’مانو‘ کہنے پرفرانسیسی صدر نے نوجوان کو لیکچر دے دیا

’مانو‘ کہنے پرفرانسیسی صدر نے نوجوان کو لیکچر دے دیا

پیرس (این این آئی)فرانس میں میکرون نامی افراد کو ’مانْو‘ کہ کر بلاناعام بات ہے لیکن جب ایک نوجوان فرانسیسی نے صدر میکرون کو اس نام سے پکارا توانہوں نے اس بات پر ناخوش ہو کر اسے لیکچر دے دیا۔یہ واقعہ شمالی فرانس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش آیا،یہ تقریب دوسری عالمی جنگ کے دوران اس وقت کے فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال کی جانب سے ملکی عوام کو جرمن نازیوں کے خلاف تحریک شروع کرنے کے اعلان کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔تقریب میں شرکت کے دوران صدرمیکرون وہاں موجود نوجوانوں سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ اس دوران ایک نوجوان نے ایک معروف انقلابی گانے کے چند اشعار گانا شروع کیے اور صدر کو اپنی جانب متوجہ کیا تاہم اس کے فوراً بعد اس نے صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا، ’’کیسا چل رہا ہے مانْو۔میکرون نے اس لڑکے کو فوری طور پر ٹوکا جس کے بعد لڑکے نے میکرون سے معذرت بھی کر لی۔صدرمیکرون نے اپنا لیکچر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’تم یہاں ایک سرکاری تقریب میں شریک ہو، اس لیے تمہیں اس کے مطابق برتاؤ کرنا چاہیے۔

تم مجھے ’جناب صدر‘ یا ’سر‘ کہو گے۔‘‘بعد ازاں صدر میکرون نے لڑکے سے کی گئی اپنی گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کے بعد کمٹس کا ایک سیلاب امڈ آیا۔کچھ افراد نے میکرون کا فرانسیسی رہنما ہونے پر فخر کیا اور تعریف کی جبکہ کچھ افراد نے میکرون کے اس رویے پر انہیں مغرور قرار دیدیا۔

جس سے لائبیریاکی عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے خاص طور پر من جملہ دوسرے طریقوں سے روزگار کے قیام اور تربیتی مواقعے حاصل ہوں بات چیت کے دوران کلال ہوم فاؤنڈیشن کے ذریعے انسانی ہمدردی کے اقدامات کی حمایت کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

مزید : علاقائی