جنگ بندی ختم، طالبان کے حملے ، بم دھماکہ ، 30افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک

جنگ بندی ختم، طالبان کے حملے ، بم دھماکہ ، 30افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اختتام کے بعد تازہ ترین حملوں میں 30 افغان سکیورٹی فو ر سز کے اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولاک میں پولیس چوکی کے نزدیک بم دھماکے میں 2عام شہری جاں بحق اور دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں نے صوبہ بادغیس میں دو فوجی اڈوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔صوبے کے گورنر عبد الغفور ملکزئی کے مطابق نصف سے زائد ہلاکتیں گھات لگاکر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر حملے اور سڑک کنارے بم حملے میں ہوئیں، دیگر فوجی اور پولیس اہلکار فوجی اڈوں پر حملوں کے دوران ہلاک ہو ئے۔صحافیوں کو بھیجے گئے ایک واٹس ایپ پیغام میں طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔صوبائی کونسل چیف عبد العزیز بیک نے ہلاکتو ں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا طالبان نے جنگ بندی کے دوران اپنے مخبروں کے ذریعے فوجی اڈوں کے حوالے سے معلومات اکٹھا کیں اور حملے کی تیاری کی۔صوبہ بادغیس کے گورنر کے ترجمان جمشید شہابی کے مطابق حملوں کے دوران 15 طالبان جنگجو ہلاک جبکہ 21 زخمی بھی ہوئے۔ افغانستان میں بم دھماکے کے نتیجے میں دو عام شہری جاں بحق جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغان صوبائی پولیس کے ترجمان داؤد احمدی نے بتایا کہ دھماکہ صوبہ قندھار کے ضلع سپین بولاک میں پولیس چوکی کے نزدیک ہوا جس کا نشانہ ایک سویلین گاڑی بنی ۔ حادثے کے نتیجے میں دو عام شہری جاں بحق جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔ زخمی پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر ہسپتال داخل کر دیا گیا ۔خیال رہے عید الفطر کے موقع پر طالبان اور حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے بعد عسکریت پسندوں کی جانب سے یہ پہلا حملہ ہے۔افغان حکومت نے عید کے بعد بھی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تاہم طالبان نے اسے مسترد کردیا۔

افغانستان ہلاکتیں

مزید : علاقائی