بے نظیر غریبوں کی ہمدرد

بے نظیر غریبوں کی ہمدرد
بے نظیر غریبوں کی ہمدرد

  



محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کا روشن چہرہ تھیں وہ عالم اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم تھیں۔ انہوں نے بدترین آمریت کے خلاف نہایت بہادری اور جرأت سے جدوجہد کے تاریخ انگیز باب رقم کئے۔

عالمی برادری میں ان کی سیاسی بصیرت اور فکر و فرائض پر سیمینار اور لیکچررز کااہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ان کے سیاسی تدبر اور عالمی امور کے ادراک سے استفادہ کیا جائے۔

1999ء میں پرتگال میں خواتین کی ایک کانفرنس ہوئی ، اس کانفرنس کا اہتمام وہاں کی مقامی خاتون میئر نے کیا۔ اس کانفرنس میں ، میں بھی بی بی کے ساتھ شریک ہوا ۔

بی بی امریکہ میں لیکچررزکے دورے پر تھیں انہوں نے یہ پیغام دیاکہ میں پرتگال پہنچ کر ان کے ساتھ کانفرنس میں شریک ہوجاؤں۔ یہ کانفرنس خواتین کے سیاسی و سماجی کردار کے بارے میں تھی ۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کو بے حد سراہا گیا۔ بی بی کے خطاب نے حاضرین پر سحر طاری کر دیا ۔انہوں نے اپنے منفرد انداز میں سوالات کے جواب دیئے اور ہر کوئی ان سے ملاقات کا خواہش مند تھا، چنانچہ لنچ میں انہوں نے مدعوین کے ساتھ بڑے بے تکلف انداز میں بات چیت کی۔

بی بی بے حد خوش تھیں۔ جب ہم واپس لندن آئے تو اگلے دن کے اخبار میں خبر آئی کہ بے نظیر بھٹو کو عدالت میں عدم حاضری پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی اس خبر پر بی بی نے افسوسناک انداز میں کہا کہ دیکھیں کل یورپی مُلک میں کس طرح میری پذیرائی ہوئی ۔ عزت و احترام دیا گیا لیکن میرے اپنے ملک میں میرے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔

عالمِ عرب میں بھی بی بی کی بہت عزت تھی اور انہیں دختر اسلام کے نام سے پکاراجاتا تھا۔ اپنے خلاف جھوٹے مقدمات کے بارے میں بی بی کا کہنا تھا کہ یہ میرے حوصلہ اورہمت کو توڑ نہیں سکتے،بلکہ ان ہتھکنڈوں نے ان کی استقامت اور جرأت کو جلا بخشی اورانہوں نے ان مصائب اور مشکلات کا صبر و استقامت سے مقابلہ کیا۔ بی بی کا قول تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔

جلا وطنی کے ایام میں بی بی کئی محاذوں پر لڑ رہی تھیں۔ بیک وقت کئی کردار نبھا رہی تھیں۔

وہ اپنے بچوں کے لئے باپ بھی تھیں اور ماں بھی۔ اپنی تنہائی کا احساس بے شک تھا،لیکن وہ پارٹی امور اور عالمی امور پر نظر رکھ کر اس وقت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتی تھیں وہ کمپیوٹر پر پانچ گھنٹے روزانہ کام کرتی تھیں۔ آرٹیکل تحریر کرتیں اور اہم معاملات پر اپنے بیانات جاری کرتیں۔

اس طرح انہوں نے اپنی جلاوطنی کے ان ایام کا بھرپور فائدہ اٹھایا اسی وجہ سے 1999ء سے 2007ء تک پاکستان پیپلز پارٹی متحرک فعال اور متحد رہی۔ بے نظیر بھٹو کی شخصی عظمت کا خوبصورت ترین پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ایک انسانیت نواز ، رحمدل اور غریب پرور خاتون تھیں۔ ان کا دل غریبوں کی ہمدردی سے لبریز تھا۔

وہ ان کی تکلیف پر پریشان ہوجاتیں اور مصیبت میں ان کی مدد اپنا فرض تصور کرتی تھیں اور یہ ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔وزیراعظم کی حیثیت سے عام افراد کی مدد کر کے ان کے مصائب کم کئے۔ اور کئی خاندانوں کو مشکلات سے بچایا ۔بی بی نے پارٹی کارکنوں کا بھی خیال رکھا اور ان کی جائز مدد بھی کرتی رہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے ادب ،صحافت اور فنون لطیفہ سے وابستہ افراد کی اپنے خصوصی فنڈ سے مدد کی۔ اِس ضمن میں ممتاز دانشور اور صحافی جناب حمید اختر، خوبصورت ترقی پسند شاعر جناب ظہیر کاشمیری، جناب حفیظ راقب ، اسرار زیدی اور اپنے وقت کی نامور اداکارہ صبیحہ خانم وغیرہ کی مالی امداد کی ،پاک ٹی ہاؤس کے خدمت گار شریف بنجارہ کو ایک لاکھ روپے ٹپ دی، جس سے اس کی روزمرہ کی زندگی میں خوشیوں کے پھول کھل اُٹھے۔

وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے میرے توسط سے درجنوں افراد کی مدد کی۔ ان میں اہلِ صحافت ، اہلِ قلم،اہلِ دانش و فکر شامل ہیں۔ درجنوں لوگوں کو ملازمت دے کر ان کا مستقبل سنوارا اور کئی نادار لوگ ان کی رحمدلی سے نوازے گئے۔ غریب پروری بی بی کا اہم وصف تھا۔ نادار لوگ آج بھی بی بی کو یاد کرکے انہیں دعائیں دے رہے ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے دُنیا کو اپنی بصیرت سے متاثر کیا۔ شہادت کے بعد انہیں ایک غیر متنازعہ لیڈر کا درجہ ملا۔اپنے سیاسی تجربات کے ساتھ ساتھ انہوں نے انسانی سطح پر اپنا کردار مثالی بنا کر پیش کیا۔

اپنے والدین کی طرح بی بی کی شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ میں سائے کی طرح قدم بہ قدم ان کے ساتھ رہا یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے اپنا شیڈو کہتی تھیں میرے ساتھ تو ان کا برتاؤ مہربانہ تھا اور مجھ پر مکمل اعتماد تھا۔

بی بی شہید ایک مہربان روح تھیں وہ سب کی تکلیفیں دور کرنا چاہتی تھیں۔ 21 جون بی بی کا 65 واںیوم پیدائش ہے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی سیاسی و شخصی عظمت مسلمہ حقیقت ہے ان کی عظمت کے ستارے عالمی افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک دمک رہے ہیں۔ آج ان کا راستہ روکنے والے مجرم بنے کہٹرے میں کھڑے ہیں، جبکہ بی بی کے لئے عام آدمی کا دل دعاؤں سے لبریز ہے۔

اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے۔ آمین۔

مزید : رائے /کالم