صنف نازک خواتین نہیں مرد ہیں، نئی کتاب کے دعوے نے تہلکہ مچادیا، ثبوت بھی دے دئیے

صنف نازک خواتین نہیں مرد ہیں، نئی کتاب کے دعوے نے تہلکہ مچادیا، ثبوت بھی دے ...
صنف نازک خواتین نہیں مرد ہیں، نئی کتاب کے دعوے نے تہلکہ مچادیا، ثبوت بھی دے دئیے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) صدیوں سے دنیا یہ مانتی آ رہی ہے کہ بھلے ہی خواتین ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے میں تیز ہوں اور مردوں سے زیادہ اچھی ڈرائیونگ کرتی ہوں لیکن جسمانی طاقت کے اعتبار سے مرد ہی خواتین سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے اس قدیمی نظریے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خواتین جسمانی اعتبار سے بھی مردوں سے زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔“ سائنسدانوں کی اس تحقیق پر مبنی کتاب میں مصنف انجیلا سینی لکھتی ہیں کہ ”ہم اکثر سوچتے ہیں کہ مرد خواتین سے زیادہ مضبوط جسم کے مالک اور طاقتور ہوتے ہیں لیکن طاقت کی تعریف مختلف زاویوں سے کی جا سکتی ہے۔ جب انسان کی انتہائی بنیادی اور پیدائشی جبلت ”بقا“ کی بات آئے تو خواتین کے جسم مردوں کی نسبت زیادہ مضبوطی اور طاقت دکھاتے ہیں۔ طویل بیماری سے لے کر کسی صدمے اور تکلیف کو برداشت کرنے تک، خواتین مردوں کی نسبت زیادہ طاقت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اس تحقیق میں طاقت کے ایسے ہی مختلف زاویوں کو دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں خواتین مردوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔“

جو خواتین میک اپ کر کے امتحان دیتی ہیں ان کے نمبر اس ناقابل یقین حد تک زیادہ آتے ہیں، یہ کوئی پاگل نہیں بلکہ سائنسدان بول رہے ہیں، ریسرچ کے نتائج جاری

انجیلا مزید لکھتی ہیں کہ ”یونیورسٹی آف ایڈلیڈ کے سائنسدانوں کی تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ خواتین کی یہ خوبی صرف پیدائش کے وقت ہی ظاہر نہیں ہوتی۔ لڑکیاں ماں کے پیٹ میں بھی لڑکوں کی نسبت طاقتور ہوتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پیٹ میں موجود بچے کی جنس کے لحاظ سے رحم مادر مختلف طریقے سے کام کرتا ہے جو لڑکیوں کے زیادہ موافق ہوتا ہے۔لڑکے سائز میں بڑے ہوتے ہیں اور ماں کے پیٹ میں جلدی پرورش پاتے ہیں، جس سے رحم مادر پر ایک دباﺅ پڑتا ہے جو بچے کی نشوونما اور ماں کے بلڈپریشر پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ پیٹ میں لڑکی ہو تو رحم مادر پرسکون رہتا ہے اور انفیکشنز کے خلاف زیادہ مزاحمت کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر قبل از وقت پیدائش لڑکوں کی ہوتی ہے۔ مرد جذباتی لحاظ سے اپنے مضبوط ہونے کی اداکاری تو کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ خواتین سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔برطانوی سائنسدانوں نے 6سال کے لڑکے اور لڑکیوں کو ایک بچے کے رونے کی ریکارڈنگ سنائی اور ان کے پریشانی پیدا کرنے والے ہارمونز کی پیداوار کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق میں ثابت ہوا کہ بچے کے رونے کی آواز سن کر لڑکوں میں ہارمونز کی مقدار بہت زیادہ پیدا ہوئی اورلڑکیوں میں بہت کم۔ایسی ہی اور کئی تحقیقات کی جا چکی ہیں جن کے نتائج میں مختلف زاویوں سے خواتین کو مردوں سے زیادہ طاقتور قرار دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ خواتین کا آئی کیو لیول مردوں سے زیادہ ہوتا ہے، ان کا مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی خائف نہیں ہوتیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس