنے والوں کے علاوہ اس حلقے میں مُلک کے چاروں صوبوں سے آ کر آباد ہونے والوں کی تمام برادریاں اور تمام زبانیں بولنے والے ووٹر موجود ہیں۔

اس بار برادریاں کئی ایسی برادریوں میں تقسیم ہیں جو اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے ساتھ کم ہی جاتی تھیں۔ مسلم لیگ(ن) کے امیدوار علی اکبر گجر کو اس حلقے میں باہر سے اِس امید پر لایا گیا ہے کہ ان کی گجر برادری یکسو ہو کر ان کی حمایت کرے گی، مگر گجر برادری کے وہ لوگ جو اس سے پہلے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ رہتے تھے سینیٹر سعید غنی کے کیمپ میں متحرک اور فعال ہیں اگلی بار اس حلقے میں آباد تمام برادریوں کی کمپوزیشن اور ماضی میں ان کا ووٹ بنک کس کس جماعت کے حق پر پڑتا رہا ہے۔تفصیل سے ذکر کریں گے اس وقت منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہو گا۔

مزید : ایڈیشن 1