ملتان سول سیکرٹریٹ مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے‘ ظہور دھریجہ

ملتان سول سیکرٹریٹ مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے‘ ظہور ...

ملتان(سٹی رپورٹر) ملتان سول سیکرٹریٹ کے مسئلے پر ارکان اسمبلی اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی قابل مذمت ہے ، حکمران دو صوبوں کی قرار داد پاس کرانے کے بعد سب کچھ بھول چکے ہیں ، عید کے بعد پیدل مارچ کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان عوامی اتحاد کے رہنما ظہور دھریجہ اور ملک اللہ نواز وینس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نادر مظہر بھی موجود تھے۔ انہوں(بقیہ نمبر56صفحہ12پر )

نے کہا کہ دو صوبوں کی قرار داد جو ن لیگ نے خود پیش کی اور سول سیکرٹریٹ کیلئے 67 رکنی کمیٹی بھی خود قائم کی ، حکومت کو کم از کم وہ اقدامات تو کرنے چاہئیں جو انہوں نے نہ صرف خود اناؤنس کیے بلکہ اسے اپنے منشور کا حصہ بھی بنایا انہوں نے کہا کہ نشتر گھاٹ کے مسئلے پر خواجہ فرید اور دوسرے رہنماؤں کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حکومت اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوئی ، ہم اس جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جمشید دستی کی رہائی پر ہم جدو جہد جاری رکھیں گے کہ یہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہمارے منشور میں شامل ہے ، انہوں نے کہا حکومت جمشید دستی کی عید جیل میں کرانا چاہتی ہے مگر سرائیکی ایشو کو جتنا دبایا جائے گا اتنا طاقت سے ابھرے گا ۔انہوں نے کہا کہ جمشید دستی کو عمران خان اور تحریک انصاف کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ سرائیکی جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا مگر وہ شکریہ ادا کرنے نہ کرے اس کا اپنا ظرف ہے۔ اس کی پرواہ نہیں کہ ہم نے ظلم کے مقابلے میں مظلوم کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی کلام لکھنے والے شاعر ریاض باکھری اور چند سرائیکی رہنماؤں نے مجھ پر اعتراضات کئے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ جمشید دستی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرے نہ کرے اس کا مسئل ہہے مگر وہ سرائیکی صوبے کا حامی رہے گا توٹھیک اور جب وسیب کی شناخت اور صوبہ سرائیکستان کے خلاف بات کرے گا تو ہم بھی خاموش نہیں رہیں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر