ان بچوں کے نانا نانی کو ان کی پیدائش کا پتہ بھی نہ چلے، جج نے ایسا فیصلہ سنادیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں

ان بچوں کے نانا نانی کو ان کی پیدائش کا پتہ بھی نہ چلے، جج نے ایسا فیصلہ ...
ان بچوں کے نانا نانی کو ان کی پیدائش کا پتہ بھی نہ چلے، جج نے ایسا فیصلہ سنادیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تو وہ بچے بے اولاد جوڑوں کو گود دینا چاہتی تھی لیکن سوشل ورکرزکا اصرار تھا کہ بچوں کی پرورش فیملی کا کوئی رکن ، بالخصوص نانا نانی کریں۔ معاملہ عدالت میں جا پہنچا جہاں جج نے ایسا فیصلہ دے دیا ہے کہ آپ سن کر دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ”بچے کسی کو گود دیئے جائیں اور ان کے نانا نانی کو یہ بتایا بھی نہ جائے کہ ان کی بیٹی کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہوئے ہیں۔“

لیڈزکی فیملی کورٹ کے جج جسٹس کوب کا کہنا تھا کہ ”نانا نانی کی زیادہ عمروں کے باعث ایسا کوئی پہلو زیرغور نہیں آ سکتا کہ وہ ان جڑواں بچوں کی پرورش کریں۔ اگر انہیں یہ بتایا گیا کہ ان کی بیٹی کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے تو یہ اس خاتون کے حقوق کی خلاف ورزی ہو گی۔ چنانچہ انہیں اس بات سے لاعلم رکھا جائے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ ان بچوں کو گود لینے کے لیے کافی تعداد میں جوڑے سامنے آ رہے ہیں۔“

’میری دادی بیماری ہوئیں تو میں حاملہ بن کر اُن سے ملنے چلی گئی، دراصل میں حاملہ نہ تھی بلکہ یہ چیز چھپا کر ہسپتال لیجانا چاہتی تھی‘ نوجوان لڑکی نے ایسی بات بتادی کہ انٹرنیٹ پر ہر کوئی بے اختیار تعریف کرنے پر مجبور ہوگیا

واضح رہے کہ اس 45سالہ خاتون کو 2015ءمیں طلاق ہو گئی تھی جس کے بعد 2016میں اس نے مختصر وقت کے لیے ایک شخص سے تعلق استوار کیا تھا جو جلد ہی اسے چھوڑ کر چلا گیا، لیکن یہ حاملہ ہو گئی۔ اس شخص نے بچوں کو اپنانے اور ان کی پرورش کرنے سے انکار کر دیا جس پر خاتون نے بھی ان کی پرورش سے ہاتھ اٹھا لیا اور انہیں گود دینے کی کوشش کی جس پر سوشل ورکر درمیان میں کود پڑے اور معاملہ عدالت جا پہنچا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس