حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری کردیاگیا ( 1)

حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری ...
حکومت کا تاریخی فیصلہ: قرآن مجیدکی طباعت کے لئے درآمدی پیپرڈیوٹی فری کردیاگیا ( 1)

  



نگران حکومتوں کے قیام سے پہلے وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کردہ حالیہ بجٹ چھٹااورآخری بجٹ تھا۔اپوزیشن نے حسب معمول بجٹ کومکمل طورپرمستردکردیا۔

جانے والے حکومتی وزرأکے نزدیک یہ کامیاب بجٹ تھا اورموجودہ حالات میں اس سے بہتربجٹ پیش کرناممکن نہ تھا۔ اپوزیشن، وزرا اور میڈیا کے شورمیں بجٹ کاایک نہایت ہی اہم پہلودب کررہ گیا،اس طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں کی، یہاں تک کہ وزرأ بھی خاموش رہے، حالانکہ یہ حکومت کی ایک بہت ہی اہم پیش رفت تھی۔

وفاقی حکومت نے قرآن مجیدکی طباعت بہتر بنانے کے لئے درآمدی پیپرکومکمل ڈیوٹی فری کردیا ۔ بلاشبہ یہ ایک تاریخی قدم ہے جوپاکستان کی سترسال کی تاریخ میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پہلی بار اٹھایا،اخباری کاغذکوڈیوٹی فری کرنے کا فیصلہ غالباً محمدخان جونیجو مرحوم کے دورمیں کیاگیاتھا۔

اخبارات کے مالکان کامطالبہ تھاکہ اخباری کاغذ ڈیوٹی فری کیاجائے، چنانچہ اس وقت حکومت نے اخبارات کے مالکان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے درآمدی کاغذکوڈیوٹی فری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ قرآن مجیدکی طباعت کے معیارکوبہتربنانے کے لئے درآمدی پیپرکوڈیوٹی فری کرنے کافیصلہ نہ تو سیاسی ہے اورنہ کاروباری بلکہ یہ خالصتاًدینی معاملے میں بہتری کا فیصلہ ہے،جس کامقصددین کی خدمت، اللہ کی رضا اور قرآن مجیدکی طباعت کے معیارکوبہتربنانے کے علاوہ کچھ نہیں۔

غالباًیہی وجہ ہے کہ سابق حکومت نے اس فیصلے کی تشہیرتک نہیں کی۔

قرآن مجیداللہ کی نعمت وامانت ہے اور مومنوں کے لئے شفابھی ہے، اسی طرح قرآن مجیدمیں روحانی اورجسمانی بیماریوں کاعلاج بھی ہے، لیکن ضروری ہے کہ اسے باربارپڑھاجائے، اس کاباربارتذکرہ کیاجائے اوراس کی تعلیمات پرعمل کیاجائے۔

ہمارے علمأقرآن مجیدکے فضائل ومسائل اور مناقب تو بیان کرتے ہیں، اس موضوع پرکتابیں بھی لکھی جاتی ہیں، مگر قرآن مجیدکی عمدہ طباعت واشاعت کے بارے میں عموماًکچھ بھی بیان نہیں کرتے۔اس کا نتیجہ ہے کہ ناشران قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کااہتمام بڑے پیمانے پرکرتے ہیں، مگر عموماً یہ طباعت غیرمعیاری ہوتی ہے۔پاکستان میں پرائمری کی درسی کتب کے لئے معیار مقرر ہے، لیکن اللہ تعالی کی کتاب ۔۔۔قرآن مجیدکی طباعت کے لئے کچھ بھی معیارمقررنہ کیا جاسکا۔

قرآن مجیدسے یہ بے رغبتی اور بے اعتنائی سمجھ سے باہر ہے۔ تاہم 30 جولائی 1973ء کو اس وقت کی پارلیمنٹ نے علما اور عوام کے باربارتوجہ دلانے پرقرآن ایکٹ پاس کیا،اس ایکٹ کی روسے ناشران کوپابندکیاگیاکہ وہ کم ازکم52 گرام پیپرپرقرآن مجیدچھاپیں گے۔

کچھ عرصہ تک ناشران نے اس ایکٹ کی پابندی کی اورشائداس ایکٹ کے پاس کرنے کاہی نتیجہ تھاکہ کچھ عرصہ بعداللہ نے مشرق وسطی کے دروازے پاکستانیوں کے کھول دیئے۔ پاکستان میں دولت کی ریل پیل ہونے لگی، جس سے عام آدمی کامعیارزندگی بلندہوااب چاہئے تو یہ تھاکہ قرآن مجیدکی طباعت کامعیاربھی بلند ہوتا، لیکن اس کے برعکس ناشران نے قرآن مجید 52گرام کے منظور شدہ کاغذ پر چھاپنے کی بجائے، اس سے بھی کم 35 اور 40گرام کے کاغذپرچھاپناشروع کردیا،جس سے قرآن مجیدکی شہادت کاگراف خوفناک حدتک بڑھ گیا۔

قرآن مجیدتمام انسانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے ،اس لئے اس کتاب کاادب واحترام بھی فرض ہے۔

ضرورت اس امرکی تھی کہ تمام ناشران اپنے طورپرقرآن مجیدکی خوبصورت کتابت، عمدہ طباعت واشاعت اورمضبوط و پائیدار جلدبندی کا خیال رکھتے، اسی طرح مختلف اوقات میں پاکستان میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں کابھی فرض تھاکہ قرآن مجیدکی تعلیمات کاجہاں تمام شعبہ ہائے زندگی میں نفاذکیاجاتا،وہاں سرکاری سطح پراس کتاب مقدس کی طباعت واشاعت کے معیارکوبہتربنانے کے لئے موثراورمثبت اقدامات کئے جاتے،مگرافسوس ماضی کی تمام حکومتیں اس فرض کی ادائیگی سے غافل رہیں۔

نہ توناشران قرآن نے اس ذمہ داری کو سمجھااورنہ ہی پاکستان میں مختلف اوقات میں برسراقتدارآنے والی حکومتوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔اکثرناشران نے قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے مقدس فریضہ کوکمائی کا ذریعہ بنا لیا۔

ری سائیکل پیپر اور انتہائی غیر معیاری کاغذ پردھڑادھڑقرآن مجیدچھاپ چھاپ کراپنی جیبیں بھرناشروع کردیں۔یہ عمل ایک طرف توہین قرآن کاباعث تھاتودوسری طرف قرآن مجیدکے اوراق کی شہادت کاگراف بھی بہت بڑھ گیا،اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شہیدقرآنی اوراق کو مناسب اورباعزت طریقے سے محفوظ کرنابذات خودایک سنگین مسئلہ بن چکاہے،اس صورت حال کاحل صرف ایک ہی ہے کہ قرآن مجیدکی طباعت واشاعت کے لئے معیاری اور پائیدار پیپر استعمال کیا جائے، مگربدقسمتی سے اکثرناشران ایسا نہیں کرتے۔

وہ قرآن مجیدکی طباعت کے لئے غیرمعیاری کاغذ استعمال کرتے ہیں،بلکہ کچھ ناشران تو نیوز پر نٹ بھی استعمال کر تے ہیں۔یعنی وہ کاغذ جس پر اخبارات شائع کیے جاتے ہیں،اس کاغذمیں نہ تو پا ئیدا ری ہو تی ہے اور نہ ہی خوبصورتی،یہاں تک کہ بعض اوقات صفحے کے ایک طرف کے چھپے ہوئے الفاظ دوسری طرف صفحے پر نظرآرہے ہوتے ہیں، جس سے پڑھنے والوں کو دشواری پیش آتی ہے اوراس طرح کے قرآن مجید، سیپارے اور قاعدے جلد شہید ہو جاتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ قرآن مجیداللہ تعالی کی کتاب ہے اس کی حفاظت کی ذمہ داری خوداللہ تعالی نے لے رکھی ہے۔ قرآن مجیدحکومتوں یا افراد کا محتاج نہیں، بلکہ لوگ قرآن مجیدکے محتاج ہیں۔

اللہ ہر دورمیں اورقیامت تک ایسے افرادپیداکرتارہے گا، جو دل و جان سے قرآن مجیدکی خدمت و حفاظت کریں گے۔پاکستان میں بھی بہت سے لوگ قرآن مجیدکی خدمت وحفاظت کامقدس فریضہ اپنے اپنے اندازمیں انجام دے رہے ہیں۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم