عید کی روئیت کے لئے مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوگا

عید کی روئیت کے لئے مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوگا

سیاسی ایڈیشن228 لاہور کی ڈائری

لاہور سے چودھری خادم حسین

رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب الاختتام ہے، آج پچیسواں روزہ ہے اور اتوار کو چاند نظر آنے کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے اپنی تفصیلی رپورٹ مرکزی روئت ہلال کمیٹی کو ارسال کر دی ہے جس کا اجلاس اس مرتبہ اتوار (29 رمضان المبارک) کو پشاور میں رکھا گیا ہے۔ وزیر مذہبی امور کے مطابق مفتی پوپلزئی کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی جو خود نہ بھی آئے تو اپنا نمائندہ بھیجیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ رمضان المبارک اور عید میں اختلاف کو دور کیا جائے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ شاید ممکن نہ ہو کہ اس بار بھی قانون موجود ہونے کے باوجود مفتی پوپلزئی اور ان کے رفقاء نے ایک روز پہلے روزہ رکھا کہ اس روز سعودی عرب میں روزہ تھا۔ اس کے مطابق تو یہ کبھی بھی ممکن نہ ہو سکے گا کہ مفتی پوپلزئی اینڈ کمپنی مرکزی روئیت ہلال سے اتفاق کر لیں کہ سائنسی نقطہ نظر سے سعودی عرب اور پاکستان میں ایک روز کا فرق لازم ہے کہ دونوں ممالک میں قریباً دو گھنٹے کے وقت کا فرق ہے اور چاند پہلے مغرب میں نظر آتا ہے۔ بہر حال یہ کوشش کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ معلوم ہو جائے گا،اگر قانون پر عمل نہیں کروانا تھا تو قانون بنوایا کیوں تھا؟

ملک کے دوسرے شہروں اور قصبات کی طرح لاہور میں بھی عید کی خریداری شروع ہے۔ ایک طرف مہنگائی اور لوڈشیڈنگ نے پریشان کر رکھا ہے تو دوسری طرف لوگ مجبور ہو کر بازاروں میں نکلے ہوئے ہیں کہ بچوں کی ضد مجبور کر دیتی ہے۔ صاحب ثروت حضرات کو تو فکر نہیں وہ کسی بھی وقت خریداری کے اہل ہیں۔ نچلے متوسط طبقہ کے حضرات و خواتین مارکیٹ میں سستی اشیاء ڈھونڈھتے ہیں اور بازاروں میں رونق ہے، موسم میں بھی قدرے تبدیلی آئی اور پری مون سون کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں پر طمانیت آئی ہے۔

رمضان المبارک کے اسی عشرہ میں پاکستانیوں کو اپنی کرکٹ ٹیم کی فتح کی خوشخبری ملی جس نے چیمپئن ٹرافی کے فائنل میچ میں بھارت کو ہرا کر نہ صرف میچ جیتا بلکہ بھارت سے چیمپئن شپ بھی چھین لی ہے۔ بھارت ورلڈ کپ کے ساتھ چیمپئن ٹرافی کے ٹائیٹل کا بھی حامل تھا اور اپنے اعزاز کا دفاع کر رہا تھا۔ میچ کے روز شہر سنسان تھا اور لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے میچ دیکھ رہے تھے اور ہر ہر بال پر نعرے بلند کرتے تھے۔ بہت ہی جوش و خروش تھا۔ ٹیم کی کامیابی کے بعد آتش بازی، بھنگڑے اور مٹھائیاں تقسیم کر کے جشن منایا گیا۔ سب نے قرار دیا کہ رمضان المبارک کی برکتیں نازک ہوئی ہیں، قوم نے بھرپور جشن منایا اور ٹیم کی آمد پر استقبال بھی بے مثال ہے۔

اسی عشرہ میں خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیؓ کا یوم شہادت بھی آتا ہے۔ اس بار بھی یہ دن پوری عقیدت و احترام سے منایا گیا۔ تمام مسالک نے اپنے اپنے عقیدے اور موقف کے مطابق حضرت علیؓ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا، شیعہ بھائیوں نے بھی پورے ملک میں جلوس نکالے۔ اسی کے مطابق لاہور میں تعزیئے کا جلوس اندرون شہر سے شروع ہو کر کربلا گامے شاہ (بیرون بھاٹی گیٹ) اختتام پذیر ہوا۔ انتظامیہ نے زبردست حفاظتی اتنظامات کئے تھے اور یہ جلوس کسی بھی ناخوشگوار عمل کے بغیر پر امن اور خیر و خوبی سے اختتام پذیر ہوا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری لاہور میں قریباً ایک ہفتہ قیام کے بعد اسلام آباد روانہ ہوئے اور وہاں سے پشاور کا بھی دورہ کیا، لاہور میں انہوں نے مصروف وقت گزارا، ہر روز مختلف ڈویژن کے عہدیداروں کو افطار پر مدعو کر کے ان کے ساتھ مشاورت کی جبکہ اس عرصہ میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور نذر گوندل کے علاوہ امتیاز صفدر وڑائچ بھی پارٹی کو داغ مفارقت دے گئے بعض اور حضرات کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس پر بھی مشاورت اور پوچھ گچھ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح لوگوں کے جانے سے جماعتیں ختم نہیں ہوا کرتیں۔ پیپلزپارٹی نظریاتی جماعت ہے اور یہ نہ صرف رہے گی بلکہ اگلے الیکشن بھی جیتے گی۔

پاکستان پیپلزپارٹی آج (21 جون) پیپلزپارٹی کی تا حیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی64ویں سالگرہ منا رہی ہے اس سلسلے میں واضح ہدایات ہیں اور مرکز سے حلقے کی سطح تک تقریبات ہوں گی،کیک کاٹے جائیں گے۔ یہ بھی کارکنوں کو متحرک کرنے کا ایک سلسلہ ہے جس کے لئے بلاول سرگرم عمل ہیں۔ اور اس یقین کا اظہار کر رہے ہیں کہ پارٹی پھر سے پہلے والی جماعت بن جائے گی۔ ان کی محنت اپنی جگہ تاہم کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حکمت عملی سے یہ ممکن نہیں طریقہ کار تبدیل کرنا ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1