گردہ سکینڈل،ایف آئی اے دو ماہ میں بھی تحقیقات مکمل نہ کر سکا

گردہ سکینڈل،ایف آئی اے دو ماہ میں بھی تحقیقات مکمل نہ کر سکا

لاہور ( نامہ نگار خصوصی)ایف آئی اے دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود گردہ سکینڈل کی تحقیقات مکمل نہیں کر سکا، ضلع کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقدمہ کے تفتیشی افسر کو گردہ سکینڈل کی تحقیقات مکمل کر کے چالان چار جولائی تک عدالت میں پیش کرنے کاحکم دے دیا ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ(بقیہ نمبر63صفحہ12پر )

فاروق اعظم سوہل کی عدالت میں گردہ سکینڈل کے مرکزی کرداروں ڈاکٹر فواد، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری التمش کھرل ، عمر دراز، شہزاد سمیت گیارہ ملزموں کو پیش کیا گیا، ملزم ثاقب، فضائل، قمر عباس، عبدالمجید، نوید حمید، محمد اطہر، ڈاکٹر ظفر کو کیمپ جیل سے خصوصی وین میں لا کر پیش کیا گیا، ملزم ڈاکٹر التمش کے وکیل نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے نے مقدمہ درج ہونے کے دو ماہ گزرنے کے باوجود مقدمہ کا چالان پیش نہیں کیا جبکہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ایک سو تہتر کے تحت مقدمہ درج ہونے کے چودہ روز بعد مقدمہ کا چالان پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ آئندہ تاریخ پیشی سے قبل ملزموں کے خلاف درج مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے، گردہ سکینڈل میں گرفتار گردہ ڈونر ناہید اختر، عامر رضا، عیسی(مرحوم) ، منیرہ صالم ، اطہر محمود، صفیہ بی بی، قمر عباس کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواستیں خارج ہوچکی ہیں جبکہ خود کو انستھیزیا سپیشلسٹ قرار دینے والے ملزم ڈاکٹر ظفر جاوید نے ضمانت پر رہائی کیلئے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے

مزید : ملتان صفحہ آخر