زکریا یونیورسٹی، 5ارب 92کروڑ کا بجٹ پیش، فیسوں میں 10فیصد اضافہ

زکریا یونیورسٹی، 5ارب 92کروڑ کا بجٹ پیش، فیسوں میں 10فیصد اضافہ

ملتان(سٹاف رپورٹر)بہاالدین زکریا یونیورسٹی کا 5ارب92کروڑ کا بجٹ پیش کر دیا گیا، ٹیوشن فیس ، امتحانی فیس اور دیگر تما م فیسوں میں 10 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ ملازمین کی تنخواہوں، پارٹ ٹائم ٹیچنگ، پیپر چیکنگ کے معاوضے میں 10 فیصد اضافے کی سفارش کر دی گئی ۔کیش ایوارڈ ختم کردیا گیا ۔تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کا اجلاس وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر طاہرا مین کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بجٹ(بقیہ نمبر31صفحہ12پر )

2017۔18پیش کیا گیا۔ خزانہ دار ڈاکٹر عمر فاروق نے بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ2016 ۔17 میں یونیورسٹی نے مالی سال کا آغاز 44کروڑ روپے کے منافع کے ساتھ کیا تھا ۔رواں مالی سال میں یونیورسٹی کا بجٹ 5ارب 92کروڑ کے حجم کا ہے ، جس میں آمدنی کا تخمینہ 5ارب 11کروڑ لگایا گیا ہے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 5ارب 92کروڑ لگایا گیا ہے اس طرح یہ فی الحالی بجٹ 81کروڑ خسارے کا ہوگا۔تاہم بعد میں آنے والی تجاویز کی روشنی کے بعد یہ خسارہ بڑھ گیا ہے ، رواں مالی سال میں ایچ ای سی سے ایک ارب 45کروڑ کے فنڈز ملنے کا امکان ہے ، جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مد میں 45 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ، انڈونمنٹ فنڈ کیلئے 10 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ،رواں مالی سال میں یونیورسٹی کو تنخواہو ں اور پنشن کی مد میں 11 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا جس کی وجہ یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی اضافہ 13فیصد سے زائد ہوگا، جس کے بعد ایچ ای سی کے نمائندے نے بجٹ خسارہ 5سے 8فیصد رکھنے کی ہدایت کی۔ اس پر ایک کمیٹی بنادی گئی جو بجٹ خسارہ کم کرنے لئے تجاویز پیش کرے گی جس کے بعد بجٹ منظوری کیلئے سنڈیکیٹ میں پیش کیا جائے گا ۔ ہاؤس نے ٹیوشن فیس ، امتحانی فیس ، اور دیگر تما م فیسوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دی ، تاہم اس کا اطلاق نئے آنے والے طلبا سے ہوگا، یونیورسٹی کی آمدنی میں اضافے کیلئے ویک اینڈ پروگرام شروع کرنے کی سفارش بھی مان لی گئی، تمام شعبوں میں مزید سیٹیں بڑھانے کی منظوری بھی دیدی گئی، کیش ایوارڈ کا سلسلہ ختم کردیا گیا ، پارٹ ٹائم ٹیچنگ، پیپر مارکنگ، پیپر سیٹینگ، زبانی امتحان لینے کے معاوضے میں 10 فیصد اضافہ کردیا گیا،تما م ڈٰین کیلئے موبائل فون چارجز 3ہزار روپے کردئے گئے ، جس سے شعبوں کے چیئرمین بھی استفادہ کرسکیں گے ۔یونیورسٹی حلقوں کے مطابق بجٹ خسارہ 81کروڑنہیں بلکہ 2ارب 14کروڑروپے ہے ۔فاصلاتی نظام تعلیم ختم کرنے سے یونیورسٹی کی سوا ارب روپے کی آمدن ختم ہو ئی ہے۔ گزشتہ سال یونیورسٹی کے بجٹ میں آمدن 7ارب 25کروڑ 84لاکھ 4ہزار روپے اور اخراجات 7ارب 49کروڑ 40لاکھ 30ہزارروپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا مگر اب آمدن 5ارب 92کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یونیورسٹی کی آمدن میں کمی ہوئی ہے ۔ اس سال یونیورسٹی کے ترقیاتی کاموں میں ایک ارب 55روپے کا کٹ لگایا جائے گا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر