جمہوریت کے تین کردار

جمہوریت کے تین کردار
جمہوریت کے تین کردار

  

جمہوری نظام کی یہ بہترین خوبی ہے کہ حق رائے دہی کا حق یعنی ووٹ کی قدر و قیمت ایک جیسی ہوتی ہے ن۔واز شریف ،زرداری ،عمران کے ووٹ اور ایک عام مزدور یڑھی بان اوردہقان کا ووٹ ایک ہی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی اثر پذیری بھی برابری کی سطح پر ہے ۔باقی سارے کے سارے جمہوری نظام میں جو کہ ووٹ کی طاقت کے استعمال کے بعد قا ئم ہوتا ہے کہیں بھی برابری کی سطح دور دور تک دیکھنے سے نظر نہیں آتی۔ جب سے ہم اس جمہوری نظام کا حصہ بنے ہیں ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں وجود میں آئی ہیں اور جنہوں نے اس نظام کو اپنا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر اس ملک کے انتظام وانصرام اور عنانِ حکومت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔برسر اقتدار رہنے والی جماعتوں کے بعض سربراہان نے اپنی جماعت کو ووٹ کے لحاظ سے جو بام عروج بخشا ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی سربراہ ذوالفقار علی بھٹو سر فہرست ہیں۔

بھٹو نے پیپلز پارٹی کو صحیح معنوں میں عوامی جماعت بنا دیا ۔انہوں نے عوام کو شعور اور آگہی دی ۔عوام کو باور کروایا کہ مملکت میں طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں۔ انہوں نے عوام کو زبان دی اور اپنے حقوق کی بات کرنے کا سلیقہ سکھایا ۔یہ حقیقت ہے کہ بھٹو اپنے دور میں دنیا کے مقبول ترین لیڈروں میں شمار ہوتے تھے وہ روس سے لے کر چین، افریقہ سے لے کر امریکہ تک اور سعودی عرب سے لے کر لیبیا تک بے انتہا پاپولر تھے۔اسلامی دنیا کے تمام ممالک کے سربراہان ان سے دلی لگاؤ رکھتے تھے انہوں نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا وہ ایٹمی پروگرام کے بانی تھے۔انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا انہوں نے سٹیل ملز سمیت بہت سے ادارے اور یونیورسٹیاں بنائیں ۔انہوں نے اسلامی بلاک بنایا انہوں نے عربوں کو بتایا کہ تیل کی طاقت کیا ہے وہ اسلامی ملکوں پر مشتمل اسلامی ورلڈ بنک اور اسلامی اقوام متحدہ بنانے کاپروگرام رکھتے تھے۔انہوں نے پارٹی میں اعلیٰ پڑھے لکھے اور دانشور لوگوں پر مشتمل تھنک ٹینک بنایا اور وہ ٹیلنٹ ڈھونڈنے میں یکتا تھے مختصر یہ کہ بھٹو ایک اعلیٰ خاندانی پس منظر رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائی ذہین بلکہ طلسماتی شخصیت کے مالک تھے ۔ان کی پارٹی کو عوام میں اتنی پذیرائی حاصل تھی کہ انہوں نے پاکستان کے ووٹ کو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ میں تقسیم کر دیا اور یہ سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت تک قائم رہا۔

بھٹو نظریاتی کارکنوں کو پارٹی کا اثاثہ سمجھتے تھے انہوں نے پارٹی ورکرز کو عزت کا مقام دینے کی روایت ڈالی ان کے چاہنے والوں کو تاریخ نے جیالے کا لقب دیا۔ ان کی شہادت کے بعد کا دور لے لیں پاکستان مسلم لیگ جس کی تنظیمِ نو محمد خان جونیجو مرحوم سے کروائی گئی اور اسے ایک شناخت دینے کے لیے ان کو اس کا سربراہ بنایا گیا حالانکہ وہ غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں وزیر اعظم بنے تھے جبکہ اسی دور میں ایک نیا چہرہ بھی سیاست کے اُفق پر متعارف ہواجو کہ اسی غیر جماعتی الیکشن کے نتیجے میں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا اس کا نام میاں محمد نواز شریف تھا ۔میاں محمد نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ کو نئے سرے سے منظم کرنے کا بیڑا اٹھایاانہوں نے اس جماعت کی تنظیم سازی کے لیے لوگوں کی ذہن سازی کی اسکو پاکستان پیپلز پارٹی کے متوازی جماعت بنانے کا پختہ عزم کیا اور اس متحرک اور نوجوان شخصیت نے بھر پور جدوجہد شروع کر دی پورے ملک کے طوفانی دورے کئے اور مسلم لیگ کی تنظیمات تشکیل دیں ۔خواتین ونگ ،لیبر ونگ،کسان ونگ، وکلاء ونگ، تاجر ونگ مختلف قومی اداروں کی سی بی اے یونین میں اپنی جماعت کے ونگ قائم کئے مسلم لیگ کی باڈی تشکیل دے کر ڈھانچہ مکمل کر کے اس کو اتنا متحرک کر دیا کہ اس کے پیٹ سے جنم لینے والی دیگر مسلم لیگیں خود بخود دم توڑ گئیں۔ اور ایک پلیٹ فارم جو سب کے لیے قابل قبول تھا پاکستان مسلم لیگ (نواز)وجود میں آیا۔

میاں محمد نوازشریف نے اقتدار میں آ کر موٹرویز اور ہائی ویز بنائے،ایئر پورٹس بنائے ایٹمی دھماکے کئے، ڈکٹیٹر کے ہاتھوں معزول ہو کر قید و بند کی صعوبتیں اور جلا وطنی جیسے عذاب برداشت کئے اور پاکستان کے ہر دلعزیزلیڈربن کر عالمی اُفق پر اُبھرے انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ووٹ بنک کو نوازشریف اور اینٹی نوازشریف میں بدل دیا ہے۔ بلاشبہ نوازشریف اس وقت اسلامی ملکوں کے بلاک میں بے حد پاپولرہیں جبکہ عالمی طاقت چین بھی نواز شریف کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے اور نوازشریف کا شمار عالمی سطح کے مدبّر اور دھیمے مزاج لیڈروں میں ہوتا ہے۔پاکستانی سیاست پر اُبھرتے ہوئے نوخیز ستارے عمران خان بھی ہیں جنہوں نے 2عشرے قبل پاکستانی سیاست میں قدم رکھا۔وہ سیاست میں آنے سے قبل پاکستان کے لیے کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکے تھے انہوں نے بعد ازاں ایک اور کارنامہ انجام دیا پاکستان میں عالمی سطح کا پہلا کینسرہسپتال قائم کر دیا عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے نئی پارٹی بنائی اس کی تنظیم سازی کے لیے دیوانہ وار پورے ملک کے کوچہ کوچہ گئے اس پارٹی کو نوجوانوں اور خواتین سمیت اشرافیہ میں مقبول عام بنایا۔

اب جبکہ یہ پارٹی پاکستان کی سیاست میں ایک اہم پارٹی کی حیثیت اختیار کر گئی ہے اور اس وقت ملک میں حقیقی اور اصلی اپوزیشن کا مکمل روپ دھار چکی ہے۔ ملک سے کرپشن اور لوٹ مار سمیت اقرباپروری کا خاتمہ کرنے کی داعی جماعت بن گئی ہے اور عمران خان یہ نعرہ لگا رہے ہیں ’’جاگدے رہنا بھائیو ساڈے تے نہ رہنابھائیو ‘‘جو کہ ایک گاؤں کا چوکیدار رات کو لگاتا ہے اور کبھی بھی اُس نے اپنی اس ذمہ داری سے تھک ہار کر بے زاری کا اظہار نہیں کیا اورمسلسل اپنے فرائض کو تندہی سے ادا کرنے پر لگا رہتا ہے۔ عمران خان بھی پاکستانی قوم کے چوکیدار بن گئے ہیں اور قوم کو جگانے کی ڈیوٹی بھرپور طریقے سے انجام دے رہے ہیں اور گاؤں کے چوکیدار کی طرح تھک ہار کر بیزار ہونے کی بجائے مسلسل اپنے فرائض کی ادائیگی کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں اور سرنڈر ہونے کے لیے بالکل تیار نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں یہ لیڈر اپنی فہم و فراست اور دوراندیشی سے تیسری مرتبہ ایک بار پھر پاکستان کے ووٹ بنک کو عمران اور اینٹی عمران میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو تا ہے یا نہیں اس کے لیے ہمیں وقت کا انتظار کرنا پڑے گا؟

( بلاگر ایم ایم علی کالم نگار ہیں ۔ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہےmali94522@gmail.com)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ