حکومت ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش مسائل ترجیحاً حل کرے، خواجہ عثمان

حکومت ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش مسائل ترجیحاً حل کرے، خواجہ عثمان

ملتان(جنرل رپورٹر)ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر اور معروف صنعتکار خواجہ محمد عثمان نے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل صنعت کو درپیش اہم مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے کیونکہ مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔انہوں نے کہا (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

کہ وزیراعظم پاکستان نے ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ایک مراعاتی پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد میں تاخیرہورہی ہے جس وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیکسٹائل صنعت کی بحالی اور برآمدات کے بہتر فروغ کیلئے مذکورہ مراعاتی پیکج پر جلد عمل درآمد یقینی بنائے۔خواجہ محمد عثمان نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت کے تقریبا 300ارب روپے ٹیکس ریفنڈز ایف بی آر میں پھنسے ہوئے ہیں جس وجہ سے اس صنعت کو متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ تمام واجب الادا ٹیکس ریفنڈز کی جلد کلیئرنس یقینی بنائی جائے تا کہ اس صنعت کی مشکلات کم ہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت ملک کی برآمدات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹیکسٹائل صنعت کے بچاؤ اور بحالی کیلئے فوری ضروری اصلاحی اقدامات اٹھائے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق تقریبا 150ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں اور انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مزید ٹیکسٹائل ملیں بند ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل صنعت کیلئے زیرو سیلز ٹیکس کے نفاذ کو یقینی بنائے ۔ اس کے علاوہ حکومت اس صنعت کیلئے پیکیجنگ میٹریل، سپیئر پارٹس، فیول اور توانائی پر عائد سیلز ٹیکس کو مزید آسان بنائے۔ ایکسپورٹس کے بہتر فروغ کیلئے حکومت برآمدات کو فروغ دینے والے شعبوں کی مشکلات فوری کم کرے اور ان پر مزید نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر