پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا المیہ!

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا المیہ!
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا المیہ!

  

اندیشوں، تحفظات اور شکوک کے باوجود انتخابی عمل آگے بڑھ رہا ہے۔ کاغذات نامزدگی کے بعد جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہو کر اب ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت جاری ہے کہ بہت اہم ترین رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد ہوئے، ان میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی شامل ہیں۔

کاغذات نامزدگی کا استرداد بعض صورتوں میں دہری شہریت کے باعث بھی ہوا۔ ایسے حضرات ماضی میں دہرے مزے لوٹتے رہے کہ غیرملکی شہریت بھی رکھی اور رکن پارلیمنٹ بھی رہے لیکن اب سپریم کورٹ کی طرف سے وضاحت کے بعد یہ ممکن نہیں رہا، چنانچہ پیپلزپارٹی کے عبدالرحمن ملک کو بھی برطانوی شہریت چھوڑنا پڑی۔

سندھ کے سابق وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے پاس بھی کینیڈا کی شہریت ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی یہ شہریت ترک کر چکے ہیں اور انہوں نے ثبوت بھی پیش کیا، بہرحال الیکشن ٹربیونلز کو تمام اپیلوں کے فیصلے 28جون تک کرنا ہیں تاکہ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جا سکے۔

یہ وہ صورت حال ہے جو سب کے سامنے ہے، اس کے ساتھ ہی احوال واقعی یہ بھی ہے کہ ساتھ ساتھ انتخابی مہم بھی جاری ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم پر تنازعات بھی ہیں، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی زیادہ دشواری میں ہیں کہ یہ روائت بھی ہے کہ متوقع امیدوار وقت پر پلڑا بھاری محسوس کرکے وفاداری تبدیل کر لیتے ہیں۔

عموماً یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی پارٹی نہیں بدلی اور ایک جماعت میں رہے بھی نہیں، اس اجمال کی تعریف یہ ہے کہ ایسے ایک ’’معزز رہنما‘‘ سے کسی نے پوچھا، آپ ہر مرتبہ جماعت تبدیل کر لیتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا’’ میں نے تو کبھی جماعت تبدیل نہیں کی یہ تو حکومت بدل جاتی ہے، میں ہمیشہ حکومتی جماعت میں رہا ہوں، میری پارٹی حکومتی پارٹی ہے‘‘، اب ان کو ’’الیکٹ ایبل‘‘ کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے اپنے حلقہ میں اثر رکھتے اور خود ان کا اپنا ووٹ بینک بھی ہوتا ہے جو برادری، تعصب، دھڑے بندی اور خوف کے باعث بھی رہتا ہے۔ چنانچہ جب یہ لوگ کسی جماعت سے رجوع کرتے یا ان کو بلایا جاتا ہے تو متعلقہ پارٹی والوں کے سامنے ووٹ بینک بھی ہوتا ہے اور وہ ’’جیتو امیدوار‘‘ کے طور پر ایسے حضرات کو شامل کرتے ہیں تو پھر ان کا ٹکٹ بھی پکا ہوتا ہے۔

’’الیکٹ ایبل‘‘ کی اس طرح آمد اس جماعت کے مستند کارکنوں کے لئے ’’بم‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے اور پھر ردعمل بھی ہوتا ہے، آج کل کا ردعمل دھرنوں اور احتجاج کی صورت میں بھی ہوا، کیونکہ پرانے لوگ نظریاتی طور پر جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں وہ چھوڑ کر نہیں جاتے جبکہ ’’الیکٹ ایبل‘‘ کی تو اپنی بلیک میلنگ ہوتی ہے۔ ان دنوں یہ کشمکش تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں ہو رہی ہے۔

تحریک انصاف کو سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں احتجاج کا سامنا ہے تو پیپلزپارٹی کو سندھ میں مسائل ہیں، کئی لوگ ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پارٹی چھوڑ کر موجودہ پیر پگارو صبغت اللہ راشدی کی چھتر چھاؤں ’’گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس‘‘ میں چلے گئے اور یوں اس اتحاد میں الیکٹ ایبلز کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

حالات حاضرہ پر اچٹتی سی نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین اور ان کے ’’کمانڈر‘‘ (ان کو اے ٹی ایم مشین کہا جاتا ہے) یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ 2018ء کا انتخاب وہی جیت رہے اور کپتان وزیراعظم ہوں گے۔

اس یقین ہی کی بناء پر عمران خان کا کرکٹ والا رویہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ ایک بار تنظیم سازی کے موضوع پر کراچی میں ان کی آمد پر احتجاج ہوا تو انہوں نے متعدد کارکن رہنما جماعت ہی سے نکال دیئے تھے۔ اور اب بنی گالا میں ٹکٹوں کی تقسیم اور مسلم لیگ (ق) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر احتجاج ہوا تو عمران خان نے دوٹوک انداز میں کہہ دیا کہ احتجاج کی بنا پر وہ اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے۔

ان کی جماعت والوں نے واہ ، واہ کرکے داد دی، لیکن جاننے والوں کو دور کرکٹ یاد آ گیا جب کپتان کے رویے کو ’’رعونت‘‘ قرار دیا گیا تھا، بہرحال یہ ان کی جماعت کا معاملہ ہے اور وہ خود نمٹ لیں گے، تاہم ایک دلچسپ بات بتا دیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے خواتین اور اقلیتوں کی محفوظ نشستوں کے لئے اپنے اپنے امیدواروں کی ترجیح فہرستیں جمع کرا دی گئی ہیں، یہ عمل 11جون کو مکمل ہو چکا، کپتان اب خواتین کی ٹکٹوں پر نظرثانی کر رہے ہیں اس حوالے سے اب وہ چاہیں بھی تو فہرست میں سے کسی کو رد کرکے نیا نام درج نہیں کرا سکتے اس کے باوجود وہ نظرثانی کا کہہ کر پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھی وضاحت کر دی کہ کسی امیدوار کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، ہمارے خیال میں کوئی جماعت ترجیحی فہرست میں کسی امیدوار کا نمبر آگے پیچھے کرنے کی درخواست دے سکتی ہے، فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔

جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو آصف علی زرداری کے وکیل سابق وزیر قانون اور پارلیمانی امور فاروق اے نائیک کا یہ بیان ’’شکوک‘‘ پیدا کرتا ہے کہ ’’کوئی تیسری قوت‘‘ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو انتخابی عمل سے باہر نکالنا چاہتی ہے۔

یاد رہے کہ آصف علی زرداری خود آئندہ کے وزیراعظم کے بھی امیدوار ہیں اور ان کی بہن فریال تالپور صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ رہی ہیں اس سے یہ کہا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری کے نزدیک وہ سندھ کی اگلی وزیراعلیٰ ہوں گی۔ اس تناظر میں دیکھیں تو سمجھ آئے گی کہ فاروق اے نائیک کے بیان کا کیا مطلب ہے۔(ویسے فاروق اے نائیک تیسری قوت والے بیان سے مُکر گئے ہیں)

بہرحال انتخابی عمل اپنی راہ پر ہے، ہماری خواہش اور گزارش یہی ہے کہ یہ عمل پرامن طور پر طے ہو جائے اور پھر سے ایک مثالی پُرامن انتقال اقتدار کی بنیاد بنے تاکہ جمہوریت آگے بڑھے کہ ابھی تک ہمارے ملک میں جمہوری کلچر نہیں بن سکا، یہاں ’’انتخابی جنگ‘‘ ’’ذاتی لڑائی‘‘ بن جاتی اور فسادات ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ ایسا ہو رہا ہے ابھی گزشتہ روز ہی ایک ٹاک شو میں فواد چودھری اور طلال چودھری کے درمیان تلخ اور رکیک جملوں کا تبادلہ ہوا، اینکر نے جو ایک پرانے صحافی ہیں ان کو روکنے (نیم دلانہ) کی کوشش کی لیکن وہ باز نہیں آئے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس نازیبا گفتگو کو آن ایئر جانے دیا گیا، حالانکہ یہ شو براہ راست نہیں تھا اس کی پہلے ریکارڈنگ ہوئی تھی،ایسے الفاظ ایڈٹ ہونے کے مواقع بھی حاصل تھے لیکن ایسا نہ کیا گیا البتہ شو کی ریکارڈنگ نشر کرتے وقت ’’خبردار‘‘ ’’بچے نہ دیکھیں‘‘ کے انتباہی فقرے دکھائے گئے، اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ یہ بھی ماضی میں انگریزی فلموں کی سکریننگ سے لیا گیا۔ جب لکھا جاتا تھا صرف بالغوں کے لئے اور یہ الفاظ نابالغ نوجوانوں کے تجسس کو سہ گنا بڑھا دیتے تھے‘‘ اللہ ہمیں فساد سے بچائے کہ اب تک تمام رکاوٹیں دور ہونے کے باوجود فسادات اور سیلاب کا خدشہ موجود ہے۔

مزید : رائے /کالم