تہذیبوں کا مطالعہ، ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،عرفان صدیقی

تہذیبوں کا مطالعہ، ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے،عرفان صدیقی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم کے مشیر قومی تاریخ وادبی ورثہ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مختلف تہذیبوں کا مطالعہ اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کاوش کے نتیجے میں دنیا میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جاسکتی ہے۔ وہ سوسائیٹی آف ایشین سویلائزیشن پاکستان کے وفد سے گفتگوکررہے تھے جس نے تنظیم کے بانی وصدرپروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی قریشی کی سربراہی میں قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن میں مشیر وزیراعظم سے ملاقات کی اور اپنی تنظیم کے قیام کے مقاصد اور سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔اس موقع پر مشیر وزیراعظم کوتنظیم کی اعزازی رکنیت دینے کی سند بھی پیش کی گئی۔ عرفان صدیقی نے تنظیم کی طرف سے تہذیبوں کو اجاگر کرنے اور ان سے متعلق مقامات کی حفاظت کے لئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہاکہ قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کے ذیلی ادارہ میوزیمز اینڈ آرکیالوجی کے تعاون اور اشتراک سے ایسی سرگرمیوں پر کام کیاجائے جس سے مختلف تہذیبوں کے بارے میں معلومات عامہ بہم پہنچائی جاسکیں ۔تہذیبوں کے بارے میں معلومات، افکار اور تاریخی حقائق کو کتابی شکل دینا اس ضمن میں نہایت مفید ثابت ہوسکتا ہے تاکہ مفادعامہ بالخصوص نوجوان نسل اور تعلیمی ادارے بھرپور اندا زمیں ان سے استفادہ کرسکیں۔ مشیر وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان تہذیبی دولت اور ورثہ سے مالا مال ہے۔ ایسی حکمت عملی مرتب کی جائے تاکہ پوری دنیا کو اس تہذیبی دولت اور ورثہ سے آگاہی حاصل ہوسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے فلم، ٹی وی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ذرائع کو بروئے کار لانا نہایت موثرنتائج کا حامل ہوسکتا ہے۔ عرفان صدیقی نے وفد کو بتایا کہ تحریک پاکستان کے مشاہیر اور قومی ہیروز کے بارے میں معلوماتی کتب تیارکی جارہی ہیں۔چھوٹی چھوٹی کتابوں کی صورت میں بنیادی معلومات کو یکجا کیا جارہا ہے تاکہ نوجوان نسل قیام پاکستان کے لئے کارہائے نمایاں انجام دینے والی عظیم شخصیات سے آگاہ ہوں ۔ وفدنے وزیراعظم کی جانب سے فکروعمل کے اداروں کو ایک جگہ جمع کرکے نئی وزارت کی تشکیل کے اقدام کوسراہا اور توقع ظاہر کی کہ اس کے نتیجے میں علمی وادبی سرگیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن انجینئر عامر حسن، جوائنٹ سیکریٹری سید جنید اخلاق اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر