جی پی ایس ڈیوائس چوری کرنیوالے چوروں کو لینے کے دینے پڑ گئے

جی پی ایس ڈیوائس چوری کرنیوالے چوروں کو لینے کے دینے پڑ گئے

نیویارک (نیوز ڈیسک) پولیس مجرموں کو پکڑنے کیلئے جی پی ایس ڈیوائس کی مدد حاصل کرتی ہے لیکن اگر کوئی احمق چور جی پی ایس ڈیوائس ہی چوری کر لے اور پھر پولیس سے بھاگنے کی کوشش کرے تو اس کا کیا حال ہو گا؟ ویب سائٹ این بی سی فور آئی کے مطابق ایک ایسا ہی دلچسپ واقعہ امریکی شہر سانتا کلارا میں پیش آ گیا جہاں ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے سینکڑوں جی پی ایس ڈیوائس چور لے اڑے۔رومبی کارپوریشن کے سربراہ ودیا سبرامینن نے بتایا کہ یہ ڈیوائس دیکھنے میں موبائل فون جیسے نظر آتے ہیں اور غالباً یہی وجہ تھی کہ چوروں نے انہیں چرا لیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں یہ جی پی ایس ڈیوائس کمپنی کی ڈیلا کرز ایونیو لیب سے چرائے گئے۔ سبرامینن نے بتایا کہ جیسے ہی جی پی ایس ڈیوائسز کی چوری کا انکشاف ہوا تو ان کی تلاش کا عمل بھی شروع ہو گیا۔ پولیس کو جی پی ایس ڈیوائسز کی آئی ڈی فراہم کر دی گئی اور یوں ان کے لئے چوروں کا سراغ لگانا بے حد آسان ہو گیا۔ دراصل چور جہاں بھی جا رہے تھے پولیس کو چوری شدہ جی پی ایس ڈیوائسز کے زریے ان کی لوکیشن کی معلومات دستیاب ہو رہی تھیں۔ چوروں کا تعاقب کیا گیا اور پانچ سے چھ گھنٹے میں انہیں گرفتار کر کے تمام ڈیوائسز برآمد کر لئے گئے۔ان چوروں کو پکڑوانے میں ان کے شراب کے شوق نے بھی کردار ادا کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے فرار ہونے سے پہلے ایک فریج سے شراب کی بوتل نکالنے کی کوشش کی اور اس دوران ان میں سے کسی کے ہاتھ پر زخم لگا اور اس کے خون کے دھبے فریج پر موجود تھے۔ ان دھبوں کی مدد سے ڈی این اے کی معلومات حاصل کی گئیں اورچوروں کو پکڑنے کے بعد ڈی این اے سے بھی ان کی تصدیق ہو گئی۔چوری کئے گئے جی پی ایس ڈیوائسز کی کل مالیت 18000 ڈالر (تقریباً 18 لاکھ پاکستانی روپے) بتائی گئی ہے۔ انہیں یونٹی سٹی کے ایک ویئر ہاؤس میں لیجا کر چھپایا گیا تھا۔ پولیس نے ڈیوائسز کی آئی ڈی سے ان کی لوکیشن کی تمام معلومات حاصل کرلی تھیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر