وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔ساتویں قسط

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔ساتویں قسط
وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔ساتویں قسط

  

’’دیوی مہان ہے‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے۔’’تیری بدھی(عقل) اب کام کرنے لگی ہے‘‘ وہ مضحکہ خیز لہجے میں بولا۔

غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اس لئے ضبط کرکے اس کی بکواس سنتا رہا۔

’’جانتا ہوں اس سمے تیرے من میں کیا ہے؟ تو کس کھوج میں ہے؟ پرنتو میں تیرے پرشن کا اتر اوش دوں گا۔ میرا نام امر کمار ہے ،کالی ماتا کا سیوک ہوں۔ اس سمے دیوی کی آگیا سے تجھے یہ سمجھانے آیا ہوں کہ میری بات مان لے نہیں تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائیگا‘‘ وہ براہ راست میری آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔

’’میں نہیں جانتا جو تو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن میری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کہ تیری دیوی مجھ سے کیا چاہتی ہے؟‘‘ میں نے اس سے متاثر ہوئے بغیر مضبوط آواز میں کہا۔ شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔ ہم دونوں اسی کھیت کے کنارے کھڑے تھے جہاں وہ ملنگ غائب ہوا تھا۔

’’دیوی تیری سہائتا(مدد ) کرنا چاہتی ہے۔ یدی تو نے دیوی کی آگیا کا پالن(حکم کی تعمیل) نہ کیا تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائے گا۔‘‘ اس نے کسی استاد کی طرح مجھے سمجھایا۔

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔چھٹی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’مجھے تو کوئی ڈھونگی یا بہروپیا لگتا ہے۔ تیری کسی بات کی سمجھ مجھے نہیں آتی۔ اگر تجھے رقم کی ضرورت ہے تو سیدھی طرح بتا میں تیری کچھ نہ کچھ مدد ضرور کروں گا۔‘‘ میری بات سن کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا، لال انگارہ آنکھوں میں جیسے آگ کے آلاؤ روشن ہوگئے وہ غصے سے تھرتھر کانپنے لگا۔

’’مورکھ۔۔۔! تو نہیں جانتا تو اس سمے کس کے سمانے کھڑا ہے۔ تجھے ابھی میری شکتی کا گیان(علم) نہیں ہے۔ میں چاہوں تو ابھی تجھے بھسم کر سکتا ہوں۔ پرنتو دیوی کی اچھا(خواہش) کچھ اور ہے اور دیوی کی آگیا کا پالن کرنا ہر اچھے سیوک کا دھرم ہے۔ پرنتو تو نے میرا اپمان کیا ہے ایک مہان سادھو کا اپمان۔۔۔اس کا شراپ تو تجھ اوش ملے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں قہر اتر آیا۔

’’تو مجھے سزا دے گا؟‘‘ میں نے تمسخر سے کہا’’اگر تجھ میں ہمت ہے تو جو کرنا چاہتا ہے کر لے میں تیرے سامنے کھڑا ہوں۔‘‘ وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا۔ میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا’’اتر تو دوبارہ میرے راستے میں آیا تو یاد رکھنا میں تجھے چھوڑوں گا نہیں‘‘ اس کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا۔

’’گھی۔۔۔گھی۔۔۔گھی‘‘؂

اچانک مجھے اپنے پیچھے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔ تیزی سے مڑ کر دیکھا تو وہی ملنگ کھیت کے کنارے بیٹھا مٹی کے ڈھیلوں سے بچوں کی طرح کھیل رہا تھا۔

’’بھاگ گیا۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔بھاگ گیا بزدل‘‘ وہ قہقہے لگانے لگا۔ میں نے فوراً مڑ کر دیکھا تو دور دور تک سادھو کا نام و نشان نہ تھا۔ میں حیران رہ گیا کیونکہ ہم چٹیل میدن جیسے کھیت کے پاس کھڑے تھے دور تک کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ چھپ سکتا۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھار کر چاروں طرف دیکھا لیکن سادھو ہوتا تو ملتا۔ میری حیرت بجا تھی اگر وہ بہت تیز دوڑتا تب بھی کم از کم پانچ منٹ سے پہلے کھیت پار نہ کر سکتا تھا جبکہ وہ تو ایک لمحے میں غائب ہوگیا تھا۔ سادھو کو غائب پا کر میں فوراً ملنگ کی طرف متوجہ ہوا وہ بھی اپنی جگہ سے غائب تھا۔

’’یا خدا یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔یہ انسان ہیں یا جن؟ ایک پل میں غائب ہو جاتے ہیں‘‘ حیرت سے میری عقل گم ہوگئی۔ اندھیرا اتنا بھی نہ تھا کہ وہ مجھے دکھائی نہ دیتے۔ میں کافی دیر اسی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا پھر بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔ کچھ دنوں سے مجھے عجیب و غریب حالات پیش آرہے تھے۔ جن سے میں خوفزدہ تو نہ تھا ہاں الجھن ضرور محسوس کر رہا تھا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا تھا۔ سارا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے گیراج کی لائٹ جلائی اور برآمدے میں آگیا۔ اچانک ایسی آواز آئی جیسے اندر کوئی چل رہا ہو پھر دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ برآمدے میں لوہے کی گرل لگی ہوئی تھی جس کے بند کر دینے سے سارا گھر محفوظ ہو جاتا تھا۔ ایسی ہی ایک گرل پچھلے برآمدے میں بھی تھی۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور پر لگائی گئی تھی۔ میں نے گرل کا تالا کھولا اور اندر جا کر ٹی وی لاؤنج کی لائٹ بھی جلا دی۔ بریف کیس رکھ کر میں باتھ روم میں چلا گیا سردیاں گرمیاں مجھے ہر روز نہانے کی عادت ہے۔ جب میں ٹی وی لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ ٹی وہ آن تھا۔ ابھی میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ کہیں میں نے جاتے ہوئے خود ہی تو ٹی وی آن نہیں کر دیا تھا کہ بیڈ روم سے کسی کے چلنے پھرنے کی آواز آئی جلدی سے اندر کی طرف لپکا بیڈ روم کھول کر دیکھا تو ایک بار پھر عجیب سے بے چینی نے گھیر لیا۔ میں واپس ٹی وی لاؤنج میں آیا تو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔ ٹی وی بند تھا۔ میں نے اسے آن کیا کوئی ٹاک شو لگا ہوا تھا میرا دل ٹی وی دیکھنے میں نہ لگا اس لئے میں بیڈ روم میں آکر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب دیکھا۔ صائمہ میرے کمرے میں آئی ہے اس نے بہت گہرا میک اپ کیا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں گلاب کا تازہ پھول ہے کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ بیڈ پر گلاب کی پتیوں کی سیج سی بنی ہوئی ہے صائمہ پہلے سے زیادہ حیسن نظر آرہی ہے وہ رات بھی میرے ارمانوں کی ر ات ثابت ہوئی ہم دونوں دنیا جہاں سے بے خبر ایک دوسرے میں کھوئے رہے۔ صبح میری آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ میں نے کلاک پر نظر ڈالی سات بج رہے تھے۔ انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا۔ اچانک میری نظر بیڈ پر پڑی تو میں اچھل کر بیڈ سے نیچے اتر آیا حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں۔َ سارا بیڈ گلاب کی پتوں سے یوں ڈھکا ہوا تھا جیسے شب عروسی کے لئے بیڈ پھولوں کی پتوں سے سجایا جاتا ہے۔ پتیاں مسلی ہوئی تھیں تکیے پر گلاب کا ایک پھول بھی رکھا ہوا تھا۔ رات کو خواب میں میں نے دیکھا تھا کہ صائمہ گلاب کا پھول لے کر کمرے میں آئی اور پھول مجھے دے دیا۔ جسے سونگھ کر میرے اندر جذبات کا طوفان امڈ آیا تھا۔ میں نے ایک جھٹکے میں صائمہ کو اپنے اوپر گرا لیا تھا۔ صائمہ کے انداز میں والہانہ پن اور وارفتگی تھی۔ میں حیرت بھری نظروں سے بیڈ کو دیکھ رہا تھا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔

’’کیا وہ خواب نہیں تھا؟ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ اگر وہ خواب تھا تو گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے؟ اگر حقیقت تھی تو یہ کیسے ممکن ہے؟ صائمہ کی غیر موجودگی بلکہ اس شہر میں غیر موجودگی کہنا مناسب ہوگا کے باوجود وہ رات کو میرے ساتھ۔۔۔؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہے؟ اس قسم کے حالات سے میرا سابقہ پہلے کبھی نہ پڑا تھا۔ کافی دیر میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا پھر سر جھٹک کر باتھ روممیں گھس گیا۔ نہا کر میں جلدی سے بینک روانہ ہوگیا۔ عمران چھٹی پر تھا ورنہ اس سے کہہ کر ہی دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا کام کے دوران بھی میں رات والے قصے کے بارے میں سوچتا رہا بلکہ سوچتا کیا رہا خیالات خود بخود میرے ذہن میں آتے رہے۔ تقریبا بارہ بجے محمد شریف کا فون آگیا وہ مجھے شام کو اپنے ہاں آنے کے بارے میں یاد دہانی کروا رہا تھا۔ آج وہ چھٹی پر تھا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں ضرور آؤں گا۔ اس کا گھر یہاں سے تقریبا بیس میل کے فاصلے پر تھا۔ پانچ بجے بینک سے نکلا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔ جس نے مجھے آدھ گھنٹے میں شریف کے گھر پہنچا دیا۔ میں پہلی بار اس کے گھرجا رہا تھا لیکن ٹیکسی والا اسی گاؤں کا تھا وہ مجھے سیدھا شریف کے گھر لے گیا۔ (جاری ہے)

وہ خاندان جو جنات کے چنگل میں پھنس گیا۔۔۔آٹھویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا