پاکستان کی جیت پر ثانیہ بھابھی کو ”سیاست“ مہنگی پڑھ گئی، دیوروں اور بھائیوں کو خوش کرنے کی کوشش میں دونوں کو ہی ناراض کر بیٹھیں، سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا

پاکستان کی جیت پر ثانیہ بھابھی کو ”سیاست“ مہنگی پڑھ گئی، دیوروں اور بھائیوں ...
پاکستان کی جیت پر ثانیہ بھابھی کو ”سیاست“ مہنگی پڑھ گئی، دیوروں اور بھائیوں کو خوش کرنے کی کوشش میں دونوں کو ہی ناراض کر بیٹھیں، سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور بھارت کا میچ ہو تو سب سے زیادہ پریشانی بھارت کی ’بیٹی‘ اور پاکستان کی ’بہو‘ ثانیہ مرزا کو ہوتی ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں شوہر اور دیوروں کی خوشی اور بھائیوں کی عزت کا خیال رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ ”جب ہم پہلا میچ ہارے تو میٹنگ میں شعیب ملک نے ایسی باتیں کی کہ۔۔۔“ چیمپینز ٹرافی کے ”ہیرو“ فخر زمان نے وطن پہنچتے ہی اہم راز سے پردہ اٹھا دیا، شعیب ملک نے کیا کہا تھا؟ جان کر آپ بھی کہیں گے” سینئر ہونے کا حق ادا کر دیا“

پاکستان نے بھارت کو چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں شکست دی تو ثانیہ مرزا کو سمجھ نہ آئی کہ اب وہ کس طرح پاکستان کو مبارک دیں اور بھارت کی دل آزاری بھی نہ ہو لیکن اس موقع پر ہاکی کا کھیل ان کے کام آ گیا جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی۔

ثانیہ مرزا نے دونوں کو ہی مبارکباد کا پیغام دینے میں عافیت سمجھی اور اپنی جانب سے خاصی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیغام جاری کیا کہ ”بھارت کرکٹ میں ہار گیا مگر ہاکی میں جیت گیا۔ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کو مبارک ہو، کھیل حساب چکتا کرنے کیلئے بہترین چیز ہے۔“

لیکن ان کی یہ کوشش ان کے گلے پڑ گئی ہے اور ایک جانب جہاں پاکستانی شائقین نے اپنی ”بھابھی“ سے واضح ’سائیڈ‘ لینے کا اعلان کیا ہے تو دوسری جانب بھارتی بھی اس پر خاصے خفاءنظر آئے ہیں۔

رانا غلام دستگیر نے لکھا ”ثانیہ بھابھی، سیاسی مت بنیں۔ ہاکی کوئی معنی نہیں رکھتی ، آپ جانتی ہیں کہ آج فادرز ڈے ہے۔ گندی اولاد کو بہت مار پڑی ہے آج۔“

ایک بھارتی صارف راشو ٹنڈن نے لکھا ”ثانیہ مرزا اپنے صحیح جذبات کا اظہار کریں۔۔۔ کیا آپ خوش ہیں یا غمگین؟ سفارتی بیان دینا بند کریں کیونکہ سفارتکاری کیلئے سیاستدان موجود ہیں۔“

ایک اور بھارتی صارف پراتی نے طنز کیا” کیا سیاست میں جا رہی ہیں؟“

ایک پاکستانی صارف علی حسنین اشرف کو تو ثانیہ مرزا کا بیان کافی مزاحیہ لگا جن کا کہنا تھا ”بھابھی کھیل کے ساتھ سیاست بھی اچھی کر لیتی ہو۔“

ایک اور پاکستانی صارف ظہرا علی خان نے لکھا ”کیا کیا کرنا پڑتا ہے بھارت میں رہنے کیلئے۔“

جاوید خان نے تو مفت میں مشورہ ہی دیدیا کہ لکھا ”اب پاکستانی سے شادی کر لی ہے اور پاکستان کے میچ بھی دیکھنے کیلئے بھی جا رہی ہیں، تو ٹینس بھی اب پاکستان کی طرف سے ہی کھیل لیں۔“

بھارتی صارف پریم نے لکھا ” تم ہاکی جیتنے پر مبارکباد مت دو، پاکستانی کہیں کی“

پاکستانی صارف شاہد فرید نے لکھا ”ویسے اندر اندر سے آپ کا دل کر رہا ہے نعرہ مارنے کو’ پاکستان زندہ باد‘۔“

ایک بھارتی صارف یوگیشور ماتھور نے لکھا ”خوش تو بہت ہو گی تم۔“

پراگ سونو نے سیدھا سوال پوچھا ”آپ کس کی طرف ہو؟“

ہرشد جادیو بھی غصے میں ہی تھے، کہا ”دونوں طرف کی ٹویٹ مت کرو اور اپنا موقف واضح کرو۔ اور تم نے کبھی بھی بھارتی فوجیوں کی خاطر اپنے شوہر کے ملک کے خلاف بات نہیں کی۔“

پنکج پراجپاتی تو کافی دلبرداشتہ نظر آئے اور کہا ”ثانیہ مرزا جی! آپ کے منہ سے بھارت کی تعریف اچھی نہیں لگتی۔“

ایک پاکستانی نے تو سارے پاکستانیوں کے دل میں موجود سوال پوچھ لیا کہ ”بھابھی آپ کے شوہر نے میچ جیتا ہے، کوئی خوشی نہیں ہوئی؟“

مزید : کھیل