کمبلے کے مستعفی ہونے پر سابق بھارتی کرکٹرز کا اظہار نا پسندیدگی ،ہندوستانی ٹیم کو ایسا کوچ چاہئے جو ٹریننگ کا نہ کہے بلکہ ا نہیں شاپنگ اور گھومنے پھرنے کی اجازت دے:سنیل گواسکر

کمبلے کے مستعفی ہونے پر سابق بھارتی کرکٹرز کا اظہار نا پسندیدگی ،ہندوستانی ...
کمبلے کے مستعفی ہونے پر سابق بھارتی کرکٹرز کا اظہار نا پسندیدگی ،ہندوستانی ٹیم کو ایسا کوچ چاہئے جو ٹریننگ کا نہ کہے بلکہ ا نہیں شاپنگ اور گھومنے پھرنے کی اجازت دے:سنیل گواسکر

  

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارت کی چیمپئن ٹرافی میں پاکستان سے بدترین اور تاریخی شکست کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم انڈین عوام کی جہاں شدید تنقید کی زد میں ہے وہیں ٹیم مینجمنٹ میں بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو چکی ہے ،بھارتی ٹیم چیف کوچ انیل کمبلے کا پاکستان سے شکست کے فورا بعد اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر کئی بھارتی اور غیر ملکی کرکٹرز نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے ،عظیم بھارتی کرکٹر اور سابق کپتان سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ کمبلے ایک سخت گیر کوچ تھے ،لیکن ٹیم انڈیا میں شامل کچھ لوگوں کو ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی کیونکہ انہیں کوئی ایسا کوچ چاہیے تھا جو ٹریننگ کے لئے نہ کہے بلکہ کرکٹرز کو شاپنگ اور گھومنے پھرنے کی اجازت دے۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے پاکستان سے شکست کے فوری بعد انیل کمبلے نے مستعفی ہو کر ہندوستانی کرکٹ میں بھونچال پیدا کر دیا ہے ،جبکہ ان کے مستعفی ہونے پر کئی ملکی و غیر ملکی کرکٹرز نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔سابق عظیم بھارتی بلے باز سنیل گواسکر کا کہنا ہے کہ کمبلے ایک سخت گیر کوچ تھے ،لیکن ٹیم انڈیا میں شامل کچھ لوگوں کو ان کی یہ بات اچھی نہیں لگی کیونکہ انہیں کوئی ایسا کوچ چاہیے تھا جو ٹریننگ کے لئے نہ کہے بلکہ کرکٹرز کو شاپنگ اور گھومنے پھرنے کی اجازت دے۔یاد رہے کہ سنیل گواسکر ہمیشہ ہی ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کے بارے میں اپنی رائے کھل کر ظاہر کرتے رہے ہیں اور اب کمبلے کے استعفیٰ پر بھی انہوں نے بالواسطہ طور پر بھارتی کرکٹرز پر طنز ہی کیا ہے ۔

سابق ہندوستانی کرکٹر بشن سنگھ بیدی نے کمبلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے سے زیادہ حیران نہیں ہیں کیونکہ کوئی خودار شخص اس ماحول میں ویسے بھی کام نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ عظیم کھلاڑی کمبلے کے خلاف جس نے بھی جنگ چھیڑی ہے اس نے احسان فراموشی کی حد کردی ہے لیکن بالآخر اس میں ہندوستانی کرکٹ کا ہی نقصان ہوا ہے۔

سابق بھارتی کرکٹر سری کانت نے بھی ہندوستانی کوچ کے اس طرح مستعفی ہونے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خبر کو سن کر دکھی ہیں،اگرچہ کمبلے نے استعفی دے دیا ہے لیکن میں ان کے اور انکے اہل خانہ کے لئے نیک تمناؤں کی خواہش کا اظہار کرتا ہوں ۔ بھارت کے سابق اوپنر بیٹسمین آکاش چوپڑا نے کہا کہ میرے حساب سے صورت حال کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکتا تھا اور کوچ کے انتخاب کے عمل کو چمپئنز ٹرافی سے پہلے کرنے کے بجائے گھریلو سیشن کے بعد ہی کرنا چاہئے تھا۔

دوسری طرف آسٹریلیوی کرکٹر مائیکل وان کو بھی کمبلے کے مستعفی ہونے سے کافی حیرت ہوئی ہے۔ مائیکل وان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی ٹیم ایک عظیم انسان کو کھو رہی ہے، میں امید کروں گا کہ وہ کسی بھی رول میں ٹیم سے وابستہ رہیں، کیونکہ اتنے اچھے انسان کو کھونا اچھا نہیں ہے۔واضح رہے کہ بنیادی طور پر کپتان ویرات کوہلی اور کچھ کھلاڑی کمبلے کے کوچنگ کے طریقہ کار سے ناخوش تھے اور کوچ اور کپتان کے تنازعہ کی وجہ سے ہی یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ 46 سالہ کمبلے کو ایک سال کے لیے ہندوستانی ٹیم کو کوچ مقرر کیا گیا تھا اور ان کے عہدہ کی میعاد آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے بعد ختم ہوگئی تھی لیکن انہیں ویسٹ انڈیز کے دورے پر بھی ٹیم انڈیا کے ساتھ کوچ عہدے پر برقرار رہنا تھا۔ وہ آئندہ بھی کوچ کے عہدے کے درخواست دہندگان میں شامل تھے۔ لیکن انہوں نے گذشتہ روز اپنے عہدے سے اچانک مستعفی ہونے کا اعلان کر کے سب کو چونکا دیا تھا ۔

مزید : کھیل