نیب افسروں کی نظر ثانی اپیلیں مسترد، صوابدیدی اختیارات نہیں قانون کی حکمرانی لازمی ہے: سپریم کورٹ

نیب افسروں کی نظر ثانی اپیلیں مسترد، صوابدیدی اختیارات نہیں قانون کی ...

اسلام آباد( آن لائن )سپریم کورٹ نے نیب افسران کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ دنیا میں مہذب معاشرے کی طرف سفر کیلئے صوابدیدی اختیارات کی بجائے قانون کی حکمرانی کی طرف جانا ہوگا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے نیب، وزارت دفاع اور نیب کے دس افسران کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔ منگل کو اپیلوں کی سماعت کا آغاز ہوا تو نیب کی آگاہی مہم کی نگرانی کرنیوالی سابق ڈی جی عالیہ رشیدکے وکیل حافظ ایس اے احمن نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ عالیہ رشید کرپشن کیخلاف آگاہی مہم چلاتی تھیں ان کی تعیناتی وزیراعظم کی ہدایت پر کی گئی کیونکہ عالیہ رشید ٹینس کی بین الاقوامی کھلاڑی تھیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا وزیراعظم نے کس قانون کے تحت تعیناتی کا حکم دیا تو وکیل کا کہنا تھا کھلاڑ یوں کو پالیسی کے تحت مختلف محکموں میں ایڈجسٹ کیاگیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ کیا نیوکلیئر ری ایکٹر میں بھی کھلاڑی بھرتی کیے جائیں گے ،نیب کو اسوقت کے وزیراعظم کیخلاف ریفرنس دائر کرنا چاہیے تھا اگر نیب وزیراعظم کی ہدایات مانے گا تو لوگ کہاں جائیں گے اس معاملہ پر زور دیکر آپ چاہتے ہیں ہم سابق وزیراعظم کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایسی سفارشی بھرتیوں کیخلاف تو نیب کارروائی کرتا ہے،بتایا جائے کیا اس حوالے سے کوئی قانون بنا یاگیا ہے یا وزیراعظم کا حکم ہی قانون ہے، جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا نیب کی تو کوئی سپورٹس ٹیم بھی نہیں جس میں عالیہ رشید کو رکھا جاتاایسا نہ ہو کل انہیں ایس پی کراچی لگا دیا جا ئے ،انہوں نے استفسار کیا کیا کسی کھلاڑی کو ڈائریکٹر فنانس بھی لگایا جا سکتا ہے؟ اس دوران عالیہ رشید نے کہا ’’انہیں کرپشن سے انکار‘‘(say no to corruption )کا آئیڈیا حرم پاک میں آیا،جس پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے استفسار کیا نعرہ اچھا ہے لیکن کیا اس سے کر پشن ختم ہوئی اور کیا نااہل شخص کو بھرتی کروانا کرپشن نہیں۔ اٹارنی جنرل کا عالیہ رشید کے مقدمہ میں موقف بالکل درست ہے۔جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا نیب احتساب کا ادارہ ہے، لیکن کیا احتساب کے ادارہ کا احتساب نہیں ہو نا چاہیے۔سب تسلیم کرتے ہیں بھرتیاں غلط ہوئیں لیکن نہ فائدہ دینے والوں کیخلاف کاروائی ہوئی، نہ فائدہ لینے والوں کیخلاف۔نظر ثانی تو نکالے گئے افسران کو پنشن اور مراعات دینے کے فیصلہ پر بنتی ہے اتنا عرصہ نا اہل لوگ ملازمت پر لگے رہے کسی نے نہیں پوچھا انہوں نے سوال اٹھا یاکہ کیا ہمیں مہذب بننے سے انکار کر دینا چاہیے ،غلط بھرتیاں کرنا ہی تو کرپشن ہے اس سے انکار کیا جانا چاہیے ۔ یہ واضح ہے کہ نیب میں تقرریاں غلط ہوئی یہ ساری کرپشن ہے۔ بھرتی کرنے اور ہونیوالوں کیخلاف ریفرنس دائر ہوا چاہیے تھا جو نہیں ہوا، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے،کیونکہ بلاامتیاز احتساب کے بغیر معاشرے کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا،نیب میں تقرریاں غلط ہوئی تھیں اور اس ضمن میں سپریم کورٹ نے درست فیصلہ سنایا۔ فوجی دور حکومت کے اکثر قوانین قابل عمل نہیں ہوتے،یہ فوجی افسران نیب میں آئے لیکن واپس نہیں گئے کیونکہ فوج میں تو جنگ لڑنا پڑتی ہے اور نیب میں سب لوگ سکون کی نوکری کرتے ہیں۔ یاد رہے سپریم کورٹ میں نیب کے 10افسران اور وزارت دفاع ونیب نے نظرثانی کیلئے درخواستیں دائر کی تھیں نظرثانی درخواستیں دائر کرنیوالوں میں عالیہ رشید،میجر جنرل (ر) شبیراحمد، سید محمد عامر،فرخ نسیم اختر،انصریعقوب، محمد یونس،مرزا سلطان، میجرریٹائرڈغلام رسول،میجر (ر) طارق، میجر( ر)سید برہان علی نے دائر کی تھیں، جبکہ عدالت عظمی نے 29مارچ17ء کو قومی احتساب بیورو کے 4 سینئرحاضرسروس افسران ڈی جی نیب لاہور میجر برہان ، ڈی جی میجرطارق محمود ملک بلوچستا ن، ایڈیشنل ڈی جی نیب کراچی میجرشبیر اور ڈی جی آگاہی مہم عالیہ رشید کو عہدوں سے ہٹانے اور نامکمل تعلیمی کوائف و بے ضابطگی سے ترقی پانیوا لے افسران کے معاملے کو جانچنے کیلئے تین رکنی کمیٹی کے قیام کا حکم بھی دیا تھا، جس میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ،ڈی جی ایچ آر نیب اور ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن شامل تھے۔

مزید : صفحہ آخر