نیب افسر کی ایک اور بے ضابطگی، سرکاری گاڑٰ کیساتھ کنوینس الاؤنس کی وصولی بھی جاری

نیب افسر کی ایک اور بے ضابطگی، سرکاری گاڑٰ کیساتھ کنوینس الاؤنس کی وصولی بھی ...

ملتان(نمائندہ خصوصی) ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف نیب احمد ممتاز باجوہ کی ایک اور بے ضابطگی سامنے آئی ہے نیب کی جانب سے انہیں سرکاری امور سر انجام دینے کیلئے گاڑی فراہم کی گئی ہے۔ احمد ممتاز باجوہ نے سرکاری گاڑی رکھنے کے باوجود کنونیس الاؤنس کی وصولی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ہاؤس رینٹ کیطرح کنونیس الاؤنس کی وصولی بھی گزشتہ 2سال سے جاری ہے بتایا گیا ہے نیب پاکستان کی جانب سے 2سال قبل جنوبی پنجاب میں کرپشن شکایات کی (بقیہ نمبر60صفحہ12پر )

سماعت کیلئے ملتان میں بیورو آفس بنایا گیا۔ اس آفس میں درجن بھر سے زائد افسران تعینات کیئے گئے۔ ان آفسران کو سرکاری امور سرانجام دینے کیلئے نیب کی جانب سے گاڑیاں فراہم کیں گئیں۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف کی پوسٹ پر تعینات ہونے والے احمد ممتاز باجوہ کو بھی دیگر افسران کی طرح کار فراہم کی گئی ۔ قانون کے مطابق جن آفیسر کو سرکاری گاڑی میسر ہے وہ کنونیس الاؤنس حاصل نہیں کرسکتا۔ کنونیس الاؤنس حاصل کرنے کی صورت میں سرکاری گاڑی رکھنے کی اجازت نہیں۔ پری آڈٹ اور پوسٹ آڈٹ کے قوانین کے تحت بھی سرکاری گاڑی رکھنے وا لے افسران کنونیس الاؤنس حاصل نہیں کرسکتے لیکن نیب ملتان بیور کے بجٹ اور اکاؤنٹ سیکشن آڈٹ قوانین کوئی حثیت نہیں رکھتے۔ اس سیکشن کو پتہ ہے ایڈیشنل ڈائریکٹر سٹاف کے عہدے کیلئے ایک گاڑی مختص ہے اور ممتاز باجوہ سرکاری گاڑی نمبر LR-8282 استعمال کررہے ہیں اس گاڑی کا فیول اور مینٹینسس کے اخراجات بھی نیب ادا کررہا ہے لیکن پھر بھی بجٹ اینڈ اکاؤنٹ سیکشن احمد ممتاز باجوہ کو کیونیس الاؤنس ادا کررہا ہے۔ معلوم ہوا ہے تنخوا کے بل کی تیاری کے دوران بجٹ اینڈ اکاؤنٹ سیکشن کے پاس ہر آفیسر کا مکمل ڈیٹا ہوتا۔ لیکن کلریکل سٹاف میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ نیب ملتان کی طاقتور شخصیت کے سیلری بل پر کٹ لگائے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس الیاس قمر کو بھی احمد ممتاز باجوہ کی سرکاری گاڑی کا مکمل علم ہے۔ لیکن انہوں نے بھی اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ معلوم ہوا ہے احمد ممتاز باجوہ ماہانہ5ہزار روپے کنوینس الاؤنس حاصل کررہے ہیں گزشتہ 2سالوں کے دوران وہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب کنوینس الاؤنس حاصل کرچکے ہیں۔ احمد ممتاز باجوہ کی طاقتور حیثیت کی وجہ سے نیب کے انٹرنل آڈٹ سسٹم پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے جو احمد ممتاز باجوہ کے ہاؤس رینٹ اور کنوینس الاؤنس جیسے کیسز سامنے نہیں لاسکا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس ملتان کے پری آڈٹ سسٹم پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہوچکا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر