تورا بورا کے بعد ہنگو میں داعش کے اڈے قائم

تورا بورا کے بعد ہنگو میں داعش کے اڈے قائم

پاکستان کی حکومت اور تمام ادارے پانامہ لیکس میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا سمیت ملحقہ سرحدی علاقوں میں حالات تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے خطرناک اور تشویشناک شکل اختیار کررہے ہیں کرم ایجنسی کے ملحقہ سرحدی علاقے تورہ بورہ میں داعش نے 31 میل کے علاقے پر قبضہ کرکے اپنی سلطنت قائم کرلی یہ علاقہ اس سے پہلے افغان طالبان کے قبضے میں تھا جہاں سخت جنگ اور ان گنت ہلاکتوں کے بعد داعش نے اپنی حتمی فتح کا اعلان کردیا یہ علاقہ 9/11 کے وقت اسامہ بن لادن کی محفوظ پناہ گاہ تھا یہاں پر کئی کلو میٹر طویل ان گنت سرنگیں ہیں جو مدربم کے حملے سے بھی محفوظ تصور کی جاتی ہیں تورا بورا کرم ایجنسی کے صد مقام پاڑہ چنار کے قریب ترین واقع ہے جو کہ نہ صرف حساس ترین علاقہ ہے بلکہ یہاں پر طالبان اور داعش سمیت تمام کالعدم تنظیمیں مسلسل حملہ آور ہوتی رہی ہیں افغان طالبان نے الزام عائد کیا ہے کہ داعش کو افغان حکومت،فوج اور خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی حمایت ،سرپرستی اورپشت پناہی حاصل ہے جبکہ روس ایک سے زائد مرتبہ الزام عائد کرچکا ہے کہ افغانستان میں داعش کو امریکہ نے گود لے لیا ہے امریکہ داعش کو ہر قسم کی انٹیلی جنس سمیت جدید اور بھاری اسلحہ ،تربیت اور مالی مدد فراہم کررہا ہے پاکستان کیلئے تشویشناک بات یہ ہے کہ کوہاٹ سے کرم ایجنسی جاتے ہوئے ضلع ہنگو میں بھی داعش نے اپنا مرکز قائم کرلیا ہے ہنگو کا علاقہ کرم ایجنسی سے ملحقہ پہلا اور آخری بندوبستی علاقہ ہے جس کے شمال میں اورکرزئی ایجنسی اور مغرب میں کرم ایجنسی واقع ہے ہنگو ماضی میں بھی طالبان سمیت مختلف کالعدم تنظیموں کا گڑھ رہ چکا ہے یہاں تک کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ محسود کے بارے میں بھی یہ مصدقہ اطلاعات آئی تھیں کہ انہوں نے ابتدائی دینی تعلیم ہنگو ہی کے ایک مدرسے سے حاصل کی تھی اب نہ صرف مقامی لوگ ہنگو میں داعش کی موجودگی کا اعتراف کررہے ہیں بلکہ ایک نجی ٹی وی چینل نے اپنی رپورٹ میں ہنگو میں داعش کے موجود جنگجوؤں کی تعداد ہزاروں میں بتائی ہے جو ایک انتہائی تشویشناک بات ہے عالمی سطح پر بھی داعش کا شمار ایک خطرناک اور بے رحم تنظیم میں ہوتا ہے اس کے برعکس پاکستان کی حکومت خصوصاً وزارت داخلہ اور صوبائی حکومت ان سنگین حالات سے خود کو بظاہر لاعلم اور لاتعلق رکھ رہی ہیں جو کہ ان کا قدیمی نسخہ اور پرانا حربہ اور وطیرہ ہے اس وقت پاکستان کی وفاقی اورتمام صوبائی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں کرپشن بچاؤ یا حکومت گراؤ وغیرہ کی مہم میں اس طرح مگن ہیں جیسے کرپشن کو بچانا خدانخواستہ کوئی مذہبی دینی یا شرعی فریضہ ہو جبکہ دوسری طرف حکومت گرانے والی قوتیں بھی بالکل اسی جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں جو کہ شرعی لحاظ سے اپنا جواز رکھتی ہیں لیکن پاکستان اور خیبرپختونخوا کے عوام کے مستقبل کو تاریک اور بھیانک ہوتا دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں جو قابل مذمت رویہ ہے اندیشہ ہے کہ ان حالات میں عام انتخابات منعقد ہونے پر 2013ء کی طرح سیکولر پارٹیوں کو انتخابی مہم سے روکنے کیلئے ہولناک کارروائی کی جائے گی ،

افغانستان میں مقیم امریکی فورسز نے گذشتہ ہفتہ کے اوائل میں ہنگو میں ایک ڈرون حملہ بھی کیا دلچسپ بات یہ ہے کہ تورہ بورہ اور ہنگو میں داعش کی واضح موجودگی کے باوجود یہ ڈرون حملہ حقانی نیٹ ورک کے ایک مرکز پر کیا گیا جسے امریکہ اپنے مفادات کیلئے نقصان دہ سمجھتا ہے اس حملے میں حقانی نیٹ ورک کا ایک گمنام کمانڈر مارا گیا جسکی شناخت ابوبکر کے نام سے ہوئی اس حملے کا دوسرا غور طلب پہلو یہ ہے کہ افغان شہریت کا حامل یہ کمانڈر چند روز قبل ہی ہنگو پہنچا تھا مگر امریکہ نے اسے افغانستان کی بجائے پاکستان میں نشانہ بنانے کو ترجیح دی جس کے پس پردہ دیگر عوامل کے علاوہ پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا اور پاکستان کو کوئی مخصوص پیغام دینا مقصود ہوسکتا ہے یہ ڈرون حملہ 2013ء کے بعد پہلا ڈرون حملہ تھا جو کہ ہنگو کے علاقے میں کیا گیا حسب معمول اور حسب روایت پاکستان کی جمہوری قوتیں اس ڈرون حملے سے لاتعقل او ر لاعلم رہیں جو کام پاکستان کی وزارت داخلہ ،وزارت خارجہ اور حکومت کو کرنا چاہئے تھا وہ کام راؤلپنڈی کی جی ایچ کیو نے کیا پاکستان آرمی چیف نے اس ڈرون حملے کو پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کے منافی قراردیتے ہوئے سخت احتجاج کیا اور بین السطور سخت پیغام بھی دیا ۔

پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے غیر اعلانیہ خاتمے کے بعد کالعدم تنظیموں کے دہشتگرد وں نے ایک مرتبہ پھر قدم جمانا شروع کردیئے ہیں جی ٹی روڈ پر چمکنی پولیس اسٹیشن کی ایک موبائل پارٹی پر عین اس وقت حملہ کیا گیا جب 17 گھنٹوں سے زائد بھوکے پیاسے اہلکار اذان مغرب کے ساتھ بسمہ اللہ پڑھ کر ٹھنڈا شربت پینا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے کہ ٹھنڈے مشروب کا کوئی گھونٹ ان کے حلق سے نیچے اترتا موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی اوریوں یہ اہلکار شہادت کی منزل پر فائز ہوگئے اس حملے میں پولیس کے تین جوان شہید اور ایک زخمی ہوگیا رتبہ شہادت پر فائز ہونے والے اہلکاروں نے کمال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی میں ایک دہشتگرد کو بھی ہلاک کردیا اس ہلاک دہشتگرد کے ذریعے گروہ کے دیگر ارکان اور نیٹ ورک تک رسائی میں بہت آسانی ہوگی پولیس نے ہلاک دہشتگرد کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم توقع ہے پولیس اس نیٹ ورک تک رسائی کیلئے سرعت سے کام کررہی ہوگی جبکہ دوسری طرف جذبہ شہادت سے سرشار پولیس کے دیگر جوانوں نے اپنے شہید ساتھیوں کی جگہ ناکہ بندی پر اپنی پوزیشنیں سنبھال کر ڈیوٹی شروع کردی۔

خیبر پختونخوا کے علماء کا ایک مخصوص گروپ ان تمام حالات سے بے نیاز روزے کی طرح عید بھی ایک روز قبل منانے کیلئے بھر پور تیاریاں کررہا ہے اور اس مقصد کیلئے ایک روز قبل اپنا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جبکہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ایک روز عید منانے کی کوشش میں اس مرتبہ اپنا اجلاس پشاور میں طلب کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں جامع مسجد قاسم علی خان کا ایک نمائندہ بھی مدعو ہوگا ان تمام کاوشوں کے باوجود یکجہتی کے عمل کی کامیابی کے امکانات اس لئے معدوم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ مرکزی کمیٹی 9 بجے شب سے قبل اپنا اجلاس ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے جبکہ جامع مسجد قاسم علی خان کو اکثر رات 9 بجے کے بعد شہادتیں ملنا شروع ہوتی ہیں جو کہ کبھی کبھی رات 12 بجے تک بھی جاری رہتی ہیں بہر حال اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس قوم پر رحم کرے اور اس کے وہ گناہ معاف کرے جو قومی یکجہتی اور اتحاد کے راستے میں رکاؤٹ بنتے ہیں (آمین)

خیبر پختونخوا حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا جسے ٹیکس فری قرار دیا ہے، لیکن اس میں براہ راست اور بالواسطہ متعدد ٹیکس عائد کئے گئے جس پر احتجاج ہو رہا ہے، خود تحریک انصاف کے اراکین نے اعتراض کیا ہے ۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا دورہ خیبر پختونخوا، پشاور میں افطار، اس بار سے پہلے بہتر رہا، انہوں نے معمول کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف پر تنقید کی۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف اور عمران خان کو نشانہ بنایا۔

 

مزید : ایڈیشن 1