جنوبی پنجاب میں پاناما لیکس پر جے آئی ٹی کا کردار زیر بحث

جنوبی پنجاب میں پاناما لیکس پر جے آئی ٹی کا کردار زیر بحث

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی سپریم کورٹ کی قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہونے کو سیاستدان اور دانشور طبقہ اپنے اپنے انداز اور خیال میں لے رہا ہے جو مسلم لیگ (ن) سے ہمدردی رکھتے ہیں وہ اسے ایک تاریخی کارنامہ گردان رہے ہیں مگر جو ہمدردی نہیں رکھتے اور مخالفین میں ان کا شمار ہوتا ہے وہ اس ’’پیشی‘‘ کو تصویر کے دوسرے رخ کی طرح لے رہے ہیں اب ان میں کون درست ہے یہ تو شاید دونوں اطراف کے ہمدردوں کو بھی معلوم نہ ہو لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی وطن عزیز میں قانون کی حکمرانی اور ’’انصاف‘‘ پر مبنی معاشرے کے خواب قیام کو دیکھنا چاہتا ہے تو اس پر قطعاً کوئی پابندی نہیں مگر اسے یہ ذہن میں رکھنا ہو گا کہ اس عظیم ملک کا ایک آئین اور قوانین بھی ہیں جن پر عمل سے ہی ہم ایسا حسین خواب دیکھ سکتے ہیں ورنہ چند صحافیوں کے سامنے پریس کانفرنس یا پریس ٹاک کے نام پر بڑھکیں تو جمشید دستی بھی مارتا رہتا ہے اور ہر اس کام پر تنقید کرتا رہتا ہے جو معاشرے میں ناسور ہے یہ اور بات ہے کہ اب اس کی حمایت میں کون لوگ سرگرم ہیں؟ مگر مظفر گڑھ جیسے پس ماندہ علاقے سے تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے اس عوامی رہنما میں کوئی نہ کوئی اچھائی تو ضرور ہو گی جس پر لوگ اس کے لئے گذشتہ دس دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں کہ جمشید دستی کی گرفتاری اور اسیری دراصل اس تقریر کا رد عمل ہے ہے جو انہوں نے صدر مملکت کی مشترکہ ایوان سے خطاب کے جواب میں کی تھی جس میں انہوں نے نہ صرف حکومت بلکہ وزیر اعظم اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا تھا چونکہ اس تقریر کی وجہ عناد بنا کر کوئی کریمنل ایکٹ کے تحت اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی تھی اس لئے ’’روایتی جمہوری ہتھکنڈے‘‘ استعمال کرتے ہوئے اس غریب رکن اسمبلی پر پانی چوری کا مقدمہ بنا کر راتوں رات گرفتار کر کے حوالہ جیل بھی کر دیا گیا حالانکہ جس پانی چوری کا اس پر پرچہ دیا گیا ہے وہ معلوم نہیں اس نے کس کے لئے کیا ہو گا کیونکہ حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق جمشید دستی کے پاس پانی چرا کرسیراب کرنے کے لئے کوئی زمین تو نہیں ہے مگر چونکہ اس نے ریاست کے کرتا دھرتاؤں کو للکارا تھا لہذا خمیازہ تو بھگتنا ہو گا اور لگتا ہے کہ انہیں ’’چھوٹی عید‘‘ اندر ہی گزارنی پڑے گی کیونکہ ’’قانون‘‘ جو یہ کہہ رہا ہے اور ہم نے قانون کی حکمرانی اور انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا ہے اگر ہم جے آئی ٹی میں پیش ہو سکتے ہیں تو جمشید دستیوں کو پھر کم از کم جیل میں ہونا چاہیے اور وہ جیل میں ہیں ۔دوسری طرف ان دونوں لیگی اکابرین اور اقتدار کے گدی نشینوں کی جے آئی ٹی میں پیشی کو اور انداز سے بھی لے رہے ہیں سابق گورنر پنجاب اور پیپلز لائیرز فورم کے چیئر مین سردار محمد لطیف کھوسہ کا دعویٰ ہے کہ مہذب قوموں کی روایت رہی ہے کہ اگر سربراہ مملکت پر مالی بد عنوانیوں اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات ہوں تو وہ فوراً مستعفی ہو جاتے ہیں لہذا وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو فوراً استعفیٰ دے کر الزامات کا سامنا کرنا چاہیے پانامہ لیکس میں شریف برادران کا کوئی دفاع باقی نہیں رہا لہذا عدالت عظمیٰ اور جے آئی ٹی کو الزامات اور گالیوں کے ذریعے متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے اور پورے جمہوری نظام کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے اب ذرا کوئی سردار لطیف کھوسہ سے پوچھے کہ کیا انہوں نے بھی کم و بیش اس قسم کے الزامات پر اپنی حکومت میں کبھی استعفیٰ دینے کا سوچا تھا یا پھر یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور سیاسی مطالبہ ہے کیونکہ اس قسم کی اچھی روایت پیپلز پارٹی میں تو کم از کم موجود نہیں ہے ادھر پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود بھی اس معاملے پر حکومت اور خصوصاً وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب پر تنقید کرتے نظر آرہے ہیں اور دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ احتساب آج تک صرف پیپلز پارٹی کا ہوا ہے یہ پہلی دفعہ ہے کہ ن لیگ کے اکابرین کا براہ راست احتساب ہو رہا ہے اور میاں نواز شریف پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے ہیں جسے ان کے درباری تاریخی اقدام قرار دے کر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں آخر کب تک یہ قوم کو بے وقوف بنائیں گے کیونکہ اب قوم ان سے کرپشن کا حساب مانگ رہی ہے لہذا انہیں جواب دینا ہو گا اور جمہوری روایت قائم کرتے ہوئے فوری مستعفی ہو کر خود کو احتساب کے لئے پیش کریں ۔دوسری طرف مخدوم جاوید ہاشمی نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا اچھی روایت قرار دیا ہے مگر یہ بھی توقع کی ہے کہ ان فیصلوں کو تسلیم بھی کیا جائے جس سے جمہوریت کو تقویت ملے گی برصغیر کی عظیم روحانی شخصیت حضرت مخدوم عبدالرشید حقانی کے عرس کی افتتاحی تقریب کے شرکاء سے خطاب میں مخدوم جاوید ہاشمی نے قرار دیا کہ اقتدار کے دروازے بند ہو سکتے ہیں لیکن اولیاء کرام کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ان کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہتی ہے یہ مقام افسوس ہے کہ مسلمانوں کی لکھی گئی کتب سے استفادہ کر کے غیر مسلموں نے ہم پر حکومت کی لیکن ہم اپنے اسلاف کی تعلیمات سے محروم رہے اب بھی دنیا جس دہشت گردی اور پریشانیوں میں پھنسی ہوئی ہے اس کا حل اولیاء اللہ کی تعلیمات پر عمل میں ہے اور اس کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔ دوسری طرف جماعت اسلامی نے حسب روایت ملتان کے صحافیوں اور لکھاریوں کے اعزاز میں ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا جس میں شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی تقریب کی صدارت جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے کی اور اس موقعہ پر صحافیوں سے خطاب میں انہوں نے حکومت، حکومتی عہداداروں اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان پر بھی تنقید کی اور اپوزیشن کے اکٹھا نہ ہونے کا سبب عمران خان کو قرار دیا اور کہا کہ عمران خان بھی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی طرح اپوزیشن کو اکٹھا نہیں کرتے بلکہ اکیلے ہی کھیلتے رہتے ہیں حالانکہ ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپوزیشن کو اکٹھا کر سکیں انہوں نے جے آئی ٹی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن کے ٹی او آرز کو تسلیم کر لیا جاتا تو اس وقت صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ کرپشن میں ملوث تمام خاندانوں کا احتساب ہو رہا ہوتا۔جماعت اسلامی کے رہنماء نے ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کی حق خود ارادیت دے کیونکہ اس وقت حکومت کے پاس نہ تو کشمیر کی پالیسی موجود ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کوئی کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ اس دوران ملتان کے بزرگ سیاسی رہنماء الحاج میاں سعید احمد قریشی کا انتقال ہو گیا جنہیں سوگواروں کی بڑی تعداد نے وداع کیا ان کی وفات پر ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے اظہار تعزیت بھی کیا مرحوم صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر اور میونسپل کارپوریشن ملتان میں قائد حزب قائد اختلاف بھی رہ چکے تھے اور دو مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے وہ مسلم لیگ ن کو چھوڑ کر اس وقت تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ تھے اور مرتے دم تک تحریک کے ساتھ رہے ان کی وفات سے ملتان کی سیاست کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1