فیس بک تو آپ مزے سے استعمال کررہے ہیں، لیکن ان کی یہ حرکت دیکھ کر آپ شاید غصے سے لال پیلے ہوجائیں کیونکہ ۔۔۔

فیس بک تو آپ مزے سے استعمال کررہے ہیں، لیکن ان کی یہ حرکت دیکھ کر آپ شاید غصے ...
فیس بک تو آپ مزے سے استعمال کررہے ہیں، لیکن ان کی یہ حرکت دیکھ کر آپ شاید غصے سے لال پیلے ہوجائیں کیونکہ ۔۔۔

  

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) اسرائیل کے ساتھ مغربی ممالک کی حکومتوں کی محبت تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے یہ بات یقینا صدمہ خیز انکشاف ہے کہ فیس بک جیسی عالمی اثرورسوخ رکھنے والی سوشل میڈیا کمپنی بھی اسرائیل کی زرخرید لونڈی ثابت ہوئی ہے۔ فیس بک اور اسرائیلی حکومت کے مکروہ گٹھ جوڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی سابقہ مشیر کو فیس بک نے اپنے پالیسی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ بنادیا ہے تا کہ اسرائیل کے ظلم و جبر کے خلاف انٹرنیٹ پر چلائی جانے والی تحریکوں کا راستہ روکا جا سکے ۔

ویب سائٹ العربی کی رپورٹ کے مطابق جورڈانہ کٹلر، جو کہ واشنگٹن میں اسرائیلی سفارتخانے میں چیف آف سٹاف بھی ہیں، نے فیس بک کے اسرائیل آفس میں اختیارات سنبھال لئے ہیں اور وہ بی ڈی ایس تحریکوں (اسرائیل کے بائیکاٹ کے لئے چلائی جانے والی تحریکیں) کے خلاف کام کریں گی۔ اسرائیلی وزیر برائے عوامی سلامتی گیلاڈ ایرڈان نے جورڈانہ کی تعیناتی کو سراہا اور متعدد قانونی اقدامات کا اعلان بھی کیا جن کا مقصد اسرائیلی حکومت کے کسی بھی قسم کے بائیکاٹ کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

خاکروب کو افسر نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ بیٹھے بٹھائے مالا مال کردیا، منٹوں میں بغیر کسی محنت کے کروڑ پتی بنادیا، مگر آپ ایسی باتیں بالکل نہیں سننا چاہیں گے

گیلاڈ نے اپنے بیان میں کہا ”اگر ہم دنیا کو قائل کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کو غیر قانونی قرار دینے کے نتائج بھگتنا ہوں گے تو ہمیں آغاز یہاں اسرائیل سے ہی کرنا ہوگا۔ اگر کوئی اسرائیل کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ میں نے وزارت انصاف کے ساتھ مل کر ایک قانونی ٹیم تشکیل دی ہے جو اس معاملے میں قانون سازی کرے گی۔ فیس بک اور اسرائیلی ریاست کے درمیان ڈائیلاگ میں پیشرفت ہوئی ہے۔ فیس بک محسوس کرتی ہے کہ یہ اس کی زمہ داری ہے کہ اسرائیل کے خلاف سامنے آنے والے معاملات کو ختم کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ اس قسم کے مواد پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگائی جائے گی۔“

واضح رہے کہ بی ڈی ایس موومنٹ ایک عالمی تحریک ہے جس کا مقصد غیر متشدد طریقوں سے اسرائیل کی ناجائز اور غاصبانہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے لوگوں کو اس کے بائیکاٹ کیلئے قائل کرنا ہے۔ جب 2005ءمیں اس تحریک کا آغاز ہوا تو اسرائیل سمیت دنیا نے اس کا مذاق اڑایا، لیکن جب اس تحریک نے شدت پکڑی تو دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اسرائیل کے فلسطین پر ناجائز قبضے کے خلاف شعور پیدا ہوا اور لوگوں نے بڑی تعداد میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کردیا، جس پر اسرائیلی حکومت بے حد پریشان ہے اور اس تحریک کے خلاف پوری قوت سے سرگرم ہو چکی ہے۔

مزید : بین الاقوامی