عام انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق ہی کروائے جائیں گے: الیکشن کمیشن

عام انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق ہی کروائے جائیں گے: الیکشن کمیشن
عام انتخابات پرانی حلقہ بندیوں کے مطابق ہی کروائے جائیں گے: الیکشن کمیشن

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فائنل ڈیٹا فراہم کی جانے تک حلقہ بندیوں کا کام شروع نہیں کیا جا سکتا قانون کسی بھی عبور ی ڈیٹا اور عبور ی انتظامات کی اجازت نہیں دیتا موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی عام انتخابات 2018 کروانے ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربرارہی میں الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس ہوا۔ جس میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے چیف شماریات کمشنر آصف باجوہ نے الیکشن کمیشن کو مردم شماری کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس میں چاروں ممبران الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے سرکردہ افسران نے بھی شرکت کی۔چیف شماریات کمشنر آصف باجوہ نے بتایا کہ مردم شماری کا کام مکمل ہو گیا ہے اور اضلاع سے وصول شدہ اعدا دو شمار کی ڈیٹاانٹر ی کا کام جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ اپریل 2018 تک قومی ، صوبائی اور ضلع سطح پر مردم شماری کی حتمی رپورٹ شائع کر دی جائے گی اور یوں پھر الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جا سکے گااور اس سے پہلے یہ ڈیٹا دینا ممکن نہیں تاہم عبوری(Provisional ) ڈیٹا جولائی 2017 کے آواخر تک دے سکتے ہیں جو کہ حتمی اور شائع شدہ نہیں ہوگا۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جب تک الیکشن کمیشن کو فائنل ڈیٹا فراہم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہم کسی بھی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ہم حلقہ بندیوں کا کام شروع کر سکیں۔ قانون کسی بھی عبور ی ڈیٹا اور عبور ی انتظامات کی اجازت نہیں دیتا اس صورت میں مجبور ہمیں موجودہ حلقہ بندیوں کے مطابق ہی عام انتخابات 2018 کروانے ہونگے۔ کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق جب تک مردم شماری کی حتمی رپورٹ باقاعدہ سرکاری طور پر شائع نہیں کی جاتی تو اس وقت تک حلقہ بندیوں کا کام شروع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک قانونی شق ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں۔

حسن علی نے انگلش کپتان کی وکٹ لے کر اپنے والد کی خواہش پوری کی لیکن فخر زمان نے بھارت کیخلا ف میچ میں سینچری بنا کر کس کی خواہش پوری کی ؟ پہلی مرتبہ فخر پاکستان فخر زمان نے راز سے پردہ اٹھا دیا

چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے لئے آئندہ عام انتخابات 2018 کے حوالے سے بہت ساری مشکلات کھڑی کر دی گئی ہیں۔ ایک طرف نیا الیکشن ایکٹ 2017 ابھی تک فائنل نہیں ہوا اور کے ساتھ ساتھ اب مردم شماری اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپریل 2018 تک مردم شماری کی رپورٹ میں مزید مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ حکومت کسی بھی طور پر سنجید ہ نظر نہیں آ رہی کہ وہ نئے انتخابی قانون کو جلدنمٹائیں۔ تاکہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات 2018 کے تیاریوں کے حوالے سے پورا موقع اور وقت مل سکیاور اب ادارہ شماریات نے بھی مطلوبہ ڈیٹا اپریل 2018 کو دینے کا اعلان کر کے حلقہ بندیوں کے کام کو بھی کھٹائی میں ڈال دیا ہے اب الیکشن کمیشن کے لئے قانونی طور پر کسی بھی طرح پر ممکن نہیں رہا کہ ہم نئی حلقہ بندیوں کر کا م شروع کروا سکیں۔ انھوں نے کہا الیکشن کمیشن کو حلقہ بندی کے کام کے لیے سات ماہ درکار ہیں۔ اگر محکمہ شماریات اپریل 2018 میں حتمی رپورٹ فراہم کر رہاہے کہ تو یہ کسی طور پر ممکن نہیں کہ 2018 کے عام انتخابات مقررہوقت جولائی ، اگست 2018 میں نئی حلقہ بندیوں کے ساتھ ہوں سکیں۔ مجبور ہمیں موجوہ حلقہ بندیوں پر ہی 2018 کے عام انتخابات کروانے پڑیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں