نیلام کئے بغیر سرکاری اراضی لینے پر پابندی

نیلام کئے بغیر سرکاری اراضی لینے پر پابندی

سپریم کورٹ کی طرف سے نیلام کئے بغیرزمین لینے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ یہ پابندی چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو سرکاری اراضی کی لیز اور الاٹمنٹ کے لئے 40 درخواستوں کی سماعت کے موقع پر لگائی گئی۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ سندھ میں کس قانون کے تحت سرکاری زمینیں الاٹ کی جارہی ہیں۔ یہاں بندربانٹ ہورہی ہے۔ گھر بیٹھے درخواست دینے والوں کے لئے مرضی کے چار افراد کی کمیٹی بناکر بغیر نیلام پلاٹ الاٹ کردیئے جاتے ہیں۔ عدلیہ قبضہ مافیا کی یہ لوٹ مار مزید نہیں ہونے دے گی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس بلاشبہ فکر انگیز ہیں۔ یہ شکایات عرصے سے سامنے آ رہی تھیں کہ سندھ میں زمینوں پر اندھا دھند قبضے ہورہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، جس کا جہاں زور چلتا ہے، وہ سرکاری اراضی پر قبضہ کر لیتا ہے۔ ان باتوں کو سیاسی الزام تراشی قرار دیا جاتا رہا۔ وجہ یہ ہے کہ اعلیٰ سرکاری حکام کو اوپر سے کوئی ایکشن نہ لینے کے لئے کہہ دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اس ملی بھگت کے بارے میں واضح طور پر بتایا ہے کہ من پسند اور منظور نظر افراد کو گھر بیٹھے الاٹمنٹ لیٹر دے دیئے جاتے ہیں اور رسمی طور پر دفتری کارروائی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ سرکاری اراضی اور دیگر اثاثوں کی اسی طرح ملی بھگت سے لوٹ مار ہوا کرتی ہے۔ جب باغ کا رکھوالا ہی چوروں سے مل جائے تو باغ اجڑ ہی جایا کرتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ برسوں بعد جب کبھی ایکشن لیا جاتا ہے تو اس لوٹ مار کے ذمے دار مرکزی کردار سزا سے بچ نکلتے ہیں اور ’’قربانی‘‘ کے بکروں کو تفتیشی اداروں کے حوالے کردیا جاتا ہے،’’مک مکا‘‘ کے نتیجے میں چند سرکاری ملازمین کو عدالتی پیشیاں بھگت کر معمولی سزا کا حکم ملتا ہے، کروڑوں اربوں روپے کا نقصان کرنے والے عبرت کا نشان نہیں بنتے۔سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ اورلیز کے حوالے سے بنیادی طور پر یہ پالیسی ہی غلط ہے ، جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قبضہ مافیا کو اعلیٰ حکومتی ذمے داران اور متعلقہ حکام کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے کھلی لوٹ مار کا موقع ملتا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کی طرف سے اس طریق کار کو ختم کرتے ہوئے نیلام کئے بغیر سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ پر پابندی لگانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔اگر کسی دوسرے صوبے میں بھی نیلام کے بغیر سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ ہو رہی ہے تو وہاں بھی پابندی لگا دینی چاہئے۔اس فیصلے پر عملدرآمد سے قبضہ مافیا کی لوٹ مار مزید نہیں ہو سکے گی۔ سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ اور لیز کے معاملے میں شفافیت ممکن ہوگی۔ قانون کے تقاضے بھی پورے کئے جا سکیں گے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے راستے بند ہو سکیں گے آئندہ جس کسی کو بھی سرکاری زمین حاصل کرنا ہوگی، وہ نیلام کے ذریعے ہی حاصل کر سکے گا۔

مزید : رائے /اداریہ