کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے!

کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے!
کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے!

  

ایک بار مَیں اپنے علاقے میں قائم فوجی چیک پوسٹ سے گذر رہا تھا، تو ڈیوٹی پر موجود سپاہی نے پوچھا آپ کے پاس کیمرہ تو نہیں ہے۔ میری ہنسی چھوٹ گئی، مَیں نے کہا آج کل ہر بندے کے پاس کیمرہ ہے، تقریباً دس کروڑ کیمرے ہر طرف گھوم رہے ہیں، کیونکہ دس کروڑ موبائل فون کنکشن چل رہے ہیں۔

آج کے زمینی حقائق کے پیشِ نظر یہ سوال تمہیں کس نے پوچھنے کے لئے کہا ہے؟ وہ لاجواب سا ہو گیا اور اُس نے مجھے جانے دیا۔۔۔جو کچھ آج کل زمین پر ہو رہا ہے، وہ کسی نہ کسی کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی واقعہ ہو اور اُس کی ویڈیو فوٹیج نہ ملے، سو ایسے میں اگر خادم اعلیٰ شہباز شریف کی لندن میں بھاگ کر سڑک کراس کرنے کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ ویسے تو اِس بات کی ستائش کی جانی چاہئے تھی کہ وہ لندن میں ٹیکسی پر سفر کرتے ہیں اور ٹیکسی سڑک کے دوسری طرف اُتار دے تو پیدل ہی سڑک کراس کر کے دوسری سمت جاتے ہیں،مگر چونکہ بعض شخصیات کا امیج ایسا بن جاتا ہے کہ انہیں زمینی مخلوق ہی نہیں سمجھا جاتا،اِس لئے یہ ویڈیو ایسی چلی کہ سارا دن ٹی وی چینلوں کی بریکنگ نیوز بنی رہی۔موازنہ یہ کیا جاتا رہا کہ شہباز شریف پاکستان میں کس کروفر کے ساتھ پھرتے ہیں اور لندن میں اُن کا کیا حال ہوتا ہے۔

اب اس کے پیچھے کہانی کیا ہے؟کوئی نہیں جانتا۔ ایسا تو نہیں کہ لندن میں شہباز شریف کے چاہنے والے موجود نہ ہوں۔ خود مسلم لیگ(ن) کی ایک بڑی تنظیم برطانیہ میں موجود ہے، کیا مشکل تھا کہ انہیں ایک اچھی گاڑی مل جاتی، مگر انہوں نے از خود ٹیکسی پر سفر کرنے کو ترجیح دی اور اسی وجہ سے تماشا بن گئے۔ مَیں تو اِس بات پر شکر ادا کر رہا ہوں کہ شہباز شریف جلدی سے بھاگ کر سڑک کراس کر گئے وگرنہ تو موٹر سائیکل والا انہیں ٹکر مارنے ہی والا تھا۔

ہمارے سیاست دانوں اور لیڈروں کو اب یہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ اُن پر کروڑوں افراد کی آنکھیں جمی ہوئی ہیں، پَل پَل کی سرگرمی کو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے، اِس لئے اگر اُن کی زندگی میں کوئی تضاد موجود ہے تو وہ چھپ نہیں سکے گا۔

ابھی کچھ روز پہلے اسحاق ڈار کے ساتھ یہی کچھ ہو چکا ہے، وہ جب احتساب عدالت میں اپنے وکیل کے ذریعے چلنے پھرنے سے معذوری کا عذر پیش کر رہے تھے تو اُسی دن ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر اُن کی بھاگتے دوڑتے ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔

انہوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح کیمرے کی آنکھ سے بچ جائیں،مگر کہاں،کوئی ایک کیمرہ ہو تو بندہ بچ بھی جائے، یہاں تو ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں، سو اس کی باز گشت سپریم کورٹ تک سُنی گئی اور اُن کی سینیٹ رکنیت معطل کر دی گئی۔

جب سٹل تصویروں کا زمانہ تھا، تب یہ کہا جاتا تھا کہ فوٹو شاپ کے ذریعے ردوبدل کیا گیا ہے،مگر اب تو چلتی پھرتی تصویروں کا زمانہ ہے،کوئی جھٹلائے تو کیسے کہ یہ میری ویڈیو نہیں، سو اب احتیاط لازم ہے۔

پاناما کیس اگر تصویروں کے زمانے میں ہوتا تو شریف خاندان کے لئے اتنی مشکلات کھڑی نہ ہوتیں،جتنی ویڈیو کیمروں کے زمانے میں ہوئیں۔ ٹی وی چینلوں کو ان کے دیئے گئے انٹرویوز اور نواز شریف کی کیمرے کے سامنے کی گئی تقریریں ان کے لئے عذاب بن گئیں، پھر ٹی وی چینلوں نے انہیں جس طرح بار بار دکھایا اس نے وہ تمام تضادات نمایاں کر دیئے جو شریف فیملی کے مؤقف میں موجود تھے۔

’’میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں‘‘ ایک ضرب المثل جملہ بن گیا اور نوازشریف کا اسمبلی میں دیا گیا بیان کہ ’’حضور یہ ہیں وہ ذرائع‘‘ لوگوں کے حافظے میں محفوظ ہوا اور جھوٹ کا استعارہ بنا، پھر حسین نواز کا یہ تاریخی جملہ بھی زبان زد عام ہوا کہ ’’الحمد للہ یہ فلیٹ ہمارے ہیں‘‘ تو صاحبو! بچ سکتے ہو تو کیمروں کی زد میں آنے سے بچ جاؤ وگرنہ منہ چھپاتے پھرو گے۔

ایک ویڈیو عمران خان اور شیخ رشید کی بھی دیکھنے کو ملتی ہے، جو ایک ٹاک شو کی ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب دونوں کے درمیان اس طرح گاڑھی نہیں چھنتی تھی،جیسی آج چھن رہی ہے۔اس ویڈیو میں دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور شیخ رشید اپنی مخصوص زبان میں عمران خان کو پلے بوائے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب کسی کو کیا معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج جو کچھ کہہ رہا ہے، کل اسے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا خاص طور پر جب وہ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہو گیا ہو۔ ہماری سیاست میں جھوٹ کی گرم بازاری تو ہمیشہ سے رہی ہے، تاہم بچت اِس لئے ہو جاتی تھی کہ موقع آنے پر مکرجانا آسان ہوتا تھا۔

کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے جان چھوٹ جاتی تھی، مگر جب سے کیمرے کی آنکھ نے دیکھنا شروع کیا ہے گویا جگہ جگہ جھوٹ پکڑنے کی مشینیں لگ گئی ہیں۔ ذرا شریف برادران کے بجلی کے دعووں کو ہی لیجئے۔

انہی ویڈیو فلموں نے ان کی خوب درگت بنائی ہے۔ وعدوں سے مکرنا تو ماضی میں بھی سیاست دانوں کا وطیرہ ہوتا تھا، لیکن ثبوت نہیں ملتے تھے، اب تو سب کچھ محفوظ ہو جاتا ہے، جسے کسی وقت بھی منظر عام پر لایا جا سکتا ہے، پچھلے دنوں خورشید شاہ نے اپنے سکھر کو پیرس سے تشبیہ دی تو سب کا ماتھا ٹھنکا، ہائے یہ حقیقت اب تک چھپی کیوں ہوئی تھی، لیکن جلد ہی سکھر کی ایسی ویڈیوز سامنے آ گئیں، جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ شاہ جی کی پیرس سے کیا مراد ہے۔

ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، گندگی کے ڈھیر، سکولوں، ہسپتالوں کی بری حالت اور پانی کی عدم فراہمی، اب کوئی بتائے کہ خورشید شاہ نے کسے بے وقوف بنانے کے لئے ایسا بیان دیا۔ کیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ لوگ پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، انہیں حقیقتِ حال کا عمل ہی نہیں ہوگا۔

اب وہ زمانے چلے گئے جب کنٹرولڈ میڈیا کے ذریعے صرف پسندیدہ مناظر دکھائے جاتے تھے، اب تو سب کچھ کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔ راولپنڈی مری روڈ پر ایک نشے میں دھت نوجوان نے گاڑی روکنے پر ٹریفک وارڈن کو گولی مار کر قتل کیا تو پیچھے آنے والے رکشے میں بیٹھی ایک خاتون نے ویڈیو بنالی اور فوراً سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کر دی۔

سارا منظر پلک جھپکتے ہی لوگوں کے سامنے آ گیا، حالانکہ ٹی وی چینلوں کو یہ دکھانا چاہئے تھا، مگر عوام کے ہاتھ میں جو کیمرے کی آنکھ ہے، وہ بازی لے گئی۔ فیصل آباد میں بس ہوسٹس کے ساتھ گارڈ کی بدتمیزی اور تشدد کی ویڈیو ایک مسافر نہ بناتا تو اس کے قتل کی وجہ ہی سامنے نہ آتی ، سو یہ بھی ایک انقلاب ہے، جس کا ہمیں سامنا ہے، اس کے منفی پہلو بھی بہت ہیں۔ نازیبا ویڈیو فلمیں بھی بنا کر اَپ لوڈ کی جاتی ہیں، بلیک میلنگ کی غرض سے بھی ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں۔

کئی ایسے گروہ بھی گرفتار ہو چکے ہیں جو ایسی قابلِ اعتراض فلمیں بنا کر شہریوں کو لوٹتے تھے۔بچوں کی پورنو گرافی کا سکینڈل بھی سامنے آ چکا ہے، جس نے ہر گھر میں سنسنی دوڑا دی تھی۔

ایک زمانہ تھا کہ کیمرے اور نیٹ کا کوئی تعلق نہیں تھا، کیمرے میں کچھ بن بھی جاتا تو اُس کی تشہیر نہیں ہو سکتی تھی۔ اب تو اِدھر آپ ویڈیو بنائیں اور اُدھر سوشل میڈیا پر ڈال کر پوری دُنیا میں پھیلا دیں۔کوئی رکاوٹ نہیں اور نہ ہی کسی سے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔

ایک شخص نے اُدھر لندن کے ہارلے سٹریٹ ہسپتال میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں بیگم کلثوم نواز زیر علاج ہیں اور اگلے ہی لمحے یہ خبر ویڈیو کی صورت میں پوری دُنیا میں پھیل گئی۔ اب ایسے میں کوئی راز چھپانے کی لئے کتنی احتیاط کرے۔

یہاں تو سب کچھ کیمرے اور سوشل میڈیا کی زد میں آ چکا ہے۔۔۔بہر حال کالم کا آغاز ہوا تھا شہباز شریف کی لندن میں بھاگ کر سڑک کراس کرتے ویڈیو سے، تو اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار اور اشرافیہ احتیاط کرے، یہ نہ سمجھے کہ پاکستان سے باہر آ گئے ہیں تو اب جو چاہیں کریں۔

وہ اپنے لائف سٹائل کے تضادات کو کم سے کم رکھیں، وگرنہ خبر بنتے دیر نہیں لگتی۔شہباز شریف کی ویڈیو اِس لئے بھی بہت مقبول ہوئی کہ انہیں آج تک لوگوں نے بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

ان کی پھرتی اور رفتار کو دیکھ کر پھر کہنا پڑتا ہے کہ’’ شہباز تیری پرواز سے جلتا ہے زمانہ‘‘ یہ تو احمقانہ بات ہو گی کہ ہم شہباز شریف کی لاہور اور لندن میں زندگی کا موازنہ کریں، کسی دوسرے مُلک میں وہ شاہانہ سٹائل کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے جو اپنے مُلک میں ہوتا ہے۔

شہباز شریف یہاں بھی کبھی کبھی موڈ میں آ کر پروٹوکول کے بغیر پھرتے رہے ہیں، کبھی ویگن میں سوار ہو کر اور کبھی پیدل ہی لاہور کے کسی علاقے میں جانا اور لوگوں سے ملنا اُن کی عادت رہی ہے۔

لندن میں تو انہیں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا،وہ ٹیکسی میں بیٹھے اور ہارلے اسٹریٹ پہنچ گئے۔ اب انہیں کیا معلوم تھا کہ کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ رہی ہے۔

وہ نوجوان جیسی پھرتی کے ساتھ سڑک پار کر گئے،مگر یاروں نے اس ویڈیو کو اُن کی شخصیت میں موجود تضادات سے جوڑ دیا۔اب اس کا ازالہ وہ اسی طرح کر سکتے ہیں کہ کسی دن وہ شعیب بن عزیز کے ساتھ شاہراہ قائداعظم لاہور کو اسی طرح بھاگتے ہوئے کراس کریں اور یہ ویڈیو بھی وائرل ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم