پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ کی انکوائری مکمل، ائیر کموڈور جے ایس دھاموں ذمہ دار قرار، عہدہ سے فارغ

پٹھان کوٹ ائیر بیس حملہ کی انکوائری مکمل، ائیر کموڈور جے ایس دھاموں ذمہ دار ...

نئی دلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی پٹھان کوٹ ایئر بیس پر گزشتہ سال جنوری میں ہونے والے حملے کی تحقیقات مکمل کرلی گئیں،انکوائری رپورٹ میں حملہ کے وقت ایئر بیس کمانڈر ایئر کموڈور جے ایس دھاموں کو غفلت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ دیگر فوجی اہلکاروں کو بھی مختلف قسم کی سزائیں دی جائیں گی۔تفصیلات کے مطابق پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے فوری طور پر واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا۔ یہ انکوائری ایئر وائس مارشل امیت دیو کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے کی ہے جس میں حملے کی سب سے بڑی وجہ ایئر بیس حکام کی غفلت اور بنیادی سکیورٹی پروٹوکولز فالو نہ کرنے کو قرار دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے ایئر بیس پر حملے کیلئے وہ راستہ اختیار کیا جسے انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ 2 جنوری کو ہونے والے حملے سے کچھ عرصہ پہلے ایک ذہنی معذور شخص اسی راستے کے ذریعے ایئر بیس کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے سے پہلے واضح انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوگئی تھیں لیکن ایئر بیس کمانڈر جے ایس دھاموں کی طرف سے کسی قسم کی توجہ نہیں دی گئی۔انکوائری میں پٹھان کوٹ کی سکیورٹی کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ 2 ہزار ایکڑ پر پھیلی ایئر بیس میں جابجا بے ہنگم طریقے سے پھیلے ہوئے درختوں اور جھاڑیوں نے حملہ آوروں کیلئے بہت ہی آسانی پیدا کردیں اور وہ چھپنے میں بھی کامیاب رہے۔ ایئر بیس کے سکیورٹی اہلکاران رسیوں سے بھی بے خبر رہی جو حملے سے کافی روز پہلے ہی ایئر بیس کی دیوار پر لٹکا دی گئی تھیں تاکہ صحیح وقت آنے پر اندر گھسا جا سکے جبکہ ان رسیوں کے ساتھ حملہ آوروں نے کپڑے اور کھانا بھی پہلے ہی پہنچا دیا تھا۔بھارتی اخبار انڈیاٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2 جنوری کو بھارتی ایئر فورس کی پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملہ ہوا تھا۔ نامعلوم حملہ آوروں کے حملے کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز کی پانچ کورز نے آپریشن میں حصہ لیا اور ایئر بیس کلیئر کرانے میں انہیں تین دن لگے۔ اس دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کے 7 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

مزید : صفحہ آخر