اپیلٹ ٹربیونلز میں اپیلیں دائر ہونا شروع ، عمران خان کی بھی درخواست

اپیلٹ ٹربیونلز میں اپیلیں دائر ہونا شروع ، عمران خان کی بھی درخواست

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،سٹاف رپورٹر،این این آئی) الیکشن کیلئے کاغذات نامزدگی مسترد ہونیوالے امیدوار وں نے ریٹرننگ افسروں کے فیصلوں کیخلاف اپیلیں اپیلٹ ٹریبونل میں دائر کرانا شروع کردی ہیں ۔ملک بھر میں ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل 21 ٹریبونل بنائے گئے ہیں جہاں 22 جون تک اپیلیں دائر کی جاسکیں گی اور ٹربیونلز 27 جون تک اپیلوں سے متعلق فیصلے کریں گے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے این اے 53 سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کیخلاف اپیلٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کردی۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 میں ان سے متعلق ریٹرننگ افسر کا فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔رجسٹرار آفس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کل عمران خان کی درخواست پر سماعت کریں گے۔یاد رہے کہ ریٹرننگ افسران نے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال گزشتہ روز مکمل کرلی تھی۔لاہور ہائیکورٹ کے اپیلیٹ ٹریبونل نے پیپلز پارٹی کی نرگس فیض ملک اور تحریک انصاف کی عابدہ راجہ کی اپیلیں مسترد کردیں۔اپیلیٹ ٹریبونل نے دونوں اپیلوں میں ریٹرننگ آفیسرز کا فیصلہ برقرار رکھا جب کہ اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پنجاب میں ووٹ نہ ہونے کی بنا پر ریٹرننگ افسر نے کاغذات نامزدگی مسترد کیے۔بلوچستان کے اپیلیٹ ٹریبونل نے امیدوار نظام الدین لہڑی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ جج جسٹس ہاشم کاکڑ پر مشتمل ایپلیٹ ٹریبونل نے نظام الدین لہڑی کو انتخابات کیلئے اہل قرار دیتے ہوئے ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ایپلیٹ ٹریبونل نے امیدوار کا نام فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے، نظام الدین لہڑی پی بی 12 نصیر آباد 2 سے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ہیں۔دوسری طرف الیکشن کمیشن نے 2018ء کے عام انتخابات کی انتخابی مہم کی مانیٹرنگ کیلئے ملک بھر میں 492 مانیٹرنگ ٹیمیں مقرر کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کیلئے 99، پنجاب کیلئے 297، سندھ کیلئے 130، بلوچستان کیلئے 51، فاٹا کیلئے 12 اور وفاقی دارالحکومت کیلئے 3 مانیٹرنگ ٹیمیں مقرر کی گئی ہیں جو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے چلائی جانے والی انتخابی مہمات کی نگرانی کریں گی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ مانیٹرنگ ٹیمیں امیدواروں سیاسی جماعتوں کی طرف سے چلائی جانے والی انتخابی مہم کا جائزہ لیں گی اور انتخابی قوانین اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی شکایات سے کمیشن کو آگاہ کریں گی۔

اپیلٹ ٹریبونل

لاہور(نامہ نگار)لاہور کی پولنگ سکیم پر اعتراضات دائر کرنے کا وقت ختم ہوگیا،لاہور کے مختلف حلقوں سے امیدواروں اور شہریوں کی جانب سے 66 اعتراضات فائل کئے گئے ہیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر /سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی ان اعتراضات کی باقاعدہ سماعت آج 21جون کوکریں گے ۔عام انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ ختم ہوتے ساتھ ہی پولنگ سکیم پر اعتراضات دائر کرنے کا وقت بھی ختم ہوگیاہے۔لاہور کی پولنگ سکیم پر 66 اعتراضات شہریوں اور امیدواروں کی جانب سے مختلف حلقوں سے دائر کئے گئے ہیں جن میں 7اعتراضات پی پی 136 سے فائل کئے گئے ہیں جبکہ حلقہ این اے 132 سے 10اعتراضات فائل ہوئے ہیں۔حلقہ این اے 132 سے سابق ایم این اے رانا مبشر سمیت 9 شہریوں نے پولنگ سٹیشنز کی منتقلی سے متعلق اعتراض دائر کئے ہیں،حلقہ این اے 127 سے 5اور پی پی 151 سے پی ٹی آئی کے امیدوارمیاں اسلم اقبال کی جانب سے ایک اعتراض فائل کیا گیاہے۔سابق ایم پی اے میاں اسلم اقبال نے اپنے حلقے کے تنگ جگہوں پر بنائے گئے پولنگ سٹیشوں پر اعتراض دائر کیاہے۔اسی طرح حلقہ این اے 123اور129 سمیت دیگر حلقوں سے بھی اعتراضات فائل کئے گئے ہیں۔ڈسٹرکٹ رٹیرننگ آفیسر لاہور عابد حسین قریشی شہریوں اور امیدواروں کی جانب سے دائر کئے گئے اعتراضات پر آج 21جون کو سماعت کریں گے۔دوسری طرف ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر،سیشن جج لاہور عابد حسین قریشی کی زیرصدارت لاہور کے تمام آر اوز کا اہم اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں پولنگ سکیم کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ رٹیرننگ آفیسر نے تمام آر اوز کو الیکشن کے اگلے مراحلے کے لئے تیاری مکمل کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات صاف شفاف کروانا اولین ترجیح ہے ،اس لئے الیکشن میں آر اوز سمیت تمام انتخابی عملہ اپنی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے سرانجام دے، اجلاس میں ریٹرنگ آفیسرز ایڈیشنل سیشن جج رائے آفتاب احمد، سینئر سول جج لاہور شکیب عمران، سید دالد شاہ، ایڈیشنل سیشن جج اختر بھنگو، ایڈیشنل سیشن جج غلام مرتضیٰ اوپل، ایڈیشنل سیشن جج مرزا شاہد بیگ، ایڈیشنل سیشن جج واجد منہاس سمیت دیگر آر اوز نے شرکت کی۔

مزید : صفحہ اول